اعداد: محمد وسيم راعين 

عَنْ نُبَيْشَةَ الْهُذَلِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيَّامُ التَّشْرِيقِ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَذِكْرٍ لِلَّهِ »( صحيح مسلم:1141 ، باب تحريم صوم أيام التشريق)

حضرت نبيشہ ہذلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :”تشریق کے دن کھانے ، پینے اور اللہ کا ذکر کرنے کے دن ہیں "۔

 قربانی کے دن کے بعد کے تین دنوں یعنی گیارہ ،بارہ اور تیرہ ذی الحجہ کو ایام تشریق کہا جاتا ہے ۔ ایام تشریق کی وجہ تسمیہ کے سلسلہ میں اہل علم نے مختلف وجوہات بیان کئے ہیں۔ ایک وجہ یہ بیان کی ہے کہ ان دنوں میں حجاج قربانی اور ھدی کے جانوروں کا گوشت،دھوپ میں سکھایا کرتے تھے ۔ يا اس کی وجہ یہ ہے کہ ھدی کے جانور اس وقت تک ذبح نہیں کئے جاتے تھے جب تک کہ سورج طلوع نہ ہوجائے ۔ یا وجہ یہ ہے کہ عید کی نماز سورج کے طلوع ہونے کے بعد ہی ادا کی جاتی ہے۔ یا اس لئے کہ تشریق کے معنی تکبیر کے ہیں اور نماز کے بعد تکبیر پڑھی جاتی ہے۔

ایام تشریق ان بہترین دنوں میں سے ہے جن میں اللہ سبحانہ وتعالی نے اپنا ذکر خصوصیت کے ساتھ کرنے کا حکم دیا ہے ۔ اللہ سبحانہ وتعالی فرماتے ہیں : "وَاذْكُرُواْ اللّهَ فِي أَيَّامٍ مَّعْدُودَاتٍ”.(البقرة:203)” اور اللہ تعالی کی یاد ان گنتی کے چند دنوں میں کرو”۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے مفسر قرآن ،حبر الامۃ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے کہ” ایام معدودات”( گنے چنے دن) سے مراد یہی تشریق کے دن ہیں ( صحیح بخاری ، بَابُ فَضْلِ العَمَلِ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ)

ایام تشریق کا پہلا دن بڑا ہی عظیم دن ہے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :«إِنَّ أَعْظَمَ الْأَيَّامِ عِنْدَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَوْمُ النَّحْرِ، ثُمَّ يَوْمُ الْقَرِّ»(سنن ابي داود:1765)” بے شک اللہ سبحانہ وتعالی کے نزدیک دنوں سب سے عظیم دین قربانی کا دن ہے اور پھر گیارہویں ذی الحجہ کا دن ہے "۔

اگر چہ کہ اللہ کا ذکر ہر حال میں اور ہر وقت کرتے رہنا چاہئے لیکن ان دنوں میں اللہ کے ذکر کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے ۔ ايام تشریق کو اللہ کا ذکر کرنے کا دن کہہ کر ہمیں ان دنوں میں ذکر واذکار کا خصوصی اہتمام کرنے کی تر غیب دلائی گئی ہے ۔حضرات صحابہ ان دنوں میں تکبیر کا خصوصی اہتمام کرتے تھے حضرت عمر اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں آیا ہےکہ منی میں اپنی جگہ سے تکبیر کہتے تو ان کی تکبیر کو سن کر دیگر لوگ بھی تکبیر کہتے ،اس طرح منی تکبیر سے گونج جاتا۔(بخاری معلقا)

حديث ميں ذكر كی نوعیت کی تحدید نہیں ہے لہذا اس حدیث کے عموم میں ہر قسم کا ذکر شامل ہے چاہے وہ عمومی ذکر واذکار ہوں یا قربانی ذبح کرتے وقت کے اذکار ہوں یا کھانے پینے کے وقت کے اذکار ہوں یا حاجی کا رمی جمرات کے وقت کے اذکار ہوں یامطلق کسی بھی وقت کی تکبیرات ہوں سب اللہ کے ذکر کرنے میں شامل ہیں ۔

حدیث میں ذکر کے ساتھ کھانے پینے کا تذکرہ کیا گیاہے ۔کسی کے ذہن میں سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ مذکورہ سیاق میں کھانے پینے کا تذکرہ کرنے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے ؟ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اگر یہ دن ذکر واذکار کرنے کے دن ہیں تو ذکر واذکار کے لئے طاقت کی ضرورت ہے اور یہ کھانے سے حاصل ہوتی ہے۔ یا اس بات کی طرف اشارہ مقصود ہو کہ کہیں کھانے پینے میں مشغول ہوکراللہ کے ذکر سے غافل نہ ہوجاؤ ۔

یا اس فرمان میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایام عید میں کھانے پینے کواللہ تعالی کے ذکراوراس کی اطاعت کے لئے استعمال کیا جائے اور یہ نعمت کا شکراداکرنے سے تعلق رکھتا ہے ۔

امام مسلم رحمہ اللہ نے اس حدیث کو کتاب الصیام میں ذکر کیا ہے اسی مناسبت سے ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ کہیں کسی کے ذہن میں یہ بات نہ آئےکہ ان دنوں میں روزہ نہ رہنے سے نیکی سے محروم رہ گیا تو انہیں یہ بتایا جا رہا ہےکہ نیکی کا یہی ایک ہی راستہ نہیں ہے بلکہ ذکر واذکار کے ذریعے بھی نیکی کی جا سکتی ہے۔

ان دنوں کو عید کا دن کہا گیا ہے لہذا انسان شرعی حدود میں رہ کر جائز طریقے سے خوشی کا اظہا کر سکتا ہے اور خوشی منا سکتا ہے ۔ حجۃ الوداع کے موقع سے اس واقعہ کو دیکھئے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ میرے پاس تشریف لائے جبکہ منی کے ایام میں میرے پاس دو بچیاں گا رہی تھیں اور دف بجا رہی تھیں اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کپڑا اوڑھے ہوئے لیٹے ہوئے تھے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ سے کپڑا ہٹایا اور فرمایا :” ابوبکر ! انہیں چھوڑ دو کیونکہ یہ عید کے دن ہیں”۔(صحیح مسلم:۸۹۲)

اسی طرح یہ بھی جان لینا چاہئےکہ ان دنوں میں روزہ رکھنا درست نہیں ہے کیونکہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دنوں کو کھانے پینے کے دن قرار دیا ہے اور ظاہر بات ہے کہ یہ عمل روزہ کے منافی ہے۔سنن ابی داود کی روایت ہے ابو مرۃ کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے والد عمرو بن العاص کے پاس آیا تو انہوں نے ہمارے لئے کھانے کی چیز پیش کیا اور کھانے کو کہا تو عبداللہ نے کہاکہ میں تو روزے سے ہوں ، ان کے والد نے کہا: کھاؤ کیونکہ یہ وہ دن ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں روزہ چھوڑنے اور کا حکم دیتے اور روزہ رکھنے سے منع فرماتے تھے ۔(۲۴۱۸)

بلکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اعلان کرواتے کہ:” جنت میں مؤمن کے علاوہ دوسرے داخل نہیں ہوں گے اور منی کے دن کھانے پینے کے دن ہیں "(صحیح مسلم:۱۱۴۲)

لیکن حاجی جن پہ قربانی کرنا ضروری ہے اور وہ قربانی کی طاقت نہیں رکھتا ہے تو اسے ان دنوں میں روزہ رکھنے کی اجاز ت ہے ۔(صحیح بخاری :۱۹۹۷)

فوائد حديث :

· اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تشریق کے ایام میں کثرت سے اللہ تعالی کا ذکر کرنا چاہئے۔

· یہ بھی معلوم ہوا کہ بدن کی غذاء ( کھانا پینا) انسان کو روح کی غذاء (ذکر واذکار)سے غافل نہ کرے۔

· یہ بھی معلوم ہوا کہ ایام تشریق کا روزہ رکھناحرام ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے