مسجددارالعلوم ندوۃ العلماء میں عید الفطر کی نماز بڑےتزک و احتشام سے ادا کی گئی
لکھنؤ۔شہر تہذیب و ثقافت کی قدیم تاریخی مسجد ندوۃالعلماء میں عید الفطر کی نماز امام و خطیب مولانا ڈاکٹر محمد فرمان ندوی کی امامت میں ادا کی گئی۔نمازیوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ پورا کیمپس بھرا ہوا تھا،امام وخطیب نےاپنے عربی خطبہ میں نمازیوں کو عید کی مبارکباد پیش کی اور کہا کہ عید الفطر رمضان کے روزوں کا تحفہ اور انعام ہے،دنیا کی تمام قوموں میں عید و تہوار کا تصور رہا ہے،لیکن اسلام میں عید کی شان نرالی ہے ۔ اس میں دو تہوار ہیں:’’عید الفطر اورعیدالاضحی‘‘عید کا ربانی مفہوم دوگانہ نماز سے ظاہر ہوتا ہے، عید کا انسانی مفہوم صدقہ فطر کی ادائیگی سے نمایاں ہے ،اور عید کا معاشرتی مفہوم آپسی ملاقاتوں، گلے اور شکوے بھول جانے،معانقہ کرنے سے نمایاں ہے۔

نماز سے پہلے خطاب میں دارالعلوم کے استاد حدیث مولانا محمد خالد ندوی غازی پوری نے کہا رمضان ایمان جیسی عظیم نعمت کو مضبوط کرنے آتا ہے،ایمان ایسی قیمتی نعمت ہے کہ اگر دنیا اور اس کے برابر سونا بھی پیش کیا جائے تب بھی اس کا حق ادا نہیں ہوگا، مولانا نے کہا کہ نیکی کرنا اور اس پر جمنا دنیاوآخرت میں کامیابی کی علامت ہے،صحابئی رسول حضرت عبداللہ بن حذافہ کے ایمان کو خریدنے کے لئے بڑی بڑی پیشکش کی گئی،لیکن انہوں نے ایمان پر استقامت اختیار کی.استقامت اختیار کرنے آسمان سے فرشتے اترتے ہیں اور دنیا میں جنت کی بشارت سنائی جاتی ہے۔
