ڈاکٹر سراج الدین ندوی
چیرمین ملت اکیڈمی۔بجنور
انسانی اعضاء میں زبان کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔انسان کی زبان ہی سے اس کی شخصیت اور کردار کا پتہ چلتاہے۔ زبان سے انسان کے اندرون کا پتہ چلتا ہے۔ انسان جو کچھ سوچتا ہے ۔ جو طوفان اس کے دل ودماغ میں اٹھتا ہے اس کا اظہار زبان ہی سے ہوتا ہے۔
زبان وہ ہتھیار ہے جو دوستی کو دشمنی میں اور دشمنی کو دوستی میں تبدیل کردیتا ہے۔ زبان کا بہتر اور اچھا استعمال دلوں کو جوڑتا، سماج میں خوشبو بکھیرتا، دوستی میں گہرائی پیدا کرتا اور دشمنی کو دوستی میں تبدیل کرتاہے جب کہ زبان کا برا استعمال دلوں کو توڑتا، رشتہ داری کو ختم کرتا،دوستی کو دشمنی میں بدلتا، سماج میں بدبو پیدا کرتا ہے۔ چنانچہ قرآن پاک میں بار بار اچھی بات کہنے پر زور دیا گیاہے۔ فرمایا گیا:
قُوْلُواْ لِلنَّاسِ حُسْناً ۔(بقرہ:۵۸) ’’لوگوں سے اچھی بات کہو۔‘‘
ایک دوسری جگہ اللہ نے اپنے رسول کو یہ ہدایت کی کہ وہ تمام بندگانِ خدا کو یہ پیغام دے دیں کہ وہ سب سے اچھی باتیں کہا کریں۔
ارشاد فرمایا گیا:
وَقُلْ لِّعِبَادِیْ یَقُولُواْ الَّتِیْ ہِیَ أَحْسَنُ إِنَّ الشَّیْْطَانَ یَنْزَغُ بَیْْنَہُمْ إِنَّ الشَّیْْطَانَ کَانَ لِلْإِنْسَانِ عَدُوّاً مُّبِیْناً(بنی اسرائیل:۵۳)
’’اے(نبی) میرے بندوں سے کہہ دیجئے کہ وہ سب سے اچھی بات کہیں۔ بے شک شیطان ان کے درمیان جھگڑا کراتاہے ۔ بے شک شیطان انسان کا کھلا ہوا دشمن ہے۔‘‘
اسلام نے زبان سے صحیح بات کہنے کے سلسلے میں باربار تاکید کی ہے۔
دراصل انسان کے مافی الضمیر اور اس کے دل ودماغ میں پلنے والے خیالات کی ترجمانی زبان کرتی ہے۔ اس لیے زبان بہت سوچ سمجھ کر کھولنی چاہیے۔ جو کچھ بولنا ہو اسے پہلے تول لینا چاہیے۔ زبان سے نکلا ہوا تیر پھر واپس نہیں ہوتا اور نہ ہی زبان کے زخم کبھی بھرتے ہیں۔کسی شاعر نے کیا خوب کہا تھا:
اگر تلوار کے ہوتے تو کب کے بھر گئے ہوتے
مگر یہ زخم تو دل پر تیری باتوں نے ڈالے ہیں
انسان جو کچھ بھی زبان سے کہتا ہے ، وہ سب اللہ تعالیٰ کے یہاں محفوظ ہورہا ہے۔ جدید آلات کی ایجاد کے بعد اس دور میں یہ بات سمجھنا بہت آسان ہوگیاہے کہ انسان کی زبان سے نکلنے والی ہر چیز محفوظ کی جاسکتی ہے۔
انسان کی نیکیاں اور برائیاں لکھنے کے لیے ہر وقت دوفرشتے حاضر رہتے ہیں۔ دائیں طرف والا فرشتہ نیکیاں لکھتا ہے اور بائیں طرف والا فرشتہ برائیاں لکھتاہے۔ انسان کی زبان سے جو بات نکلتی ہے وہ اچھی ہوتی ہے یا بری، اس لیے انسان کو بہت سوچ سمجھ کر بولنا چاہئے۔ زبان کھولنے سے پہلے اسے الفاظ کوتول لینا چاہئے۔
ارشاد ربانی ہے:
مَا یَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَیْْہِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ(ق:۱۸)
’’کوئی لفظ انسان کی زبان سے نہیں نکلتا ہے مگر اسے محفوظ کرنے کے لیے ایک نگراں موجود رہتا ہے۔‘‘
آپ کی زبان سے نکلنے والا ہرلفظ ریکارڈ ہورہا ہے اس لیے آپ یہ طے کرلیجئے کہ آپ جب بھی زبان کھولیں گے تو اس سے اچھی بات کہیں گے۔آپ کی زبان سے لوگ پھول جھڑتے ہوئے دیکھیں۔آپ جس محفل میںہوں اپنی باتوں سے محفل کوعطر بیز کردیجئے۔آپ کی زبان لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھے۔ آپ کے زبان کے تیر ونشتر انسانوں کو زخمی نہ کریں۔
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ آدمی کوئی ایسی بات کہہ دیتا ہے جو اللہ کو خوش کرنے والی ہوتی ہے مگر آدمی کو اس کا اندازہ بھی نہیں ہوتا اور اللہ تعالیٰ اس بندے کے درجات بلند فرمادیتا ہے۔ اسی طرح انسان کوئی بات کہہ دیتاہے جو اللہ کو ناراض کرنے والی ہوتی ہے اور انسان کو اس کا اندازہ بھی نہیں ہوتا اور اسے اس کی وجہ سے جہنم میں ڈال دیا جاتاہے۔(بخاری)
حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے ہوئے سنا:’’تم میں سے کوئی شخص کوئی بات اللہ کی خوشنودی کے لیے بول دیتاہے کہ اسے گمان بھی نہیں ہوتا کہ یہ بات کہاں تک پہنچے گی اور اللہ تعالیٰ اس بات کی وجہ سے اس کے لیے اپنی خوشنودی قیامت تک کے لیے لکھ دیتا ہے۔ اسی طرح تم میں سے کوئی شخص ایسی بات کہہ دیتا ہے جو اللہ کی ناراضگی کی ہوتی ہے اور اسے گمان بھی نہیں ہوتا کہ یہ بات کہاں تک پہنچے گی۔ اس بات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اپنی ناراضگی اس کے لیے قیامت تک کے لیے لکھ دیتا ہے۔ حضر ت ابوبکر صدیق ؓ سے روایت ہے کہ وہ زبان کو پکڑکر فرمایا کرتے تھے کہ اسی نے مجھے مشکلات میں ڈالاہے۔
حضرت عمر کا قول ہے جو زیادہ بولے گا زیادہ غلطیاں کرے گا اور جو زیادہ غلطیاں کرے گا اس کے گناہ زیادہ ہوں گے اور جس کے گناہ زیادہ ہوں گے جہنم اس کے لیے سزاوار ہے۔
اسی لیے زبان کا استعمال بہت سوچ سمجھ کر کیجئے۔زبان کھولئے تو صرف اچھی بات بولئے۔ غلط، جھوٹی، لغو، بے ہودہ بات کے لیے زبان نہ کھولیے۔طعنہ وتشنیع ،گالم گلوچ، اتہام والزام تراشی اور بے بنیاد باتوں سے زبان کو دور رکھئے۔ ایک بارایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے؟ اور رسولﷺ سے عرض کرتاہے:’’ اگر میں اپنی زبان کا بھی مالک نہیں تو پھر کس چیز کا مالک ہوسکتا ہوں؟‘‘ آپ نے فرمایا:’’ کیا تم اپنے ہاتھ کے مالک ہو؟‘‘ انہوںنے کہا:’’ اگر میں اپنے ہاتھ کا بھی مالک نہیں ہوسکتا تو پھر کس چیز کا مالک ہوسکتا ہوں؟‘‘ آپ نے فرمایا:’’ تب اپنی زبان سے صرف بھلی بات کہو اوراپنا ہاتھ صرف بھلائی کی طرف بڑھائو۔‘‘(طبرانی)
مؤمن کی زبان اگر کھلتی ہے توصرف اچھی بات کے لیے ورنہ وہ خاموش رہتی ہے۔ اللہ کے رسول نے ارشاد فرمایا:
مَنْ کَانَ یُوْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیَقُلْ خَیْرًا اَوْلِیَصْمُتْ۔(بخاری)
