ان دنوں وقف ترمیمی بل کو لے کر ہندوستان کی ملی تنظیموں کے سربراہان،اپنی پارٹی کو سیکولر پارٹی کہلوانے والے نتیش کمار،چراغ پاسوان اور چندر بابو نائیڈو پر سخت برہم ہیں۔
جمعیت علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی صاحب سیکولر پارٹیوں کے خلاف سخت ترین فیصلہ لیتے ہوئے کہا کہ : نتیش کمار، چندر بابو نائیڈو اور چراغ پاسوان کے افطار دعوت کا مکمل بائیکاٹ کرے مسلمان؛ کیوں کہ یہ صرف اپنے مفادات کے لیے اپنے آپ کو سیکولر کہتے اور کہلواتے ہیں؛ مگر حقیقت میں یہ سیکولر نہیں ہیں اور انھیں مسلمانوں کے مسائل سے کوئی سروکار بھی نہیں ہے۔
مسلمانوں کا موجودہ سب سے بڑا مسئلہ ‘وقف ترمیمی بل’ کا ہے۔ یہ لوگ بھی وقف ترمیمی بل کی مخالفت میں نہیں، بلکہ حمایت میں ہیں۔
مولانا ارشد مدنی صاحب کے افطار پارٹی بائیکاٹ کے فرمان سے ان کی نیندیں اڑ گئی ہیں ،ان کی عقلیں اب ٹھکانے میں آنے لگی ہیں، انھیں اب یہ سمجھ میں آنے لگا ہے کہ مسلمانوں کو بیوقوف بنانا اب اتنا آسان نہیں ہے، جتنا کہ پہلے تھا۔ میرے خیال سے اگر ہندوستان کی ملی تنظیمیں افطار دعوت بائیکاٹ کی طرح آئندہ بھی گاہے بگاہے منافقین سیاسی جماعتوں کے خلاف سخت ایکشن لیتی رہیں، تو پھر کسی بھی حکومت کے لیے مسلمانوں کے خلاف فیصلہ لینا اتنا آسان نہیں ہوگا،جتنا کہ آج ہے۔
