ہجوم کے ہاتھوں مسلم افراد پر تشدد ملی کونسل برہم!

سہارنپور (احمد رضا): ضلع کے علماۓ کرام کی قیادت میں مسلم افراد کی حالت کا جائزہ لینے کی غرض سے علیگڑھ اسپتال کا دورہ کیا جا نا اور زخمی مسلم افراد سے حالات معلوم کرنے پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے مذمتی ردعمل دیا اور کہا کہ مستقبل میں اس طرح کے حملہ برادشت نہی ہوں گے ظلم اور جبر کی انتہا کردی گئی ہے اترپردیش کے علی گڑھ ضلع کے اترولی علاقے میں 24 مئی کو پیش آنے والا وحشیانہ واقعہ ایک ایسے ہندوستان کی عکاسی کرتا ہے جو جمہوریہ سے ہجوم راج کی طرف بڑھتا محسوس ہو رہا ہے گاڑی میں بھینس کا گوشت لے جانے والے چار مسلم نوجوان—ارباز، عقیل، قدیم، اور چاند (منا) کو ہندوتوادی بھیڑ نے محض شک کی بنیاد پر یرغمال بنایا، زدوکوب کیا اور نیم مردہ حالت میں چھوڑ دیا۔یہ واقعہ محض ایک وقتی حملہ نہیں بلکہ ایک ایسی گہری فسطائی سوچ کا عکس ہے جو اقلیتوں کی شناخت، خوراک، لباس، عبادت، حتیٰ کہ زندگی کے حق پر بھی سوالیہ نشان لگا رہی ہے۔ ریاستی اداروں کی خاموشی اور اکثریتی سماج کی بے حسی خود اس اخلاقی زوال کی علامت ہے، جس میں افواہ انصاف بن جاتی ہے، لاٹھی عدالت، اور تعصب آئین کی جگہ لے لیتا ہے۔ اسی پس منظر میں، 30 مئی کو بعد جمعہ، کل ہند کنوینر آل انڈیا ملی یوتھ آرگنائزیشن ملی کونسل مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی نے علی گڑھ میڈیکل کالج اسپتال کا دورہ کیا اور زخمی نوجوانوں کی عیادت کی۔ انہوں نے متاثرین کو تسلی دی، ان کے حوصلے بلند کیے اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان نوجوانوں کو صبر، شفا اور ایمان میں استقامت عطا فرمائے۔ مولانا نے اس موقع پر اس حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ایک ’’جمہوری ہندوستان کی روح کے خلاف جرم‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ’’جو لوگ ماب لنچنگ جیسے مظالم پر خاموش ہیں، وہ صرف مظلوموں کا ساتھ نہیں چھوڑتے بلکہ اپنے جمہوری حق کو بھی خود اپنے ہاتھوں سے قتل کرتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ یہی وہ وقت ہے جب ملک کو اپنے ضمیر سے سوال کرنا ہوگا: کیا ہم اس ہندوستان میں جی رہے ہیں جہاں شک کی بنیاد پر موت دی جاتی ہے؟ کیا ’’وشو گرو‘‘ بننے کا خواب دیکھنے والی ریاستیں اپنے شہریوں کو تحفظ نہیں دے سکتیں؟ اگر ہاں، تو پھر خاموشی جرم ہے۔ متاثرین کی فوری مالی امداد بھی کی گئی، جو آل انڈیا ملی کونسل کے قومی صدر عاشقِ ملت مولانا حکیم محمد عبداللہ مغیثی کے محبین کی جانب سے پیش کی گئی، وفد میں شامل دورہ کرنے والوں میں مولانا اشفاق ، حاجی انصارعلی، حاجی انجینئر منظور علی ، محمد واسع انجینئر ،غافظ احکام رحمتی ، وغیرہ ساتھ رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے