اس وقت میں ایک مظلوم بادشاہ کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو تلوار کا دھنی، عدل و انصاف کا خوگر، غمخوار و ہمدرد، رشی منیوں، صوفیاء و اتقیاء اور علمائے کرام کا قدرداں، فقیرانہ زندگی کا عادی، ذاتی ضروریات کیلئے خزانہ شاہی سے راتب نہ لینے والا، اپنے ہاتھ کے ہنر سے زندگی بسر کرنے والا تھا۔
اس کے زمانہ کا ایک عجیب و غریب مشہور واقعہ ہے کہ بنارس میں ابراہیم نام کا ایک شخص ابھی چند دنوں پہلے کوتوال مقرر ہوکر آیا تھا، جو جابر و ظالم تھا، اس کے ظلم و ستم کے قصے مشہور ہو چکے تھے، کوئی شخص اس کے خلاف لب کشائی کی جرات نہیں کر سکتا تھا، یہ کوتوال جہاں طاقت و قوت اور ظلم و ستم میں مشہور تھا وہیں حسن پرست تھا ، بنارس کی حسین دو شیزائوں کا اس سے بچنا محال تھا، ایک پنڈت رام لال تھے جو صاحب ثروت و جاگیر تھے جنکے دربار میں روزانہ مہمانوں کی بھیڑ لگی رہتی تھی اور بنارس کی تہذیب کے مطابق ضیافت میں مشہور تھے، ان کی ایک لڑکی بہت ہی حسین و جمیل تھی جو بلوغت کے دہلیز پر قدم رکھ چکی تھی، اس کے حسن و جمال کا عالم یہ تھا کہ صبح بنارس کے مطابق یہ لڑکی جب غسل کر کے واپس آتی تو لوگ اس کے حسن و جمال کے دیدار کیلئے منتظر رہتے تھے، اس کے حسن و جمال کا تذکرہ کوتوال تک پہنچ گیا، کوتوال اس کو حاصل کرنے کیلئے مختلف تدبیریں کرنے لگا بالآخر اس کے والد پنڈت رام لال کو اس نے وارننگ دیا کہ ایک ماہ کے اندر اپنی لڑکی کا ڈولامیرے دربار میں بھیجدو، یہ پیغام ملتے ہی گھر میں کہرام مچ گیا۔ آہ و بکا، گریہ زاری سے پورا گھر ماتم کدہ بن گیا، لڑکی بھی کافی فکرمند ہوئی مگر خلاق عالم نے جس طرح اس لڑکی کو بے مثال حسن و جمال سے نوازا تھا وہیں عقل و فراست کا بھی وافر حصہ عطا کیا تھا، اس سے بچنے کی ساری تدبیریں ناکام ہوچکی تھیں اور سوائے وقت مقرر پر ڈولا روانہ کرنے کی کوئی شکل نہیں تھی، اس نے اپنے والد سے کہا کہ آپ لوگ ایک ماہ مجھے بھول جائیے میں ایک نامعلوم سفر پر روانہ ہونا چاہتی ہوں، کوتوال نے جو تاریخ مقرر کی ہے اس سے پہلے میں پہنچ جاؤں گی، بس میرے لئے آپ مغل شہزادوں کا ایک جوڑا خرید لائیں جوپٹکا اور تلوار سے آراستہ ہو، اپنے خواب گاہ میں چلی گئی اور صبح صادق کے وقت سرائے سے تیز رفتار گھوڑا لیا اور پایہ تخت دہلی کو روانہ ہو گئی، کیونکہ اس وقت جو وہاں کا بادشاہ تھا اس کا عدل و انصاف ضرب المثل تھا۔ اسی امید میں یہ دوشیزہ روانہ ہوئی جب وہاں پہنچی تو حسن اتفاق جمعہ کا دن تھا، بادشاہ سلامت جمعہ کی نماز کیلئے شاہی مسجد تشریف لائے جہاں شاہی مسجد کی سیڑھیوں پر فریادیوں کی لائن لگی ہوئی تھی، چنانچہ نماز بعد یہ بناوٹی شہزادہ بھی  اپنی درخواست لیکرنچلی سیڑھی پر کھڑا ہو گیا، بادشاہ فریادیوں کی درخواستیں وصول کر فوری حکمنامہ جاری کر رہاتھا، اس نے جب اپنی درخواست بڑھائی تو بادشاہ نے اس کے چہرہ کی طرف دیکھ کر فوراََ نظریں نیچی کر لی، کیونکہ بادشاہ نے بھانپ لیا کہ یہ لڑکا نہیں لڑکی ہے اور حکم دیا کہ اس کو دربار میں حاضر کیا جائے، چنانچہ دربار لگا ہواہے بادشاہ سلامت تخت شاہی پر جلوہ افروز ہیں۔ اس شخص کو جیسے ہی پیش کیا گیا، بادشاہ نے اپنی چادر اس کی طرف پھینک دیا اور کہا کہ اس سے پردہ کر لو ہمارے مذہب میں نظر کی حفاظت کا حکم ہے، چنانچہ دربار شاہی سے حکم ہوا کہ اپنی داستان سنائو، جیسے ہی اس نے کہنا شروع کیا بادشاہ کا چہرہ جہاں متغیر ہوگیا وہیں فکرمند بھی۔ بادشاہ نے کہا بیٹی! گھبراؤ نہیں، تم کو انصاف ملے گا، تم لوٹ جاؤ اورجس تاریخ پراس نے  ڈولا مانگا ہے اس کو جانے دو، مگر یہ بادشاہ کا مقصد سمجھ نہیں سکا اور مایوس ہو کر گھر لوٹ آیا، اپنے والدین کو سارا واقعہ سنایا۔ سب لوگ مایوس ہوگئے، مگر اس لڑکی کو بادشاہ کا  بار بار فرمانا کہ ـ بیٹی! تم کو انصاف ملے گا۔ اس کو ڈھارس بندھایا اور مقررہ تاریخ پر ڈولا سج کر کوتوال کے دربار کیلئے روانہ ہو گیا، کوتوال نے خوشی میں بخشش و انعام کی بارش شروع کردی، فقیروں کی ایک لمبی قطار لگی ہوئی تھی جس پر انعام و اکرام کی بارش، درہم و دینار کا ڈھیر نچھاور کر رہا تھا۔ اس صف میں یہ بادشاہ بھی فقیروں کے لباس میں کھڑا تھا جب اس کا نمبر آیا تو کوتوال نے کہا دیکھتے نہیں ہو پیسے پڑے ہوئے ہیں ان کو اٹھا لو تو اس نے کہا: میں آپ کے ہاتھ سے بخشش لینا چاہتا ہوں جیسے ہی کوتوال نے اسے دینے کیلئے ہاتھ بڑھایا بادشاہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور ایک زوردار طمانچہ مارا، کوتوال زمین پر ڈھیر ہوگیا اور کہا کہ اوپر سے فقیر اور اندر سے بادشاہ اورنگ زیب،  بادشاہ نے اسے سخت پھٹکار لگائی کہ ہم نے تم کو عزت و آبرو کا محافظ بنا کر بھیجا تھا، اسلام تو ایسا مذہب ہے کہ بلا تفریق مذہب و ملت  اپنی رعایا کی عزت و آبرو کا ضامن ہے، عدل و انصاف سب کیلئے برابر ہے جب تک فوج کی ٹکڑی بھی پہنچ گئی اور بادشاہ نے اس ظالم شخص کو اس کے حوالہ کیا جس نے اس کو کیفر کردار تک پہنچا دیا۔
پھر بادشاہ پنڈت رام لال کے گھر آیا اور شکنتلا سے مخاطب ہوا، بیٹی! مجھے سخت پیاس لگی ہے جس دن تم نے مجھ کو فریاد سنائی اس دن سے میں نے پانی نہیں پیا، میں نے عہد کر لیا تھا کہ جب تک تم کو انصاف نہ دلادوں گا میں پانی کا ایک قطرہ حلق سے نہیں اتاروںگا، پھر بادشاہ نے گھر کے اندر ایک چبوترہ پر نماز ادا کی اور کھانا بھی نوش فرمایا، اس عدل و انصاف کو دیکھ کر پنڈت رام لال بہت خوش ہوا اور یادگار کے طور پر اس جگہ پر مسجد بنوادی، جس کو بادشاہ نے جاگیر دی اور عہد نامہ لکھ کر دیا کہ اس مسجد کا متولی پنڈت جی کے خاندان کا فرد ہوگا، یہ مظلوم بادشاہ  تاریخ کا درخشاںستارہ، عدل و انصاف کا پیکر محی الدین محمد اورنگزیب عالمگیرہیں، آج ہمارے ملک کا ایک طبقہ اس انصاف پسند بادشاہ کو ظالم و جابر گردانتا ہے جو تاریخ و حقیقت سے پرے ہے، اللہ تعالیٰ ان عقل سے پیدل اندھوں کو عقل سلیم عطا فرمائے۔

احمد کمال عبدالرحمان ندوی

نائب صدر مسلم پولیٹیکل کونسل آف انڈیا 
فاروق نگر ۔ کسیا  کشی نگر۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے