ابو مصعب عادل ندوی ،چکھلی ،پونے

بچپن میں مسجد کے اطراف کے ہر گھر سے افطاری کا کچھ نہ کچھ سامان ضرور آتا تھا۔آج صورتحال یہ ہے کہ محلے کے دوکانداربھی خالی ہاتھ آتے ہیں۔گھروں سے افطاری آنا بند ہوگئی ہے ۔اُس دور میں مسجد کے باہر کھڑے بچوںاور غریبوں میں افطاری میں چنے کی گھن گھنی بانٹی جاتی تھی مگر آج کچھ نہیں دیا جاتا ہے ،جب دسترخوانوں پر مٹر اور چنے کی گھن گھنی ہوتی تو افطار ی میں لطف آتا تھا مگر اب دسترخوان رنگوں اور مختلف پکوانوں سے سجے ہوتے ہیں مگر پھر بھی کمی محسوس ہوتی ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے