ذَہَبَ الَّذِیْنَ یُعَاشُ فِیْ اَکْنَافِہِمْ
جن کے دامن میں جینے کا لطف تھا، وہ اب رخصت ہو گئے!
✍️احمد حسين مظاہری
قادرِ مطلق کی مشیت ہے،ایک عجیب چل چلاؤ لگ رہا ہے، ہر ہر شعبہ کی اہم اہم شخصیتیں اٹھتی جارہی ہیں اور کوئی بھی اپنا بدل و جانشیں نہیں چھوڑ رہا ہے۔ حَسرَتاہ! آج 28/4/2025) بروز سوموار مظاہر علوم جدید کے شیخ الحدیث حضرت مولانا عاقل صاحبؒ طویل علالت کے بعد اس دارِ فانی سے دارِ باقی و ابدی کی طرف رحلت فرما گئے۔( انا للہ وانا الیہ راجعون!)
علمائے راسخین سے علمی محفلیں بس تیزی کے ساتھ خالی ہوتی جارہی ہیں اسے دیکھ کرایسا معلوم ہوتا ہے کہ نبی صادق و مصدوق کی پیش گوئی:*يَذْهَبُ الصَّالِحُونَ الْأَوَّلُ فَالْأَوَّلُ، وَيَبْقَى حُفَالَةٌ كَحُفَالَةِ الشَّعِيرِ أَوِ التَّمْرِ،لَا يُبَالِيهِمُ اللَّهُ بَالَةً* کا مصداق آج ہی کا دورِ پُرفتن ہے۔
اگر چہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس دنیا میں آنے والے ہر مسافر کی آخری منزل موت ہے،اور یکے بعد دیگرے سب کو اس منزل پر پہنچنا ہے۔اس لئے اس دنیا سے کسی کا کوچ کر جانا کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں ہے لیکن اس کے با وجود بعض شخصیتیں ایسی گوناگوں خصوصیات اور ہمہ گیر صلاحیتوں کی مالک ہوتی ہیں کہ ان کا اس عالم سے رخصت ہو جانا واقعۃً ایک عظیم حادثہ ہوتا ہے جن کے فراق اور جدائی سے پوری قوم و ملت سوگوار ہو جاتی ہے۔ محدث کبیر حضرت مولانا عاقل صاحب رحمۃاللہ کی ذات گرامی ان ہی ممتاز و منفرد شخصیتوں میں سے ایک تھی۔
اس پرآشوب و پرفتن اور قحط الرجال کے دور میں شیخ رحمۃاللہ علیہ کا حادثہ وفات ایک بڑا علمی حادثہ ہے۔
بارِالہ سے دعا گُو ہوں کہ حق جل مجدہ حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے،نیز لواحقین کو صبر جمیل عطاء فرمائے،اور مظاہرعلوم (جدید) کو نعم البدل عطاء فرمائے۔آمیـــــــــــــــــــــن۔

