بیشتر مسلمان نزول قرآن کے مقصد سے غافل ہیں!
عبدالغفار صدیقی
قرآن اللہ کا کلام ہے۔تمام شکوک و شبہات سے پاک ہے۔اس کے کلام الٰہی ہونے پر مسلمان ہی نہیں غیر مسلم دانشور بھی یقین کرتے ہیں۔مسلمان قرآن کا احترام کرتے ہیں۔اس کو آنکھوں سے لگاتے ہیں۔اس کی بے ادبی بالکل برداشت نہیں کرتے۔کرنی بھی نہیں چاہئے۔وہ شخص مسلمان نہیں جو قرآن کی بے حرمتی ہوتا دیکھے اور خاموش رہے،اس کے دل میں کوئی ہلچل پیدا نہ ہو۔یہ الگ بات ہے کہ ایسے مواقع پرپہلے مرحلہ پرانتقام کے بجائے بے ادبی کرنے والوں کو حکمت کے ساتھ سمجھانے کی ضرورت ہے۔مسلمانوں کی یہ بھی خوبی ہے کہ انھوں نے دیگر اقوام کی طرح اپنی کتاب کو بھلایا نہیں ہے۔بلکہ وہ اسے پڑھتے ہیں۔حفظ کرتے ہیں۔پڑھنے میں مقابلہ آرائی کرتے ہیں یعنی قرآت قرآن کے مقابلے منعقد کرتے ہیں۔یہ مقابلے مقامی سطح سے لے کر بین الاقوامی سطح تک منعقد کیے جاتے ہیں۔بعض ادارے بڑی تعداد میں قرآن تقسیم کرتے ہیں۔کوئی مرجائے تو قرآن پڑھا جاتا ہے۔کسی دوکان یا مکان کا افتتاح ہوتا ہے تو قرآن پڑھاجاتا ہے۔قرآن مجید میں کونسا حرف کتنی بار استعمال ہوا ہے؟ اللہ کا لفظ کتنی بار آیا ہے؟کتنے انبیاء کا تذکرہ ہے؟ وغیرہ وغیرہ سوالوں پر بھی مسلمانوں نے کام کیا ہے۔مسلمانوں کے یہ اعمال خیر اور نیکی پر منحصر ہیں۔یہ ان کے ایمان کا تقاضا ہے۔لیکن یہ کافی نہیں ہیں۔نزول قرآن کا مقصد کچھ اور ہے۔ یہ امر نہایت قابل افسوس ہے کہ بیشتر مسلمان نزول قرآن کے مقصد کو فراموش کرچکے ہیں۔یہ معاملہ صرف عام مسلمانوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ علماء اور واعظین بھی اس جانب نہ خود توجہ فرماتے ہیں اور نہ عوام کو متوجہ کرتے ہیں۔اس کا نقصان یہ ہوا کہ مسلمان قرآن کے اصل مقصد سے غافل ہوگئے۔
امت مسلمہ میں قرآن کے پڑھنے اور پڑھانے کا جس قدر رواج ہے،وہ قابل دید ہے۔مگر قابل افسوس پہلو یہ ہے کہ قرآن کو سمجھنے،اس میں غوروفکر کرنے،اس پر عمل کرنے پر توجہ صفر کے برابر ہے۔رمضان المبارک میں قرآن کی تلاوت کی کثرت ہے۔بہت سے لوگ کئی کئی بار قرآن مکمل کرتے ہیں۔اس لیے کہ انھیں بزرگان دین کے تعلق سے ایسے ہی قصے سنائے جاتے ہیں۔کہاجاتا ہے کہ حضرت امام ابوحنیفہ ؒ پورے رمضان میں 63 قرآن مکمل کرتے تھے۔ ایک دن میں،ایک رات میں اور ایک تیس دن کی تراویح میں۔حالانکہ یہ بات ناممکنات میں شامل ہے۔ایک پارہ پڑھنے میں بیس منٹ لگتے ہیں،اس طرح تیس پاروں کی تلاوت کے لیے 600 منٹ یعنی دس گھنٹے درکار ہوں گے۔ایک دن رات میں دو قرآن پڑھنے کے لیے 20 گھنٹے چاہئیں۔ بیس رکعات تراویح میں بھی ڈیڑھ گھنٹہ لگے گا۔ باقی پانچ نمازوں کے لیے دو سے ڈھائی گھنٹے درکار ہیں۔اس طرح آپ حساب لگائیں گے تو 24 گھنٹے پورے ہوجاتے ہیں۔اب خوردو نوش اور آرام و استراحت کرنے کے لیے وقت کہاں سے آئے گا۔مجھے یہ بھی یقین ہے کہ حضرت امام صاحب کے زمانے میں بھی دن اور رات میں 24 گھنٹے ہی ہوتے ہوں گے۔دنیا کے سب سے بڑے فقیہ اور عالم دین کے تعلق سے بے سر پیر کی باتیں کرنا اور ان کی نسبت سے جھوٹ بولنے سے آخر کس کا بھلا ہونے والا ہے؟اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ سادہ لوح مسلمان احساس کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں اور جیسا کہ میں نے عرض کیا وہ سمجھنے کی طرف قطعاً توجہ نہیں کرتے۔
