ظہیرآباد/ کوہیر (مشرقی آواز جدید): کوہیر منڈل کے تقریباً 468 کسانوں نے آج تحصیلدار کو عرضداشت پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے۔ ان کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے رَیتو بندھو اور رَیتو بیمہ جیسی سرکاری فلاحی اسکیمات کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ ان کی ذاتی زرعی زمینوں کو بلاجواز وقف بورڈ کی زمین قرار دیتے ہوئے 18(8) کے تحت سرکاری اسکیمات سے محروم کیا گیا ہے۔متاثرہ کسانوں نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ جہاں عدالت عالیہ نے واضح احکامات جاری کرتے ہوئے حکومت کو ہدایت دی کہ تمام مستحق کسانوں کو اسکیمات فراہم کی جائیں۔ سابقہ حکومت نے عدالتی احکامات پر عمل کیا۔ موجودہ حکومت کی جانب سے ان اسکیمات پر عمل درآمد روک دیا گیا ہے۔کسانوں نے اپنی عرضداشت میں عدالتی مقدمات کی تفصیل بھی دی ہے، جن میں شامل ہیں:
• WP No: 2021-78 میں 7260 ممبرز
• WP No: 7921 آف 2021 (88)
• WP No: 7959 آف 2021 (88)
• WP No: 8336 آف 2021 (130)
• WP No: 8390 آف 2021 (84)
کسانوں کا مطالبہ ہے کہ عدالتی احکامات کے مطابق انہیں دوبارہ تمام فلاحی اسکیمات کا فائدہ دیا جائے۔ تاکہ ان کی معاشی حالت بہتر ہو سکے اور وہ اپنی زراعت جاری رکھ سکیں۔۔۔۔
