جھنڈا نگر، نیپال (خصوصی رپورٹ): جامعہ سراج العلوم السلفیہ کے ماتحت کلیہ عائشہ صدیقہ للبنات، جو ملت کی بیٹیوں کو علم و ہنر سے آراستہ کرنے کا ایک مثالی ادارہ ہے، اپنے تعلیمی سفر میں ایک نئے سنگِ میل کی طرف بڑھ رہا ہے۔ 1989 میں خطیب الاسلام علامہ عبد الرؤوف رحمانی جھنڈا نگری رحمہ اللہ نے اس چراغ کو روشن کیا تھا، جس کی روشنی آج ہزاروں بچیوں کے مستقبل کو درخشاں بنا رہی ہے۔
کلیہ عائشہ صدیقہ للبنات کے سرپرست شمیم احمد ندوی صاحب نے اپنے بیان میں فرمایا:
"کلیہ عائشہ صدیقہ للبنات نے اپنی مسلسل محنت اور عزم کے ذریعے ملت کی بیٹیوں کو جدید تعلیم کے ساتھ دینی علوم میں بھی ماہر بنایا ہے۔ یہ ادارہ ایک سنگ میل کی مانند ہے، جو بچیوں کو نہ صرف تعلیمی میدان میں کامیاب بناتا ہے، بلکہ ان میں اسلامی اقدار اور اصولوں کی بھی پختگی پیدا کرتا ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ ادارہ ایک نئی بلندی کی طرف قدم بڑھا رہا ہے، اور ہماری دعائیں اس کے ساتھ ہیں۔”
نیا تعلیمی سال – 5 اپریل 2025 سے آغاز، داخلے 7 اپریل سے شروع
انتظامیہ کے مطابق نئے تعلیمی سال کا آغاز 6 شوال 1445ھ مطابق 5 اپریل 2025 سے ہوگا، جبکہ داخلے 7 اپریل 2025 سے شروع کیے جائیں گے۔ والدین سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ اپنی بچیوں کے مستقبل کو روشن کرنے کے لیے بروقت رجسٹریشن کروائیں۔
تخصص فی الحدیث – علمی ترقی کا ایک نیا باب
ادارے میں پہلے ہی عالمیت اور فضیلت کے درجات تک تعلیم فراہم کی جا رہی تھی، لیکن اس سال سے تخصص فی الحدیث کے نئے شعبے کا آغاز کیا جا رہا ہے، تاکہ طالبات حدیث و علوم حدیث میں گہرائی حاصل کر سکیں اور ملت کی علمی و فکری قیادت میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔

کلیہ عائشہ صدیقہ للبنات کے ناظم اعلیٰ ڈاکٹر منظور احمد خان ندوی علیگ حفظہ اللہ نے فرمایا:
"کلیہ عائشہ صدیقہ للبنات صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں، بلکہ ملت کی بیٹیوں کے لیے ایک مشن ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری بچیاں صرف دین کی وارث ہی نہ بنیں، بلکہ جدید علوم سے بھی آراستہ ہو کر امت کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں۔ تخصص فی الحدیث کا آغاز ایک تاریخی قدم ہے، جو ہماری بچیوں کو علمی میدان میں مزید بلند مقام پر پہنچائے گا۔”
کلیہ عائشہ اور جامعہ سراج العلوم السلفیہ کے استاد ڈاکٹر عبد الغنی القوفی، تخصص فی الحدیث کے مشرف نے کہا:
"تعلیم یافتہ خواتین کسی بھی قوم کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ کلیہ عائشہ صدیقہ للبنات کی علمی کاوشیں اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ ادارہ ملت کی بیٹیوں کو نہ صرف تعلیم دے رہا ہے بلکہ انہیں باوقار قیادت کے لیے بھی تیار کر رہا ہے۔ ہم سب کو مل کر ایسے اداروں کی ہر ممکن مدد کرنی چاہیے تاکہ یہ مزید ترقی کریں۔”
مولانا مشہود خاں نیپالی، ترجمان جامعہ سراج العلوم و کلیہ عائشہ صدیقہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
"کلیہ عائشہ صدیقہ للبنات کا تعلیمی معیار اور اس کی خدمات کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ یہاں تعلیم حاصل کرنے والی ہر بچی صرف کتابی علم نہ لے، بلکہ عملی زندگی میں بھی کامیاب ہو۔ ادارہ جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بین الاقوامی جامعات سے بھی اپنا تعلق مضبوط کر رہا ہے، جو اس کی مسلسل ترقی کی علامت ہے۔”
بین الاقوامی جامعات سے الحاق – اعلیٰ تعلیم کے دروازے کھل گئے
کلیہ عائشہ صدیقہ للبنات کا الحاق علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ، اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی جیسے معیاری تعلیمی اداروں سے کیا گیا ہے، جس سے فارغ التحصیل طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے مزید مواقع میسر آ رہے ہیں۔
شاندار تعلیمی ریکارڈ – ہزاروں فارغ التحصیل طالبات کی کامیابیاں
کلیہ اب تک 1016 طالبات کو فضیلت اور 1299 طالبات کو عالمیت کے درجے تک پہنچا چکا ہے۔ یہ فارغ التحصیل بچیاں آج نہ صرف دینی خدمات انجام دے رہی ہیں بلکہ عصری تعلیم کے میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔
داخلوں کے لیے درخواستیں وصول کی جا رہی ہیں
کلیہ کی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ 7 اپریل 2025 سے داخلے شروع کیے جائیں گے۔ والدین اور سرپرستوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنی بچیوں کے روشن مستقبل کے لیے جلد از جلد ادارے میں رجوع کریں۔
کلیہ عائشہ صدیقہ للبنات – جہاں علم، قیادت اور کامیابی کا سفر جاری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے