مضمون نگار:…ڈاکٹر عبید الرحمن ندوی

استاد دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ

عبد الفطر اور عید الاضحی عالم اسلام کے دو اہم تیوہار ہیں۔عید الاضحی اسلامی کیلنڈر کے آخری مہینے ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو منایاجاتاہے۔ اس کا اہتمام پیغمبر ابراہیم علیہ السلام کے اپنے اکلوتے بیٹے اسماعیل علیہ السلام جن کو اللہ نے انہیں ۸۶سال کی عمر میں نوازا تھاکو قربان کرنے کی رغبت کو دہرانے کے طور پر کیاجاتاہے۔پیغمبر ابراہیم علیہ السلام کے واقعے کو قرآن مجیدمیں پرزور انداز میں بیا ن کیاگیاہے۔ پیغمبر ابراہیم علیہ السلام نے اللہ سے دعاکہ:ــ’’اے میرے رب! مجھے ایک صالح فرزند عطاکر۔ تو ہم نے انہیں ایک بردبار لڑکے کی خوشخبری دی۔ تو جب لڑکا سنِ رشد کو پہنچا، انہوں نے کہا:’’اے میرے بیٹے! میں نے خواب میں دیکھاہے کہ میں تم کو قربان کررہاہوں۔ تو اب تمہاری کیا رائے ہے؟‘‘لڑکے نے کہا:’’اے میرے والد! آپ ویسا ہی کیجئے جیسا آپ کو حکم دیاگیاہے۔ اورآپ ان شاء اللہ مجھے خندہ جبین پائیں گے۔تو جب ان دونوں نے اپنے کو اللہ کے سپرد کردیا اور انہوں نے ان کو قربان کرنے کے لئے لٹایا ہم نے ان سے کہا اے ابراہیم! تم نے اپنا خواب پورا کرلیاہے۔ ہم اسی طرح ان کو انعام دیاکرتے ہیں جو نیک عمل کرتے ہیں۔ یقینا یہ ایک کھلی آزمائش تھی اور ہم نے ایک بڑی قربانی دے کر اس بچے کو چھڑالیا۔ اوراس کی تعریف وتوصیف ہمیشہ کے لئے بعد کی نسلوں میں چھوڑ دی۔ سلام ہے ابراہیمؑ پر۔ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ یقینا وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔ (الصافات: ۱۰۰-۱۱۱)اوپر کے بیان سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ کا صالح اور متقی بندہ ہمیشہ اپنے خالق کا حکم ماننے کے لئے تیار رہتاہے۔ چنانچہ اگر کوئی اللہ کی قربت چاہتاہے اور اس کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتاہے ہے تو اسے اللہ کے سامنے پیغمبر حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیلؑ جیسی بے مثال خودسپردگی، فرمانبرداری، محبت اور ایمان کا مظاہر کرنا ہوگا۔جیساکہ اللہ کا فرمان ہے اس پورے واقعے میں جانوروں کا گوشت اور خون مطلوب نہیں ہے:’’ان کا گوشت اور خون اللہ کو نہیں پہنچتا؛ اس تک تو تمہارا تقویٰ پہنچتاہے‘‘۔ (الحج: ۳۷)
یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ قربانی بھی حج کا ایک اہم جزء ہے۔ مناسک حج اداکرکے، مکہ مکرمہ سے چار میل کی دوری پر حجاج قربانی ، عبادت اور اللہ کا ذکر کرنے کے لئے منیٰ میں جمع ہوتے ہیں۔ یہ ملحوظ خاطر رکھنا چاہئے کہ ماہ ذی الحجہ یا ماہ حج کے دس دن بڑی اہمیت کے حامل ہیں جیسا کہ قرآن وحدیث میں مذکور ہے۔ قرآن مجید کہتاہے:’’ قسم ہے فجر کی، قسم ہے دس راتوں کی‘‘۔ (الفجر: ۱-۲) بیشتر مفسرین قرآن کا کہنا ہے کہ دس راتوں سے عمومًا ذو الحجہ کی پہلی دس راتیں، حج کا مبارک موسم، سمجھی جاتی ہیں۔ اسی طرح، عرفہ کے روزہ (نوذو الحجہ) کی بھی بڑی اہمیت ہے۔ پیغمبر محمد ﷺ کا ارشاد ہے:’’مجھے یقین ہے کہ اللہ عرفہ کے روزے کے ایک سال پہلے کا اور ایک سال بعد کا گناہ معاف فرمادے گا۔یہ واضح ہے کہ اس موقع پر چار دن تک یعنی نو کی صبح سے لے تیرہ ذو الحجہ کی شام (نماز عصر) تک ہر نماز کے بعد اللہ کی تکبیر وتحمید بیان کی جاتی ہے جسے تکبیرات تشریق کے نام سے جانا جاتاہے؛ پڑھے جانے والے کلمات درج ذیل ہیں:’’اللہ سب سے بڑاہے؛ اللہ سب سے بڑاہے! اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے! اللہ سب سے بڑاہے ! اللہ سب سے بڑاہے اور تمام تعریف صرف اللہ ہی کے لئے ہے‘‘۔
معروف عالم دین علامہ سید سلیمان ندویؒ فرماتے ہیں:’’اسلام کا مطلب خدا کی رضا کے آگے سپردگی کے ہیں۔ یہ اللہ کے احکامات کے سامنے مکمل استسلام پر دلالت کرتاہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی بغیر کسی شبہہ کے یہ بات ثابت کرتی ہے کہ وہ اللہ کے سچے اور مخلص بندے تھے۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی قربانیوں کی توصیف میں، اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے جذبۂ سپردگی وحوالگی کو اسلام کا نام دیا۔ قرآن میں فرمایاگیا:’’تو جب ان دونوں نے خود کو اللہ کے سپرد کردیا‘‘۔ (الصافات: ۱۰۳)
’’اب کون ہے، جو ابراہیمؑ کے طریقے سے نفرت کرے؟ جس نے خود اپنے آپ کو حماقت وجہالت میں مبتلا کرلیاہو، اس کے سوا کون یہ حرکت کرسکتاہے؟ ابراہیمؑ تو وہ شخص ہے ، جس کو ہم نے دنیا میں اپنے کام کے لئے چُن لیاتھا اور آخرت میں اس کا شمار صالحین میں ہوگا۔ اس کا حال یہ تھا کہ جب اس کے رب نے اس سے کہا:’’مسلم ہوجا‘‘ تو اس نے فورًا کہا’’میں مالک کائنات کا’’مسلم‘‘ ہوگیا‘‘۔ (البقرہ: ۱۳۰-۱۳۱)درحقیقت ابراہیمؑ کا مذہب ’’الاسلام‘‘ یعنی اللہ کے سامنے سپردگی اور حوالگی پر مبنی ہے۔ ابراہیم علیہ السلام نے اللہ سے باربار دعافرمائی:’’اے رب! ہم دونوں کو اپنا مسلم(مطیع فرمان) بنا، ہماری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا، جو تیری مسلم ہو، ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا، اورہماری کوتاہیوں سے درگزر فرما، تو بڑ امعاف کرنے والا اور رحم فرمانے والاہے‘‘۔ (البقرہ: ۱۲۸)
درحقیقت اللہ کی راہ میں قربانی نہ کہ صرف یہ کہ ایک روایت ہوتی ہے بلکہ اللہ کی محبوب ترین پرستش ہوتی ہے۔ عمومًا قربانی کاگوشت تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، ایک گھر کے استعمال کے لئے ، دوسرادوستوں اور عزیزوں کے لئے اور تیسرابلاتفریق ذات برداری، مسلک علاقہ اور رنگ کے غرباء اور اور ضرورت مندوں کے لئے ۔ علاوہ ازیں ، قربانی کے جانوروں کے کھال کی قیمت بھی غریبوں اورسماج کے دبے کچے طبقے کو دے دی جاتی ہے۔ بلاشبہ قربانی کے عمل سے خالق اور مخلوق کے درمیان رشتہ مضبوط ہوتاہے ۔ یہ بھائی چارہ اور اخوت کے حقیقی شعور کو بھی فروغ دیتاہے۔ خلاصہ یہ کہ قربانی اللہ کی تعظیم، اطاعت، عقیدت اور سپردگی کی اعلیٰ ترین شکل ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے