رفیع نعمانی مہراجگنج یوپی
تیرا چہرہ گلاب جیسا ہے
جو تپے آفتاب جیسا ہے
کون کہتا ہے راہ الفت میں
دل کا صحرا سراب جیسا ہے
یوں تو ہستی تری معمر ہے
تیرا جلوہ شباب جیسا ہے
تیرے کوچے میں مارا پھرتا ہوں
تیرا دیدار خواب جیسا ہے
رات دن ہوں ترے تجسس میں
حال خانہ خراب جیسا ہے
ہے رفیع داستاں بڑی اپنی
ہر ورق اک کتاب جیسا ہے