’’تم میں جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے ورنہ خاموش رہے۔‘‘
حضرت براء بن عازب بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ!’’ مجھے کوئی ایسا عمل بتادیجئے جو مجھے جنت میں لے جائے۔‘‘آپ نے فرمایا:
’’بھوکے کو کھانا کھلائو، پیاسے کو پانی پلائو، بھلائی کا حکم دو، برائی سے روکو، اور اگر یہ کچھ نہ کرسکو تو اپنی زبان کو بھلی بات کے علاوہ تمام باتوں سے روکو۔(ابن حبان)
انسان کو بالکل خاموش بھی نہیں رہنا چاہیے کہ وہ ہر وقت اپنی زبان بند رکھے۔ زبان اللہ کی نعمت ہے۔ اس لیے اس نعمت سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور زبان کو اپنے فائدہ ، لوگوں کے فائدہ اور دین اسلام کے فائدے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاموشی کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ایک عورت زبان کو خاموش رکھ کر حج کررہی تھی۔ حضرت ابو بکرنے اس سے فرمایا:’’ یہ جائز نہیں ہے، یہ جاہلیت کا عمل ہے۔‘‘ حضرت علی کی روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح سے شام تک چپ رہنے سے منع فرمایا۔
ایک بار حضرت احنف بن قیس کی مجلس میں لوگوں میں اس بات پر تبادلۂ خیال ہوا کہ خاموشی زیادہ بہتر ہے یا بولنا، کچھ لوگوںنے کہا کہ خاموشی زیادہ بہتر ہے۔ کچھ لوگوں نے کہا بولنا زیادہ بہتر ہے۔ حضرت احنف بن قیس نے فرمایا:’’ بولنا زیادہ بہتر ہے کیوں کہ خاموشی کی بھلائی آدمی کی اپنی ذات تک محدود رہتی ہے اور اچھی بات سے سننے والوں کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔
ایک بادشاہ نے اپنے باورچی سے کہا:’’مجھے دنیا کا سب سے اچھا کھانا کھلائو‘‘ ۔ جب دستر خوان لگا تو بادشاہ نے دیکھا کہ زبان کا گوشت دسترخوان پر لگا ہوا ہے۔ خیر بادشاہ نے تناول کرلیا۔
اگلے دن بادشاہ نے باورچی سے کہا کہ آج ہمیں دنیا کا سب سے خراب کھانا کھلائو۔ جب بادشاہ کھانا کھانے کے لیے دستر خوان پر گیا تو یہ دیکھ کر بہت حیران ہوا کہ دستر خوان پر زبان کا گوشت موجودہے۔ بادشاہ نے باورچی سے کہا:’’ یہ کیا حرکت ہے؟ کل تم نے سب سے اچھے کھانے کے طور پر زبان کا گوشت پیش کیا تھا اور آج تم نے سب سے برے کھانے کے طور پر بھی زبان کا گوشت دستر خوان پر سجایا ہے۔‘‘
باورچی نے کہا:
’’بادشاہ سلامت زبان انسان کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے۔اسی سے انسان کلمہ توحید ادا کرکے جنت کا مستحق بنتا ہے۔ یہ پھٹے ہوئے دلوں کو جوڑتی ہے۔ دشمنی کو محبت میں بدلتی ہے۔ سماج میں پیار کی خوشبو بکھیرتی ہے۔
مگر زبان ہی انسان کے لیے سب سے بڑی مصیبت ہے۔ اسی سے انسان کلمۂ کفر ادا کرکے جہنم کا مستحق بنتا ہے۔ زبان ہی لوگوں میں جھگڑاکراتی ہے۔یہ غلط استعمال کرنے والے کو خوب یہ محبت کو نفرت میں بدل کر رکھ دیتی ہے۔ یہ برائی پر اترآئے تو سماج میں فتنہ وفساد پیدا کرتی اور اسے بدبودار بنا دیتی ہے‘‘۔
