ظہیرآباد میں وقف بچاؤ دستور اجلاس سے مولانا خالد سیف اللہ رحمانی و دیگر کا خطاب 

ظہیرآباد 25/مئی (مشرقی آواز جدید): جدید عیدگاہ ظہیرآباد کے وسیع و عریض میدان میں کل شب مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے منعقد ہورہی وقف بچاؤ دستور بچاؤ اجلاس کے سلسلے کا ایک عظیم الشان جلسہ ظہیرآباد میں منعقد کیا گیا. تیز ہواؤں اور موسلا دھار بارش کے سبب ابتداً اجلاس افراتفری کا شکار رہا. جب بارش کا سلسلہ کچھ کم ہوا تو اجلاس بدستور جاری رہا. ہزاروں فرزندان توحید اس اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے ملی حمیت کا ثبوت پیش کیا. مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے صدارتی خطاب میں وقف ترمیمی قانون کو مسلمانوں کے مذہبی اور آئینی حقوق پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ قانون اوقاف کی خودمختاری کو ختم کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہاکہ وقف ترمیمی قانون میں اتنے نقائص ہیں کہ یہ صرف مسلمانوں کی اوقافی جائیدادوں کو چھین لینے کے لیے بنا یا گیا ہے. انہوں نے کہا کہ مسلم وقف بورڈ میں غیر مسلم افراد کی شمولیت کو سم قاتل قرار دیا. انہوں نے سوال کیا کہ ہندو برادران وطن کے وقف بورڈ جس کو انڈومنٹ کہتے ہیں کیا اس میں مسلمانوں شامل کیا جاتا ہے. انہوں نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ وقف قانون مسلمانوں کے دینی، تعلیمی، سماجی اور تجارتی استحکام پر براہِ راست حملہ ہے۔ ہم پرامن احتجاج کے ذریعے اس قانون کی مخالفت جاری رکھیں گے تاکہ اوقاف کی خودمختاری اور مسلمانوں کے آئینی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے. مولانا نے وقف ترمیمی قانون کے سیاق و سباق پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے مطابق مسلمانوں کو اپنی اہم مذہبی مقامات کے دستاویز پیش کرنے ہونگے. جبکہ یہ نا ممکن ہے. چونکہ جو مساجد، درگاہیں اور عید گاہیں مسلمانوں کے تصرف میں صدیوں سے ہیں.  اس وقت با ضابطہ دستاویز ات کا رواج نہیں تھا بلکہ زبانی طور پر ہی وقف کیا جاتا تھا. انہوں نے مزید کہا کہ وقف جائیدادوں کے دستاویزات تو کیا ہم اپنے آباء و اجداد کی موروثی جائیداد کے دستاویز بھی پیش نہیں کرسکتے.. انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سیاہ قانون کو واپس لے لیں بصورت دیگر احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا.
محمد علی شبیر سابق وریز و مشیر حکومت تلنگانہ نے کانگریس کی جانب سے AIMPLB کی تحریک کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی قانونی اور جمہوری ذرائع سے وقف املاک کے تحفظ کے لیے بورڈ کے ساتھ ہے۔
 مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی، مولانا کلب جواد، سید سعادت اللہ حسینی، اور عیسائی رہنماء اے سی مائیکل نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے وقف قانون کی مخالفت کی اور مذہبی ہم آہنگی پر زور دیا۔ انہوں نے وقف بل کو مسلمانوں کی زندگیوں کو اجیرن کرنے والا بل قرار دیا.
مولانا ابو طالب رحمانی (رکن عاملہ AIMPLB): مولانا ابو طالب رحمانی نے وقف قانون میں مجوزہ ترمیمات کو غیر آئینی اور اقلیت دشمن قرار دیتے ہوئے کہا: "وقف ایک شرعی، قانونی اور تاریخی ادارہ ہے۔ اس میں سرکاری مداخلت مسلمانوں کی مذہبی آزادی پر کاری ضرب ہے۔ اگر یہ قانون نافذ ہوا تو نہ صرف مسلمانوں کی تعلیمی و دینی شناخت مٹ جائے گی بلکہ ملک کی گنگا-جمنی تہذیب بھی متاثر ہوگی۔”
مولانا جعفر پاشاہ صاحب امیر ملت اسلامیہ  نے اپنے خطاب میں مسلمانوں کی موجودہ سیاسی بے وزنی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "آج کا احتجاج محض وقف کے لیے نہیں بلکہ یہ ہماری سیاسی بیداری، یکجہتی اور خوداعتمادی کا مظاہرہ ہے۔ ہم اپنی اوقاف کا تحفظ کرکے اپنی تہذیبی شناخت کو بچائیں گے۔”
انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ آئندہ انتخابات میں باشعور کردار ادا کریں۔
مولانا غیاث احمد صاحب رشادی ( صدر صفا بیت المال و کنوینر تلنگانہ و آندھرا پردیش) نے اپنے خطاب میں کہا کہ وقف مجوزہ قانون کی منسوخی تک بے لوث احتجاج کرتے ہوئے ملی حمیت کا ثبوت دینا چاہیے.
ظہیرآباد میں منعقدہ یہ احتجاجی جلسہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے وقف ترمیمی قانون کے خلاف جاری ملک گیر تحریک کا حصہ تھا۔  جلسے میں مقررین نے قانون کی مخالفت کرتے ہوئے اسے مسلمانوں کے آئینی اور مذہبی حقوق پر حملہ قرار دیا اور پرامن احتجاج کے ذریعے اس کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔یہ احتجاجی جلسہ پرامن اور منظم انداز میں منعقد ہوا، جس کا مقصد وقف املاک کے تحفظ اور آئینی حقوق کی پاسداری کے لیے عوامی شعور بیدار کرنا تھا۔  جلسے میں مختلف مذاہب اور طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی، جس سے اس کی ہمہ گیر نوعیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اجلاس میں مہمان علماء کرام کے علاوہ سیاسی، سماجی اور ملی قائدین نے بھی خطاب کیا. مقامی علماء کرام میں مفتی نذیر احمد حسامی، مفتی خلیل احمد قاسمی، مولانا عبد المجیب قاسمی نے بھی خطاب کیا. اجلاس کے ابتدائی مرحلہ میں مفتی عبد الصبور قاسمی، مفتی خلیل احمد قاسمی اور مولانا غیاث احمد رشادی نے اجلاس کی نظامت انجام دی. اس اجلاس میں جناب کوثر محی الدین مجلسی رکن اسمبلی کاروان، جناب رحیم خان، رکن اسمبلی بیدر، جناب سریش کمار شیٹکار ،رکن پارلیمنٹ ظییرآباد ،جناب چندرا شیکھر، سابق ریاستی وزیر، جناب محمد تنویر کانگریس قائد نے بھی خطاب کیا۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے