ذاکر حسین
بانی:الفلاح فاؤنڈیشن (بلڈ ڈونیٹ گروپ)
صبح سورج طلوع ہونے سے پہلے وہ گھر کیلئے روانہ ہو گیا تھا۔ اسے وداع کرنے والوں میں الماس، الماس کے والد، والدہ اور بہن حنا شامل تھے۔ روانگی کے وقت شرجیل نے الماس کی آنکھوں میں تیرتے آنسو کو صاف محسوس کیا تھا، آٹو تیز رفتاری سے مین شاہراہ پر اپنی منزل کی جانب گامزن تھا۔ وہ خیالوں میں ڈوبا ماضی کو یاد کرنے لگا۔ کس ڈرامائی انداز میں الماس اور اس کی فیملی سے اس کے رشتے کی ڈور بندھی تھی۔ ایسا رشتہ جس کو کیا نام دیا جائے؟ سمجھ سے بالاتر تھا۔حیرت ہوتی تھی کہ جہاں خون کے رشتے، رشتوں کا روز گلا گھونٹتے ہیں، وہیں اجنبی رشتے کس قدر آپ کے جذبات آپ کے غموں کو موتیوں کی مالا پروکر خود میں جذب کر لیتے ہیں۔شرجیل کا من اداس تھا، وجہ کیا تھی،وہ خود نہیں سمجھ پا رہا تھا۔ شاید الماس اور اس کی فیملی کا اس کیلئے بے پناہ خلوص، محبت پھر ان سے آخری لمحات کی خاموشی ملاقات، خیالوں میں ڈوبا وہ کب شہر کے بس اسٹینڈ تک پہنچا، اسے خبر بھی نہیں ہوئی۔ آٹو والے کی آواز پر وہ چونکا، پیچھے مڑکر دیکھا تو باقی مسافروں سے آٹو خالی ہو چکا تھا۔ اس نے آٹو سے اتر کر بس کی جانب دوڑ لگائی۔ بس تقریباً چل چکی تھی۔چڑھتی سانس پر کنٹرول کرتے ہوئے اس نے سیٹ پر بیٹھ کر آنکھیں موند لیں۔ پھر دوبارہ انہیں خیالات نے ذہن کی دہلیز پر دستک دی۔ دراصل اصلی رشتے خون کے نہیں اپنائیت، خلوص، محبت کے ہوتے ہیں، اسی لئے تو اکثر اوقات خون کے رشتوں سے کہیں زیادہ اجنبی افراد رشتوں کا مان رکھتے ہیں۔ وہ آپ کے غم اور مشکل اوقات میں آپ کے سر پر اس طرح سے دست شفقت پھیرتے ہیں کہ گویا جیسے وہ آپ کا اپنا کوئی ہو، الماس اور اس کے اہل خانہ نے اس کے ساتھ اسی احساس کو منسوب کر دیا تھا۔ الماس، تم ہمیشہ سلامت رہنا، تم ان خوش قسمت لوگوں میں سے ہو، جنہیں اتنا پیار، اتنے لگاؤ کی سوغات ملی ہو، میں نے روانگی کے وقت تمہاری آنکھوں میں امنڈتے آنسو کو محسوس کیا تھا، حنا کے مسکراتے چہرے کے پیچھے چھپے غم کو بھی محسوس کیا تھا، چچی کو مجھ سے بچھڑنے کا غم اور چچا کی خاموش آنکھوں میں اپنے لئے احترام کو یاد کر وہ مسکرایا اور زیر لب بڑبڑایا، رشتے جذبات کے ہوتے ہیں، خون کے نہیں۔۔ بس آگے بڑھ چکی تھی، وہ دور جاتی بس کو آنکھوں سے اوجھل ہوتے ہوئے دیکھتا رہا۔
