ایس آئی او بسوا کلیان نے کیا آج احتجاج

بسوا کلیان۔ 9؍اپریل (نامہ نگار محمد نعیم الدّین): اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن (ایس آئی او) بسوا کلیان کی طرف سے منعقد کردہ و بلا تفریق مذہب و ملت جمع ہوئے عوام الناس نے وقف بچاؤ،ملک کا دستور بچاؤ احتجاجی دھرنا اور احتجاجی مظاہرہ ہوا۔اس موقع پر مولانا محمد نصیر الدین جناب, مجاہد پاشاہ قریشی, شری شنکر پھولیصدر بی ایس پی تعلقہ بسوا کلیان اورمحمد ذیشان صدیقی سینڈیکیٹ ممبر رائچور یونیورسٹی, نے بسوا کلیان قلعہ کے پاس, دفتر بلدیہ اور بارگاہ حسین کے سامنے منعقد ہوئے احتجاجی دھرنے سے خطاب کیااور حکومت ہند سے مطالبہ کیا کہ یہ کالا قانون واپس لیاجائے۔ملک کے ہر طبقے اور سماج کی عوام کو ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کی سمویدھان( دستور) کے تحت حقوق دیں۔

اس موقع پر صدر مقامی ایس آئی او بسوا کلیان ڈاکٹر ذبیح اللہ خان اور ممبران ایس آئی او کے علاوہ ملت اسلامیہ کے نوجوان حضرات انتظامات کرتے ہوئے, عوام الناس کا استقبال کیے، اور آؤ ہمارے ساتھ چلے، وقف بچانے نکلے ہیں, دستور بچانے نکلے ہیں آؤ ہمارے ساتھ چلیے، نعروں کی گونج کے ساتھ احتجاجی دھرنا میں توجہ کا مرکز بنے رہے، وقف امینڈمنٹ ایکٹ کے خلاف بسوا کلیان میں ہاتھوں میں پلے کارڈ پرسلوگن اور نعرے لکھے ہوئے سبھی حضرات نے تیز دھوپ میں بیٹھ کر وقف امنڈمنٹ ایکٹ کے خلاف اپنے غم و غصّے کا اظہار کیا۔یہ کالا قانون ہے اس میں ہم سب کو مل کر دستور بچاؤ وقف بچاؤ دھرنے کے ساتھ رہنا چاہیے, اس ایکٹ کے بعد دوسری کاسٹ مذاھب عیسائی، جین، بدھ، دلت ،سکھ ا ور دوسرے مذاہب کے ماننے والے بھی زد میں آنے والے ہیںلہٰذا اس کے خلاف اُٹھیں اور ساتھ آئیں۔ ڈاکٹر ذبیح اللہ خان صدر مقامی ایس آئی او بسوا کلیان نے وقف امینڈمنٹ ایکٹ کے خلاف یادداشت بسوا کلیان تحصیلدار کے ذریعے صدر جمہوریہ ہند،وزیرِ اعظم ہند اور وزیرِ داخلہ ہند کو بھیجنے کے لئے دیا۔

اس موقع پر بسوا کلیان کے اسسٹنٹ تحصیلدار شری دتہ تیرا جے گادا نے ایس آئی او کی طرف سے دی گئی یادداشت کو فوری مذکورہ شخصیات تک بھیجنے کی یقین دھانی کرائی۔اس موقع پر صغیر احمد چیرمین بلدیہ بسوا کلیان، مخدوم محی الدین صاحب، مشتاق احمد بھوسگے، حافظ میر فرخندہ علی امام و خطیب جامع مسجد بسوا کلیان,سلطان علی صاحب, حضور پاشاہ, اسلم جناب امیرمقامی اوربرادران ملت کی کثیر تعداد کے ساتھ دوسرے مذاہب کے لوگ بھی موجود تھے۔دعوت نامے کی ہدایت کے مطابق کثیر شرکاء سیاہ لباس پہنے ہوئے تھے۔پولیس کا معقول بندوبست دیکھاگیا۔

واضح رہے کہ ایس آئی او کے طلبہ نے یہ ایک اچھا قدم اٹھایاہے لیکن جو پلے کارڈس اٹھائے ہوئے تھے ان پلے کارڈ س پر وقف امینڈمنٹ بل ہی لکھاہوادیکھاگیا۔ بل اب ایکٹ یعنی قانون بن چکاہے۔ اگر بل کی مخالفت کی جارہی ہے تو اس کا ٹائم ختم ہوگیااور اگر ایکٹ کی مخالفت کی جارہی ہے، جیساکہ ریلی کے بڑے بیانر پر لکھاہواہے تو پھر پلے کارڈس پربھی وقف امینڈمنٹ ایکٹ ہی لکھاہونا چاہیے۔پرانے پلے کارڈس کو کام میں لانا غلطی ہوگی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے