ڈاکٹر بشر مسولوی کے مجموعہ کلام ‘بہارِ سخن’ کی رسمِ اجرا اور بزمِ عزیز کا طرحی مشاعرہ، ممتاز شعرا کی شرکت سے محفل جگمگا اٹھی
بارہ بنکی۔ (ابوشحمہ انصاری): شہر بارہ بنکی کے محلہ نبی گنج (اکبر نگر) میں اردو ادب سے وابستہ دو یادگار تقریبات کا انعقاد کیا گیا جنہوں نے اہلِ ذوق کو ایک ساتھ دو ادبی خوشبوئیں عطا کیں۔
پہلی تقریب میں بزرگ شاعر ڈاکٹر بشر مسولوی کے پہلے شعری مجموعے بہارِ سخن کا باوقار رسمِ اجرا عمل میں آیا، جب کہ دوسری نشست میں بزمِ عزیز کا ماہانہ طرحی مشاعرہ نہایت شایانِ شان طریقے سے منعقد ہوا۔
کتاب کی رونمائی کے موقع پر صدارت ڈاکٹر انور حسین خان (نیورا) نے کی، جنہوں نے بشر مسولوی کی شاعری کو فکری گیرائی، لطافت اور مشاہدے کی صداقت سے بھرپور قرار دیا۔
مقالہ نگاروں میں شامل ڈاکٹر ایس ایم حیدر، اختر جمال عثمانی اور صغیر نوری نے بھی اپنے دلنشیں انداز میں شاعر کی فنی خوبیاں اور اسلوبی انفرادیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
میزبان کی جانب سے تمام معزز مہمانوں کا استقبال چادر اڑھا کر اور گل پوشی کر کے کیا گیا۔
پروگرام کا آغاز حافظ فرید ٹکیت گنجوی کی تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا جبکہ نظامت کے فرائض ھزیل لعل پوری نے بخوبی انجام دیے۔
شہر و اطراف کے ممتاز شعرا، اہلِ قلم اور ادب دوست شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
اسی شام منعقد ہونے والے بزمِ عزیز کے ماہانہ طرحی مشاعرے میں منتخب شعراء کے کلام نے محفل کو جاذبِ نظر اور فکر انگیز بنا دیا۔ پیش ہیں کچھ منتخب اشعار:
پی رہا ہے زہر وہ الزام کا
مستحق جو شخص تھا انعام کا
ضمیر فیضی رام نگری
ہے بہت قسمت سے مل جائے اگر
ایک قطرہ معرفت کے جام کا
نصیر انصاری
دیکھو اخبار و رسائل تم کبھی
نام کتنا ہے ترے بدنام کا
ذکی طارق بارہ بنکوی
زندگی کا ہر نفس ہے جستجو
وقت ملتا ہی نہیں آرام کا
خوشتر رحمانی
داستاں میں اک زلیخا بھی تو ہو
ورنہ میرا حسن پھر کس کام کا
ڈاکٹر اخلاق ہرگامی
ڈوبتے سورج کو دیکھو غور سے
کہہ رہا ہے کچھ یہ منظر شام کا
بشر ہرگامی
سامنے منزل ہے، تھوڑا اور چل
آنے والا وقت ہے آرام کا
الیاس چشتی
مے بھی ہے، ساقی بھی ہے، موسم بھی ہے
لطف کچھ تو لیجیے اس شام کا
راہی صدیقی
جب صداقت کی طرف بڑھ ہی گئے
غم کریں اب کس لیے انجام کا
ڈاکٹر ریحان علوی
ظالموں کے ظلم پر خاموش ہے
حال دیکھو عالمِ اسلام کا
ھزیل لعل پوری
ذکر جب ہوتا ہے اُس کے نام کا
دل مچل جاتا ہے خاص و عام کا
نفیس بارہ بنکوی
دل کو جب سے لگ گیا آزارِ عشق
کوئی پل ملتا نہیں آرام کا
بشر مسولوی
اُن کی آنکھوں کا چھڑا ہے تذکرہ
تذکرہ کیسا کسی اور جام کا
ماسٹر عرفان
لوگ اب مطلب سے ملتے ہیں یہاں
دوستانہ رہ گیا ہے نام کا
سرور کنتوری
زندگی نے سب جڑیں ہی کاٹ دیں
وقت آیا جب مرے آرام کا
دانش رامپوری
بال بچوں کا سوا ماں باپ کے
کون رکھتا ہے خیال آرام کا
شہیب کوثر
جان جانی ہے تو جائے، غم نہیں
ہوں میں شیدائی اسی گلفام کا
ماسٹر علیم ردولوی
اب ترا چہرہ ہے میرے روبرو
آئینہ اب ہے مرے کس کام کا
فضل عثمانی
اس کے علاوہ صغیر نوری، حافظ اثر سیدن پوری، عمران علی آبادی، عاشق رائے بریلوی، مجیب ردولوی، نظر مسولوی، مقصود پیامی، نازش بارہ بنکوی، شاد بڑیلوی، مسٹر امیٹھوی، مطیع اللہ حسینی، شمس زکریاوی، طالب اعلیٰ پوری، کیف بڑیلوی، صبا جہانگیر آبادی اور طفیل زید پوری نے بھی اپنا طرحی کلام پیش کیا۔
یہ دونوں تقریبات بارہ بنکی کے علمی و شعری منظرنامے کو نئی تازگی عطا کرتے ہوئے ایک یادگار ادبی تجربہ ثابت ہوئیں۔
