لکھنؤ۔ دار العلوم ندوۃ العلماء کی جامع مسجد میں عید الأضحی کی نماز پورے تزک و احتشام سے ادا کی گئی ، شہر کی ایک تعداد نے امام و خطیب مسجد ندوۃ العلماء مولانا ڈاکٹر محمد فرمان ندوی کی امامت میں ساڑھے سات بجے عید الأضحی کی دوگانہ نماز ادا کی ، نماز سے پہلے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے دار العلوم ندوۃ العلماء کے استاذ حدیث و عمیدکلیۃ الدعوۃ والاعلام مولانا محمد خالد ندوی غازیپوری نے کہا :
تاریخ انسانیت کی سب سے پہلی قربانی حضرت آدم علیہ السلام کے دونوں بیٹوں نے پیش کی ، ایک نے جانور کی قربانی پیش کی ، اور دوسرے نے پیدا وار کی قربانی پیش کی ، لیکن تاریخ کی اہم ترین قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے لخت جگر حضرت اسماعیل کی قربانی کی شکل میں پیش کی ،تو اللہ کو یہ ادا ایسی پسند آئی کہ اس کو رہتی دنیا تک کے لئے یاد گار بنا دیا ، پوری دنیا میں جانوروں کی شکل میں جو قربانیاں پیش کی جاتی ہیں ، وہ اسی کی یاد گار ہیں ، لیکن جانوروں کی قربانی ایک رمز ہے نفسانیت اور برے خیالات کی قربانی کی ۔
مولانا نے مزیدکہا : ہر قوم میںقربانی کا تصور پایا جاتا رہا ہے، اور قربانی جانوروں کی شکل میں یہ قربانی پیش کی جاتی رہی ، مسلمانوں کی قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے ، اور صحابہ کرام نے پوچھا کہ اس پر ہمیں کیا ملے گا : تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر بال کے بدلہ ایک نیکی ، اور یہ جانور اتنا مقبول ہے کہ اس کے بالوں اور کھروں اور بالوںکو بھی قبول کرلیا ہے ۔
امام و خطیب مسجد ندوۃ العلماء مولانا محمد فرمان ندوی نے اپنے عربی خطبہ میں سب سے پہلے حاضرین کو عید الأضحی کی مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی نے عید الفطر اور عید الأضحی کے مقاصد کو قرآن کریم کی روشنی میں بیان کیا کہ اللہ کی کبریائی کا اظہار اور اس کی نعمتوں پر شکر و اعتراف ہے ، سورہ بقرہ اور سورہ حج کی آیتوں میں اس کی وضاحت ہے ، یہ قربانی حضرت ابراہیم کی یادگار ہے ، وہ ابراہیم جن کے نام سے ایک پوری سورت قرآن میں موجود ہے ، جن کی نو صفات کے جامع تذکرہ سے سورۂ نحل کا آخر مزین ہے ، وہ اپنی ذات میں انجمن ، مطیع و فرمانبردار ،اللہ کے لئے یکسو رہنے والے ، توحید پرست ، شکر گذار، دنیاوی نعمتوں سے مالامال ، آخرت میں سرخرو ، اللہ کی طرف سے منتخب ، اور صراط مستقیم پر قائم تھے ، وہ عراق کے رہنے والے تھے ،انہوں نے دین کی خاطر شام کی ہجرت کی، انہوں نے تین قربانیاں پیش کی : توحید پر استقامت کی وجہ سے آگ میں ڈالے گئے ، اللہ کے حکم پر بے آب و گیاہ میدان میں اپنے بچوں اور اہلیہ میں چھوڑا اور چھوٹے شیر خوار بچے کو راہ خدا میں قربان کردیا ۔ مولانا نے کہا: ذی الحجہ کے مہینہ میں حج اور قربانی دو اہم عبادتیں ہیں ، حج کا پیغام محبت الہی میں سر شار ہونا ،اور قربانی کا پیغام اپنے کو اللہ کے حوالہ کرنا ہے۔