قرآن مجید کی بعض سورتوں اور آیات کے تعلق سے بھی بے بنیاد باتیں مسلمانوں کو سنائی اور سکھائی جاتی ہیں۔کوئی تعویذ بناکر گلے میں ٹانگتا ہے۔ کوئی پانی پر پڑھ کر دم کرتا ہے۔کوئی دوکان و مکان میں خیر و برکت کے لیے نقش بناتا ہے اور چھاپ کر تقسیم کرتا ہے۔ہمارے علاقہ کے کہ ایک ولی کامل کے یہاں سے بھی طبع شدہ نقش تقسیم کیے جاتے ہیں۔ان امور کے لیے مجھے ذخیرہ احادیث یا سیرت رسول میں کوئی دلیل نہیں مل سکی۔حفظ قرآن بہت مبارک عمل ہے۔ہمیں زیادہ سے زیادہ قرآن کو زبانی یاد کرنا چاہئیے۔لیکن کیا صرف اس کو حفظ کرنے سے ہی نجات ہو جائے گی۔حافظ قرآن کی فضیلت میں جو احادیث وارد ہوئی ہیں،کیاان کا ماحصل یہی ہے کہ ہمارے بچے صرف حافظ قرآن ہو جائیں، نہ اس کو سمجھیں اور نہ اس پر عمل کریں؟آپ فرمائیں گے کہ سمجھنے اور عمل کرنے سے کس نے روکا ہے؟میں کہتا ہوں کہ آپ نے روکا ہے،اس لیے کہ جس طرح آپ نے حفظ قرآن کے ادارے قائم کر رکھے ہیں، قرآن فہمی کے ادارے نہیں بنائے ہیں۔ پورے شہر میں ایک بھی ایسا مرکز نہیں جہاں قرآن سمجھ کر پڑھایا جاتا ہو۔کیا ایک حافظ بے عمل بھی جنت کا مستحق ہے؟کیا اس کے بد عمل والدین کو بھی اللہ سونے کا تاج پہنائے گا؟ کیا اس کی سات پشتیں بغیر عمل صالح بخش دی جائیں گی؟اگر ایسا ہے تو پھر کسی عبادتوں کے تکلف کی ضرورت کیا ہے؟پھر اللہ نامہ اعمال کیوں مرتب کروارہے ہیں؟کس لیے حشر قائم ہوگا؟یوں تو حدیث میں یہ بھی کہا گیا ہے:۔ ”یاایھاالناس! قولوا لاالٰہ الا اللہ تفلحوا۔ (احمد)اے لوگو! لاالٰہ الااللہ کہو فلاح پا جاؤ گے۔“ اگر اس حدیث میں دو بول بول کر جنت کی بشارت ہے تو جناب ابو طالب اور حضور اکرم ﷺ کی قوم کو یہ الفاظ پڑھنے میں کیا تردد تھا؟ اللہ کو معبود ماننے کے تقاضے کیا ہیں؟ اس اقرار سے کس کس کی خدائی کا انکار ہوتا ہے؟ اس کی خواندگی عمل میں کونسا انقلاب پیدا کرتی ہے؟ ایک شخص اس کلمہ کی بدولت کس طرح جنت کا حقدار قرار پاتا ہے؟ اگر یہ جاننا ہے تو صحابہ اکرام ؓ کی پاک زندگیوں کا مطالعہ کیجیے۔یہ وہ کلمہ ہے جو اپنوں کو بھی جان کا دشمن بنادیتا ہے اور ہر گام پر بدر و احد کے معرکے پیدا کرتا ہے۔
قرآن کو سمجھ کر پڑھنا تو دور اس کی ضرورت کا احساس بھی موجود نہیں ہے۔دوسرے الفاظ میں ہمیں یہ معلوم ہی نہیں ہے کہ قرآن کو نہ سمجھ کر ہم کس نقصان عظیم کو اپنے گلے لگا رہے ہیں؟ یعنی احساس زیاں بھی مفقود ہے۔ اس کے بجائے جو چند لوگ سمجھنے کی بات کرتے ہیں انھیں گمراہ تصور کیا جاتا ہے۔ بزرگان دین کی انتھک محنت سے کیے گئے تراجم پر شکوک و شبہات قائم کرکے امت کو ان سے بد ظن و بدگمان کیاجاتا ہے۔ ذرا مجھے بتائیے ہمارے ملک میں وہ کونسا مسلک ہے جس کے کسی نہ کسی بزرگ نے قرآن کا ترجمہ نہ کیا ہو؟ اور کون سے بزرگ ہیں جنھوں نے قرآن کو سمجھ کر پڑھنے سے روکا ہو؟ اگر ہر مسلک کے بانی یا مبلغ نے قرآن کا ترجمہ آپ کی زبان میں کیا ہے تو وہ کس لیے اور کس کے لیے کیا گیا ہے اور اگر کسی مستند عالم دین نے آپ کو ترجمہ پڑھنے سے نہیں روکا ہے تو پھر ترجمہ پڑھنے سے آپ کس نے روکا ہے اور قرآن سمجھنے میں کیا چیز مانع ہے؟ آپ سائنس و حکمت کی ضخیم کتابیں سمجھ سکتے ہیں،آپ ریاضی کے مشکل سوالات حل کرسکتے ہیں،آپ امام غزالی کا فلسفہ اور غالب کے اشعار کا فہم و ادارک حاصل کرسکتے ہیں،لیکن اللہ کی کتاب کو سمجھنے سے آپ کی عقلیں قاصر ہیں، جب کہ اللہ خود اس بات پر گواہی دیتا ہے کہ:۔”وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ (القمر۔17) ہم نے اِس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان بنا دیا ہے، پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟“۔وہ اس کی آیات کو ”بینات“ (واضح اور روشن) اور کتاب کو ”فرقان“ (حق اور باطل میں فرق کرنے والی) قرار دیتا ہے۔
حیرت ہوتی ہے کہ آپ کو قرآن میں جسمانی بیماریوں کے علاج کے لیے اوراد و ظائف ملتے ہیں، لیکن روحانی بیماریوں کے لیے کوئی نسخہ میسر نہیں آتا۔آپ اس میں جن بھوت اور پریت سے حفاظت کے لیے آیات تلاش کرلیتے ہیں لیکن آپسی معاملات، تجارت اور صلح و صفائی کے لیے کوئی ایک لفظ نہیں ملتا،آپ اس کے ذریعہ باطل کی اطاعت اور نفس کی پرستش کے لیے جواز ڈھونڈھ لیتے ہیں لیکن حاکمیت الٰہ اور اقامت دین کے لیے کوئی اشارہ بھی نہیں ملتا۔آپ اس کی تلاوت کرکے اپنے مردوں کو بخشوانے کا اہتمام کرتے ہیں مگر اپنے زندوں کی کامیابی کی کوئی فکر نہیں کرتے۔آپ کو ذخیرہ قرآن و حدیث میں عرس، نیاز، درود و فاتحہ خوانی اور محفل قرآت کے انعقاد کے لیے وافر دلائل ملتے ہیں مگر اس کو سمجھنے،اس پر غور و فکر کرنے کے لیے کوئی ایک آیت نہیں ملتی۔آپ کس بنیاد پر تراویح میں اس کا مذاق بناتے ہیں۔آپ کا امام جب نماز عشاء کی تلاوت کرتا ہے تو نہایت آرام و سکون سے قرآن پڑھتا ہے اور وہی امام جب تراویح میں قرآن پڑھتا ہے تو اس پر ہسٹریا کا دورہ پڑجاتا ہے، کیا شریعت میں آپ اس کی کوئی دلیل پاتے ہیں؟ اگر آپ کے پاس کوئی دلیل ہے تو مجھے بھی مطلع فرما دیجیے، اگر نہیں ہے تو پھر کس کی رضا کے لیے ایسا کرتے ہیں، کیا آپ نے عوام الناس کو اپنا رب بنالیا ہے جو ان کی خوشی کا خیال اللہ کی اطاعت سے زیادہ رکھتے ہیں۔ آپ صحابہ کرام ؓ کی کامیابی کے گن گاتے ہیں۔ انھیں اپنا آئیڈیل سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی تعریف و تحسین فرمائی ہے، ان کے حق میں اپنی رضا کا اعلان فرمایا ہے، رسول اکرم ؐ نے ان کو جنت کی بشارت دی ہے۔ میرا یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو جنت میں جگہ عطا فرمائے گا۔ مجھے بتائیے کہ وہ کون سی کتاب پڑھتے تھے؟ کیا ان کے پاس بخاری و مسلم تھی؟ کیا ان کے پاس ہدایہ اور در مختار تھی؟ کیا ان کے پاس فضائل اعمال اور منتخب احادیث تھی؟ کیا ان کے پاس بہار شریعت اور بہشتی زیور تھی؟ ظاہر ہے آپ اس کے جواب میں یہی فرمائیں گے کہ نہیں ان میں سے کوئی کتاب ان کے پاس نہیں تھی۔ اس لیے کہ دور صحابہ میں نہ ان کتابوں کا وجود تھا نہ ان کے مصنفین و مرتبین کا۔ میں ان کتابوں کے مطالعہ سے آپ کو نہیں روکتا، مگر میں آپ کی توجہ اس جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ صحابہ کرام ؓ جس کتاب کو پڑھ کر انقلاب لائے، جس کتاب پر عمل نے ان کے اندر اللہ کے راستے میں مرمٹنے کا جذبہ پیدا کیا، جس کتاب کو لے کر وہ دنیا پر غالب آگئے، وہ قرآن مجید ہی تھی۔ آپ پہلے قرآن کو سمجھ کر پڑھیں، اس پر غور و فکر کریں، اس کو سمجھنے کے لیے رسول اکرم ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کریں، اس کی عملی شہادت کے لیے اسوہ اصحاب رسول ؐ کی زندگیوں میں جھانکیں۔ مگر یہ طور تو کسی طرح جائز اور مناسب نہیں کہ قرآن سمجھنے پر تو قدغن لگائیں اور اس کے مقابلہ پر دوسری کتابوں کو ترجیح دیں۔ یہ تو اللہ کی کتاب کا انکار ہے اور اس کی توہین ہے۔ اسی بات کی طرف قرآن میں یہ بات ارشاد فرمائی گئی کہ حشر کے دن بقول خدا پیارے نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ فرمائیں گے:۔وَ قَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا ہٰذَا الْقُرْاٰنَ مَہْجُوْرًا(الفرقان۔30) اور رسول ؐ فرمائیں گے کہ ”اے میرے رب، میری قوم کے لوگوں نے اس قرآن کو نشانہ تضحیک بنا لیا تھا(یا چھوڑ دیا تھا)”۔ اس آیت میں رسول ؐ اپنی کس قوم کی شکایت فرمائیں گے؟کیا یہود و نصاریٰ کی یا مشرکین ہند کی۔ تمام مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ آیت ان اہل ایمان سے متعلق ہے جو قرآن کو سمجھ کر نہیں پڑھتے، اس کے بجائے دوسری کتابوں کو اہمیت دیتے ہیں۔اس میں نشانہ تضحیک کا مفہوم یہی ہے کہ قرآن کو اس طرح نہ پڑھا جائے جس طرح رسول ؐ کا حکم ہے اور اس کی آیات پر غور و فکر کرکے اس پر عمل نہ کیا جائے۔ ورنہ مجھے بتائیے کہ کون سا مسلمان ایسا ہے جو قرآن کا مذاق بناتا ہے، اس پر ہنسی ٹھٹھے لگاتا ہے۔ میری علمائے کرام سے گزارش ہے کہ وہ قرآن کو خود بھی سمجھ کر پڑھیں اور عوام کو بھی اس کو سمجھنے کی ترغیب دیں، نیز حفظ و تجوید کے ساتھ ساتھ تفہیم و تذکیر کے مراکز بھی قائم کریں۔ یہ امت جب تک قرآن کو اس کے اصل مقام پر نہیں رکھے گی یوں ہی رسوا اور ذلیل ہوتی رہے گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی کتاب کو سمجھ کر پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔

