وصی اللہ مدنی
___________
رمضان المبارک کے آخری عشرہ کے طاق راتوں میں ایک رات کو "ليلة القدر” کہا جاتا ہے۔ اس کی عبادت ہزار مہینوں یعنی تراسی سال چار مہینوں کی عبادت سے افضل ہے۔
شب قدر کے لیے کوئی مخصوص عمل یا عبادت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے، مگر یہ رات نماز، تلاوت قرآن، ذکر و اذکار اور توبہ استغفار میں گزارنی چاہیے۔
کثرت سے گناہوں کی بخشش طلب کرنی چاہیے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی اس دعا کا خصوصاً ورد کرنا چاہیے۔
"اللَّهُمَّ! إِنَّكَ عُفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي” (صحیح/سنن ترمذی)
اےاللہ! تو معاف کرنے والا ہے، تو معافی کو پسند کرتا ہے، اس لیے مجھے معاف کردے۔
سنن ترمذی کے بعض نسخوں اور دیگر کتابوں میں اس دعا میں لفظ "كريم” کا اضافہ ہے، جو حدیث کا حصہ نہیں ہے۔
چناں چہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب سلسلة الأحاديث الصحيحة میں اس اضافے کے متعلق تنبیہ کرتے ہوئے کہا:
"سنن ترمذی میں”عفو” کے بعد "کریم” کا اضافہ ہے۔ پہلے بیان شدہ مصادر میں کہیں بھی اس کا ذکر نہیں ہے اور نہ ان مصادر سے روایات لینے والی کتابوں میں اس اضافے کا ذکر ہے، تو اس سے معلوم یہی ہوتا ہے کہ یہ قلمی نسخے لکھنے والے کاتب یا ناشر کی غلطی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ اضافہ سنن ترمذی کے ہندوستانی نسخے جس پر مبارک پوری رحمہ اللہ کی شرح تحفة الأحوذي ہے (4/264) اس میں بھی نہیں ہے اور نہ ہی کسی اور کتاب میں اس کا ذکر ہے۔
اس بات کی تائید اس چیز سے بھی ہوتی ہے کہ امام نسائی نے اس روایت کو امام ترمذی والی سند سے بھی ذکر کیا ہے اس سند میں دونوں اپنے استاد قتیبہ بن سعید سے بیان کرتے ہیں اور پھر نسائی میں یہ اضافہ موجود نہیں ہے۔
اس دعا میں مذکورہ اضافہ ہمارے فاضل بھائی علی حلبی کے رسالے میں 202 نمبر پر بھی ہے جو کہ "مهذب عمل اليوم والليلة لابن السني” کے نام سے موسوم ہے، حالاں کہ یہ اضافہ ابن سنی کی کتاب میں بھی نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ابن سنی اپنے استاد نسائی سے بیان کرتے ہیں اور پہلے گزرا ہے کہ امام نسائی قتیبہ سے بیان کرتے ہیں، بیان کرنے کے بعد علی حلبی نے ترمذی وغیرہ کا بھی حوالہ دیا ہے، حالاں کہ فن تخریج کے مطابق ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس اضافے کو [۔۔۔] اس طرح کی بریکٹ میں لکھا جاتا اور پھر کہا جاتا کہ یہ صرف ترمذی میں موجود ہے، جب کہ تحقیق کا مطلب اور تقاضا یہ ہے کہ اسے ذکر ہی نہ کیا جائے اور اگر بیان کرنا بھی ہے تو یہ بتلانے کے لیے کہ اس اضافے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔” انتہی
"سلسلة الأحاديث الصحيحة” (13/ 140)
کچھ تحقیق کاروں نے سلسلہ صحیحہ میں البانی رحمہ اللہ کی اس گفتگو کو دیکھ کر یہ سمجھ لیا کہ البانی رحمہ اللہ کی جانب سے صحیح ترمذی میں ذکر کردہ تصحیح سے رجوع ہے۔
بہ ہر حال اسے رجوع سمجھیں یا پہلے فیصلے سے الگ اور مستقل تحقیق گردانیں، البانی رحمہ اللہ نے حق بات کہہ دی اور رونما ہونے والی غلطی کا تدارک کر لیا۔
اور ہو سکتا ہے کہ یہ اضافہ لوگوں کی زبان زد عام اس لیے ہوا کہ احادیث کی کچھ کتابوں میں یہ اضافہ مذکور ہے، لیکن ان میں یہ اضافہ حدیث کا حصہ نہیں ہے، مطلب یہ ہے کہ جن علمائے کرام نے یہ اضافہ ذکر کیا ہے اس کی وجہ یہ تھی کہ کچھ نسخوں میں”کریم” کا اضافہ موجود ہے، جیسے کہ مسند احمد کے محققین [مؤسسہ رسالہ] (42/ 236) میں کہتے ہیں: "نسخہ (ق) میں (عفوٌّ كريم) ہے”انتہی
(ق) سے قلمی نسخہ ہے، اس کی تفصیل کے لیے آپ مسند احمد کی تحقیق کا مقدمہ دیکھیں: (1/104)
یہی اضافہ مکنز الاسلامی کے طبعہ میں بھی موجود ہے، دیکھیں: (11/6118) حدیث نمبر: (26021) س کے محققین کہتے ہیں: نسخہ (ق) میں عفو کریم ہے، جب کہ متن میں مذکور الفاظ دیگر نسخوں میں موجود ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اس اضافے کو بہت سے علمائے کرام نے اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے: جیسے کہ ابن اثیر "جامع الأصول” (4/324) میں، عمرانی "البيان في المذهب الشافعي” (3/568) میں، خازن "لباب التأويل في معاني التنزيل” (4/ 452) میں، ابن قیم "بدائع الفوائد”(2/ 143) میں، خطیب شربینی "الإقناع في حل ألفاظ أبي شجاع” (1/ 247) میں، امیر صنعانی "التحبير لإيضاح معاني التيسير” (4/ 268) میں اور طحطاوی "حاشية على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح” (ص: 401) میں ذکر کیا ہے۔
ان سب مؤلفین نے "کریم” کا اضافہ بغیر سند کے ذکر کیا ہے اور کچھ نے اس کی نسبت سنن ترمذی کی جانب کی ہے اور یہ بھی اس وقت ہے جب ان کتابوں کے قلمی نسخے تیار کرتے وقت دقت نظر سے کام لیا گیا ہو۔
لیکن آج ہمیں اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ اضافہ حدیث کا حصہ نہیں ہے، کیوں کہ حدیث کی دسیوں مسند کتابیں اس اضافے کو ذکر نہیں کرتیں، ہم نے سنن ترمذی کے متعدد قلمی نسخوں پر تحقیق کے بعد منظر عام پر آنے والے طبع شدہ نسخے بھی دیکھے ہیں۔ ان میں سے کسی میں بھی اس اضافے کا ذکر نہیں ہے، مثلاً: ہم نے بشار عواد کی تحقیق سے چھپنے والا نسخہ دیکھا جس کے (5/490) میں یہ حدیث بغیر اضافے کے مذکور ہے، اسی طرح شعیب ارناؤط کی تحقیق سے شائع ہونے والا نسخہ بھی اس اضافے کے بغیر ہے، اس نسخے میں یہ حدیث (6/119) پر موجود ہے۔ واللہ اعلم بالصواب”
(ماخوذ:اسلام سوال وجواب)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ
(1) "عفو” کے بعد لفظ "كريم” کا اضافہ سنت سے ثابت نہیں ہے اور جن مؤلفین نے اپنی کتابوں میں” كريم” کااضافہ کیا ہے، انھوں نے بغیر سند کے ذکر کیا ہے۔
(2) شیخ البانی کی صحيح ترمذی (3513) میں لفظ "کریم” ہے جسے سہو پر محمول کیاجائے گا۔
