عبدالغفار صدیقی

اسلام واحد دین ہے جو انسانوں کو حقیقی آزادی عطا کرتا ہے۔ وہ اس پر خیر و شر کے راستے واضح کرنے کے بعد یہ اختیار دیتا ہے کہ جس راستے کو اپنے لیے مناسب سمجھے قبول کرلے۔اسلام ہی وہ دین ہے جس نے شورائیت کا تعارف پیش کیا اور پیغمبر کو ہدایت کی کہ مسلمانوں کے معاملات باہمی مشاورت سے انجام دیے جائیں۔اس ضمن میں نبی اکرم ﷺ نے مشورے کے آداب اور اس کی قانونی حیثیت سے آگاہ کیا۔ایک قدم آگے بڑھ کر اسلام نے ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنے کو عبادت قرار دیا۔ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہنے کو افضل جہاد سے تعبیر کیا۔اسی کے ساتھ عملاً ایک ایسی سوسائٹی قائم کی جس میں لوگ آزادانہ اپنی رائے کا اظہار کرسکتے تھے۔ایک دوسرے سے سوال کرسکتے تھے۔یہاں تک امرائے سلطنت اور ریاست کے امیر المومنین سے باز پرس کا بھی حق رکھتے تھے۔حضرت عمر ؓ سے جلیل القدر صحابی سے ایک کمزور عورت سوال جواب کرسکتی تھی،نہ اسے ریاست کی طرف سے کسی ایذا رسانی کا خوف تھا اور نہ امیر المومنین کے حاشیہ برداروں کی جانب سے۔یہ مسلمانوں کا زریں اور سنہرا دور تھا۔مسلمان ہر طرف فتح کا علم لہرا رہے تھے۔دنیا جوق در جوق انسانوں کی غلامی سے کنارہ کشی کرکے ایک اللہ کی غلامی اختیار کررہی تھی،الٰہ واحد کی غلامی نے دنیا کو ہزاروں خداؤں کی غلامی سے نجات دے کر حقیقی آزادی سے روشناس کردیا تھا۔

وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات

اسلامی دنیاکے برعکس ہر طرف غلامی تھی۔انسان برائے خریدو فروخت میسر تھے،ان کی منڈیا تھیں،انھیں بولنے اور لب کھولنے کی اجازت نہ تھی،کسی نے حاکم وقت کے خلاف لب کشائی کی جرأت کی تو اسے ایسی اذیت ناک سزا دی جاتی تھی کہ باقی لوگ چپ رہ کر ظلم برداشت کرنے میں عافیت سمجھتے تھے۔اقتدار وقت کے سامنے کھڑے ہونا،ناقابل معافی جرم تھا۔انسانوں کے بالمقابل جانوروں کے حقوق زیادہ تھے۔انھیں کم از کم ان کی پسند کا چارہ تو میسر تھا۔
لیکن جب سے مسلمان غلام ہوئے ان کے اندر پست ہمتی اور بزدلی نے بسیرا کرلیا یا یوں کہیے کہ جب سے انھوں نے حق گوئی اور صاف گوئی کو ترک کردیا اور انھوں نے اپنے حکمرانوں،رہنماؤں،مرشدوں،ائمہ و علماء سے سوال کرنا بند کردیا،ظلم پر خاموشی اختیار لی وہ غلام ہوگئے۔آج مسلم معاشرے کے اندر یہ مجال نہیں کہ وہ کسی بڑے کی غلط بات کو غلط کہہ سکے۔مسلمان اگر سرکاری یا غیر سرکاری دفاتر میں ملازم ہیں تو اپنے آفیسر کے سامنے لب کشائی کی جرأت نہیں کرسکتے۔وہ اس کے پیچھے اسے مغلظات بک سکتے ہیں،مگر سامنے دم ہلاتے رہتے ہیں۔وہ اگر کہیں مزدور ہیں تو اپنی اجرت مانگنے کے لیے بھی سو بار سوچتے ہیں۔یہ صورت حال اس وقت مزید تشویشناک ہوجاتی ہے جب ہم دین داروں اور دینی اداروں میں یہ رویہ دیکھتے ہیں۔عوام کے مالی تعاون سے چلائے جانے والے نناوے فیصد اداروں میں چنگیزانہ تانا شاہی پائی جاتی ہے۔مگرکوئی حکمت کے نام پر خاموش ہے کوئی مصلحت کے نام پر۔کوئی اپنی عزت بچانے کے چپ ہے تو کوئی آبروئے قوم کی دہائی کے نام پر لب سیئے بیٹھا ہے۔کوئی اکابر کے احترام میں خاموش ہے تو کوئی اپنے شاگرد کی بدعنوانیوں کو شفقتاً برداشت کررہا ہے۔ہر طرف بدعنوانیاں ہیں،مگر ہر طرف گہرا سناٹا ہے۔مسجد کا امام جو بے چارہ سب کا نوکر ہوتا ہے،جب وہ ممبر پر بیٹھ کر تقریر کرتا ہے تو چاہے کتنے ہی بے سر وپا باتیں کرے کوئی اس سے پوچھنے والا نہیں۔کوئی عالم اپنے وعظ میں جھوٹے قصے سنائے اس سے کوئی سوال کرنے والا نہیں،مدرسین زیادتی کریں تو طلبہ خاموش اور انتظامیہ زیادتی کرے تو اساتذہ مہر بلب۔اس لیے کہ انھیں اپنی نوکری جانے کا خطرہ ہے۔یہ اظہار بے بسی کا سبق جو ہماری تعلیم گاہوں میں پڑھایا جاتا ہے وہی آگے چل کر قوم میں بزدلی پیدا کرتا ہے۔
جب ہم اپنے علماء،اپنے اساتذہ کے سامنے حق گوئی کی ہمت نہیں رکھتے تو اپنے سیاسی لیڈروں،سرکاری آفیسران اورحکومت کے ذمہ داران کے سامنے کس طرح لب کشائی کرسکتے ہیں۔جب ہم مدرسہ کے مہتمم سے حساب مانگتے ہوئے ڈرتے ہیں توگاؤں کے پردھان،شہر کے چیرمین،اسمبلی اور پارلیمنٹ میں براجمان عوامی نمائندوں سے حساب کس طرح مانگ سکتے ہیں۔جب ہم اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہوئے گھبراتے ہیں تو کمزوروں کے حقوق کی جنگ کس طرح لڑ سکتے ہیں۔ہماری بچیاں اپنے والدین سے دل کی بات بھی نہیں کہہ سکتیں تو وہ کسی ظالم کے سامنے کیسے بولیں گی؟یہی وجہ ہے کہ ہم ہر روز پستی کی طر ف دھکیلے جارہے ہیں۔بھارتی مسلمان اپنے آئینی حقوق کی بازیابی کے لیے بھی اغیار کا منہ دیکھ رہے ہیں۔احتجاجی جلوس بھی خوف کے مارے ماتمی جلوس کی شکل میں نکالے جارہے ہیں۔کسان اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر بیٹھ گئے، ان کے لیڈران اپنی فیملی کے ساتھ شمبھو بارڈر پر آکر جم گئے،ان کو ہٹانے،منانے اور خریدنے کی کوششیں ہوئیں مگر وہ اپنے مطالبات سے ایک قدم پیچھے نہیں ہٹے،جس کا نتیجہ ہے کہ MSPکا کالاقانون ٹھنڈے بستہ کی نذر ہوگیا،شاہین باغ میں خواتین نے ہمت دکھائی تو NRCابھی تک اپنا اصلی رنگ نہیں دکھاسکی۔کل بابری مسجد داؤں پر تھی،ہم نہیں بچاسکے،پھر طلاق بل پاس ہوا،ہم اسے واپس کرانے میں ناکام رہے،آج ہمارے سامنے وقف بل ہے۔کیا جرأت و بیباکی سے محروم بھارتی مسلمان اور مصلحت کوشی کی چادر اوڑھے ہوئے رہنمایان دین و ملت اسے واپس کراسکیں گے؟ کیا وہ مہینوں تک دھرنے پر بیٹھیں گے؟ کیا وہ سر کٹائیں گے؟ابھی تک جو حالات ہیں ان سے نہیں لگتا کہ مسلمانوں کی آواز اس بل کو واپس کراسکتی ہے۔
جرأت و بیباکی ایک مومن کی شان اور ایمان کی پہچان ہے۔مومن صرف اللہ پر یقین رکھتا ہے اور اسی کے سامنے جھکتا اور اسی سے خوف کھاتا ہے۔اس کا کامل ایمان ہوتا ہے کہ رزق کی کنجیاں اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ عزت و ذلت وہی دینے والا ہے۔مگر افسوس اس دعوائے ایمان کے بعد بھی ہم سچ بات کہنے سے باز رہتے ہیں۔ہم چپ رہ کر ظلم کی تائید کرتے ہیں۔جب کہ ہماری دینی،شرعی اور ایمانی ذمہ دارای ہے کہ نہ خود ظلم کریں اور نہ ظلم سہیں۔ بقول شاعر

چپ رہنا تو ہے ظلم کی تائید میں شامل
حق بات کہو جرأت اظہار نہ بیچو

کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعجاز سخن
ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے

جب بچے اپنے والدین سے، شاگرد اپنے استاذ سے، مقتدی اپنے امام سے، اساتذہ اپنے مہتمم یا ناظم سے، کوئی استفسار کا حق نہیں رکھتے یا وہ اپنے حق کا استعمال نہیں کرسکتے تو آپ کیسے امید کریں گے کہ وہ ظالم حکمرانوں کے سامنے سینہ سپر ہوسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک بلڈوزر آتا ہے، اس کے ساتھ کچھ پولس کے لوگ ہوتے ہیں اور ہمارا مدرسہ توڑ کر چلا جاتا ہے۔ کوئی اس بلڈوزر کے سامنے لیٹنے کی ہمت نہیں جٹا پاتا۔ کوئی ہمت کرے بھی کیوں؟ اس کا کوئی دوسرا ساتھ نہیں دیتا۔ اسی کو الٹا بے وقوف ٹھہرا دیا جاتا ہے۔ ہمارے درمیان اس قدر اختلافات ہیں کہ عدم تعاون کا کوئی نہ کوئی بہانہ مل ہی جاتا ہے۔ کہیں برادری، کہیں مسلک اور کہیں جماعت کا اختلاف ہمیں یکجا نہیں ہونے دیتا۔
میں سمجھتا ہوں کہ غلط کو کہنے کی ابتداء گھر سے کیجیے۔ بڑوں کا ادب و احترام اپنی جگہ لیکن غلط کو غلط کہنے کی ہمت کیجیے۔ البتہ بات کہنے کے سلیقے اور آداب کو ملحوظ رکھیے۔ والدین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے گھر میں شورائی نظام نافذ کریں۔ سچ بولنے پر بچوں کی حوصلہ افزائی کریں۔ اس سے آگے بڑھ کر تعلیم گاہوں میں طلبہ کو ظلم سہنے کے بجائے ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کی تربیت دی جائے۔ وعظ کی محفلوں میں سامعین کو کی گئی تقریر پر نقد و جرح کا موقع دیا جائے۔ ہر امام، ہر امیر، ہر حاکم خواہ وہ گرام پردھان ہو یا چیرمین، یا مسلمانوں کے کسی امور کا نگراں ہو، اپنی شخصیت کو ہمیشہ تنقید کے لیے پیش کرتا رہے۔ اپنے گرد چاپلوس منافقین کے بجائے صاف بات کہنے والے مخلصین کو جمع کرے۔ تعریف پر خوش نہ ہو، بلکہ تنقید پر خوش ہو۔ جماعتوں، تنظیموں اور اداروں میں بھی شفافیت پیدا کرنے اور اپنے ماتحت افراد کو سوال کرنے کا حق دینے کی ضرورت ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ ہر شخص اپنے بڑوں سے وہ بات معلوم کرنے میں شرم و جھجک اور بزرگی کو حائل نہ ہونے دے جسے وہ نہیں جانتا یا جس کے بارے میں وہ کنفیوز ہے۔ اپنے مخالف کو بات کہنے کا موقع دیا جائے، اگر اس کے پاس مضبوط دلائل ہوں تو اس کی بات تسلیم کی جائے۔رزق کے خوف سے زبانوں پر تالے لگالینا یا غلط بات کی تائید میں سر ہلا دینا منافقت ہے، یاد رکھیے زندگی، موت، عزت، ذلت، تنگی و کشادگی کا مالک اللہ ہے۔ ظلم پر خاموش رہ کر تھوڑی سی دنیا مل بھی گئی تو آخرت کا عذاب بڑا دردناک ہے۔ تاریخ میں جن لوگوں نے اظہار حق کا فریضہ انجام دیا وہ سرخ رو ہوئے۔ آج دنیا ان کا نام عقیدت و احترام سے لیتی ہے۔ شیر کی ایک دن کی زندگی، گیدڑ کی سو سال کی زندگی سے بہتر ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے