مجیب احمد مجیب، بیجاپور
یوں میری بے بسی کا تماشا نہ کیجئے
احسان مجھ پہ کر کے جتایا نہ کیجئے
روزی حلال آپ کی ہے، مانتا ہوں میں
لیکن خدارا، آپ یہ دعویٰ نہ کیجئے
کرنا ہے فیصلہ تو کرو پُر سکون آپ
یوں آسمان سر پہ اٹھایا نہ کیجئے
ممکن نہیں ہے حاصلِ منزل گِرے بغیر
حد سے زیادہ خود کو سنبھالا نہ کیجئے
کھائے ہوئے نوالوں کا رکھتا ہے جو حساب
دعوت میں اُس بخیل کے جایا نہ کیجئے
نقصان اس میں ہوگا بہت آپ کا مجیب
اپنوں کو دل کی بات بتایا نہ کیجئے

