بیدر۔ یکم اپریل (محمدیوسف رحیم بیدری): انٹرنیٹ کی آمد کے ساتھ ہی دنیا بھر میں ڈیجیٹل انقلاب کاڈنکا زوروشور سے پیٹاگیا اور دنیا بھرکی حکومتوں نے عوام کے جیب سے رقم نکالنے کی کامیاب کوشش کی۔ عوام نے بھی اس ڈیجیٹل انقلاب کوسراہا۔ تاہم آج یہ دیکھنے کومل رہاہے کہ ایک دوسرے کے موبائل تک رسائی میں بڑی تکالیف کاسامنا عوام کو کرناپڑرہاہے۔ بیدر شہر میں گزشتہ دوتین ہفتوں سے عوام موبائل کالس کو لے کرپریشان ہے۔ اسے پتہ ہی نہیں چل رہاہے کہ کسی کی کال آکر مسڈ کال بن چکی ہے۔ معلوم کیاگیاکہ ایسا کیوں کر ہورہاہے تو ذرائع کے بموجب نیٹ ورک کامسئلہ شروع ہوچکاہے۔ کوئی شخص ذرا سابھی گھر یادفتر کے اندر ہوتاہے تو کال پہنچ نہیں پاتی ہے اور وہ شخص یا اس کاموبائل Out of reach ہوجاتاہے۔
بعدازاں پتہ چلتاہے کہ کسی نے کال کی تھی اوریہ پتہ اس وقت چلتاہے جب کوئی شخص کال کرنے کے لئے موبائل آن کرتاہے تو معلوم ہوتاہے کہ ایک گھنٹہ پہلے یاآدھا گھنٹہ اور پندرہ منٹ پہلے کسی نے کال کی تھی۔ اور وہ مسڈ کال بن چکی ہے۔ اگر یہی کچھ ڈیجیٹل ترقی ہے تو اس کو عوام دھوکے سے تعبیر کررہی ہے۔ اور کہہ رہی ہے کہ یہ معکوس ترقی ہے۔ ایک شخص کو ایک گھنٹہ یاآدھاگھنٹہ بعد کال کاپتہ چلناانٹرنیٹ نظام کی خرابی کے علاوہ اور کیاکہہ سکتے ہیں۔ حکومت اور کمپنیوں کوچاہیے کہ وہ نیٹ ورک کی درستگی کی طرف فوری توجہ دیں ورنہ ترقی کے ہزار دعوے 100دعوؤں کو بھی مکمل نہیں کرپائیں گے۔
