امت مسلمہ کے اچھے دن اگرچہ دور ہیں مگر مایوسی کی کوئی ضرورت نہیں
عبدالغفارصدیقی
مشرق وسطیٰ میںوہی ہوا جس کا امکان یا اندیشہ تھا ۔یعنی امریکہ نے ایران پر براہ راست حملہ کردیا ۔براہ راست کا لفظاس لیے استعمال کیا گیا ہے کہ اسرائیل کے ذریعہ تو وہ ایران پر پہلے سے ہی حملہ آور تھا ۔تاحال ایران سے کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ہے ۔اسرائیل نے ایران پر حملہ بھی اپنے آقا کے اشارے پر ہی کیا تھا ۔یہ الگ بات ہے کہ وہ اب پچھتا رہا ہے کہ اس نے ایران پر حملہ کرنے کی حماقت کیوں کی ؟لیکن گیدڑ کی جب موت آتی ہے تو وہ شہر کی طرف بھاگتا ہے ۔ایسا ہی معاملہ اسرائیل کے ساتھ ہوا ۔اس نے یہ بھی نہیں سوچا کہ جب وہ پونے تین سال کی جنگ میں مزاحمتی تحریکوں پر فتح نہیں پاسکا تو ایران پر فتح کیسے حاصل کرسکتا ہے ؟غزہ اگرچہ کھنڈر بن گیا ہے ۔وہاں زندگی اجیرن ہوگئی ہے ۔لیکن حماس اپنی جگہ قائم ہے ،اورسات اکتوبر جیسے دم خم کے ساتھ ہی باقی ہے ،غزہ کے کھنڈروں سے اسرائیل پر راکٹ فائر ہورہے ہیں ،بچے کھچے قیدی بھی حماس کے پاس ہیں اور اسرائیل ان کا پتا لگانے میں ناکام ہے ۔لبنان میں حزب اللہ موجود ہے ۔یمن کے ہوتی اسرائیل پر میزائلوں کی بارش کررہے ہیں ،بحر احمر سے اسرائیل کے جہاز نہیں نکل رہے ہیں ،عراق کی مزاحمتی تحریکیں بھی اپنی جگہ نہ صرف موجود ہیں ،بلکہ مزید طاقت ور ہوئی ہیں ۔یہ مزاحمتی تحریکیں ہیں ،اپنے اپنے ملک کے اقتدار میںکہیں جزوی طور پر شریک ہیں ،اور کہیں بالکل نہیں ہیں،البتہ جہاں جزوی شرکت بھی ہے جیسا کہ لبنان میں تو وہاں بھی موجودہ حکومت کی کوئی حمایت انھیں حاصل نہیں ہے ۔جب کہ ایران ایک ملک ہے ،اس کے پاس فضائیہ کے علاوہ سب کچھ ہے ،فضائیہ کے لیے بھی اس کے پاس دفاعی نظام ہے ،میزائل اور ڈرون ہیں ،اس کے میزائل اور ڈرونز اسرائیل پر قہر برپا کررہے ہیں ۔حائفہ اور تل ابیب میں تباہی کے مناظر ہیں ،شیلٹرس کی طرف بھاگتے عوام ہیں ،بنجامن نیتن یاہو کے خلاف بڑھتے ہوئے مظاہرے ہیں ۔لاکھوں لوگ اسرائیل سے بھاگ رہے ہیں،ہوائی اڈے اور فضائی حدود بند کردی گئی ہیں۔یہ حالات یہ بتارہے ہیں کہ اسرائیل شکست کھارہا ہے ۔یہ بھی خبر ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم اپنے ملک میں نہیں ہے ۔
یوں تو تمام ہی مغربی اور یوروپی ممالک اسرائیل کے پشت پناہ رہے ہیں ،لیکن امریکہ نے اسرائیل کو ہمیشہ اپنی اولاد کی طرح دیکھا ہے ۔مشرق وسطیٰ کے جن ممالک کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے تباہ کیا ہے ان سب کی وجہ اسرائیل کے مفادات ہیں ۔چاہے وہ عراق ہوشام ہو یا لیبیا۔مڈل ایسٹ میں جو ملک ذرا بالغ ہوااور اسرائیل کو محسوس ہوا کہ وہ اس کے لیے کوئی خطرہ پیدا کرسکتا ہے اسی پر امریکہ نے حملہ کردیا اور تباہ کردیا۔مگر اس کے نتیجہ میں پورے خطہ میں مزاحمتی تحریکیں قائم ہوگئیں اور انھیں عوام کی حمایت بھی حاصل رہی ۔
اسرائیل کے دفاع میں امریکہ نے کئی ممالک کی حکومتوں کو گرادیا ،وہاں کی رجیم تبدیل کردی اور اپنے پیادوں کو حکمراں بنادیا ۔ساری دنیا میں جمہوری عمل کا راگ الاپنے والے امریکہ نے 1953میں ایران کی جمہوری حکومت کا تختہ پلٹ کر شاہ رضا پہلوی کو ایران کے تحت پر بیٹھاد یا۔اس نے ترکی میں کئی مرتبہ منتخب حکومت کو فوج کے ذریعہ برطرف کرادیا ،پاکستان میں بھی یہ کھیل جاری ہے ،مصر میں اخوان کی منتخب جمہوری حکومت کو گرانے میں امریکہ کا اہم کردار ہے ۔شام میں اس نے اپنے مفاد کی خاطر احمد الشرع کو گلے لگالیا ،جب کہ اس پر دہشت گردی کا الزام ہے اور اس کی گرفتاری پر انعام کا اعلان بھی امریکہ نے ہی کررکھا تھا ۔اب یہی کام(منتخب جمہوری حکومت گرانے کا کام) وہ موجودہ ایران میں کرنا چاہتا ہے ۔وہ سمجھتا ہے کہ ایران کی موجودہ مذہبی حکومت جو خطہ کی مزاحمتی تحریکات کو ہر طرح سے سپورٹ کررہی ہے وہ اسرائیل کے لیے خطرہ ہے ۔
امریکہ نے اسرائیل کے لیے اپنا سب کچھ دائوں پر لگادیا ،ہزاروں ملین ڈالرز کے ہتھیار دیے ،نقد رقم دی ،اپنی اخلاقی حیثیت کو مجروح کیا،جس سے اس کی عالمی رہنمائی کو چلینج کیا جانے لگا۔یو این او سمیت تمام عالمی اداروں میں اس کے خلاف کوئی رزولیوشن پاس نہیں ہونے دیا ۔سلامتی کونسل کے 5؍ جون2025کے اجلاس میں غزہ جنگ بندی کی تجویز کوبھی امریکہ نے ویٹو کردیا اور اس صورت حال میں ویٹو کردیا کہ بقیہ تمام ممالک اس کی حمایت میں تھے ،دوسری طرف امریکی صدر نے دو ہفتہ پہلے ہی مڈل ایسٹ کا دورہ کیا تھااور کروڑوں ڈالرس کے تجارتی معاہدے کیے تھے ۔اس نے ویٹو کرتے وقت ذرا بھی شرم و لحاظ نہیں کی ۔شاید وہ سمجھتا ہے کہ عرب ورلڈ اس کا غلام ہے ۔
سوال یہ ہے کہ امریکہ یا اس کے حلیف ممالک اسرائیل کی اس قدر پشت پناہی کیوں کرتے ہیں ؟اس کا جواب یہ ہے کہ وہ اسرائیل کے ذریعہ مشرق وسطیٰ کو کنٹرول کرتے ہیں ،اپنے مفادات کی حفاظت کرتے ہیں ،عربوں کو اسرائیل کا ڈر دکھا کر دولت لوٹتے ہیں اور اسرائیل کو عربوں کا ڈر دکھا کر ہتھیار بیچتے ہیں ۔دوسری وجہ یہ ہے کہ ساری دنیا میں یہودیوں کا اپنا کوئی ملک نہیں ہے ،سوائے اس مقبوضہ خطہ کے جسے اسرائیل کہا جاتا ہے ۔یہ سرزمین ان کے لیے مذہبی اعتبار سے بھی مقدس ہے اور وہ یہاں سے دوہزار سال پہلے عیسائی بادشاہوں کے ذریعہ ملک بدر کردیے گئے تھے ۔اس دربدری کے نتیجہ میں وہ کئی ممالک میں پناہ گزیں کی حیثیت میں رہے اور کئی ممالک نے ان کو اپنی شہریت بھی دے دی ،لیکن اپنی سازشی فطرت کے مطابق وہ ہر ملک کے لیے مسئلہ بنے رہے ،ہٹلر نے ان کا قتل عام بھی ان کی سازشی ذہنیت کی بنا پر ہی کیا تھا ۔اس لیے جب برطانیہ نے اپنی کالونیوں کو آزادی کا پروانہ دیا تو یہودیوں کے مطالبہ پر فلسطین کا ایک حصہ ان کو تحفہ میں دے دیا ۔اب مشکل یہ ہے کہ اگر اسرائیل شکست کھاتا ہے اور یہودی ایک بار پھر فلسطین سے نکالے جاتے ہیں ،تو پھر یوروپی اور مغربی ممالک کے لیے مسئلہ بنیں گے ۔اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ اسرائیل شکست نہ کھائے اور محفوظ رہے ۔
مشرق وسطیٰ کی جنگی صورت حال پر مسلمانوں میں تشویش کا پایا جانا فطری امر ہے ۔بعض مسلم نوجوانوں کو میں نے یہ کہتے سنا کہ ’’ اس طرح تو امریکہ ایک ایک کرکے سارے اسلامی ملکوں کو کھاجائے گا۔‘‘ میں نے نئی نسل کے چہروں پر خوف اور مایوسی کے اثرات دیکھے ۔یہ نوجوان خاص طور پر وہ ہیں جو جدید تعلیم یافتہ ہیں ،کسی اسلامی یا مزاحمتی تحریک سے وابستہ نہیں ہیں ۔میں ایسے نوجوانوں سے یہ عرض کرتا ہوں کہ پہلے تو وہ اسلام کو سمجھیں ،پھر دنیا میں اسلام اور باطل کی کشمکش کی تاریخ پڑھیں ،اسی کے ساتھ موجودہ دور میں اسلامی تحریکات کی جدو جہد سے واقفیت حاصل کریں ،ساتھ ہی باطل کی شکست پر بھی نظر رکھیں تو ان شاء اللہ انھیں مایوسی نہیں ہوگی ۔ایک نوجوان سے میں نے کہا کہ ’’ آپ ایک ایسے زمانے میں پیدا ہوئے ہیں جب کہ تقریباً تین صدی سے مسلمان زوال کا شکار ہیں ،اگر آپ سولہویں صدی میں پیدا ہوئے ہوتے یعنی جس وقت ہندوستان میں اکبر اعظم ،ایران میں عباس اعظم اور ترکی میں سلمان اعظم تحت سلطنت پر جلوہ افروز تھے اور دنیا کے تین چوتھائی حصہ پر مسلمانوں کا راج تھا ،تو آپ یہ سوچتے کہ مسلمانوں کے علاوہ باقی لوگوں کا جینا بے کار ہے ،ہر طرف سبز اسلامی پرچم لہرارہا تھا ۔‘‘قومیں ایک گلوب کی مانند ہیں ،جو حصہ سورج کے سامنے آجاتا ہے وہیں دن ہوجاتا ہے اور باقی حصہ تاریکی میں ڈوب جاتا ہے ۔البتہ یہ جائزہ ضرور لینا چاہیے کہ کن اسباب کی بنا پر کوئی قوم سلطانی سے محروم کردی جاتی ہے ۔
امریکہ نے اگر ایک طرف بعض اسلامی ممالک میں اپنی فتح کا پرچم لہرایا ہے تو بعض مقامات پر اسے ذلت آمیزشکست بھی ہوئی ہے ۔جس کی تازہ مثال افغانستان ہے ۔جہازوں پر لٹک کر جس طرح وہ بھاگے ہیں کوئی غیرت مند ہوتا تو اپنی حرکتوں باز آگیا ہوتا۔اسی طرح چند ماہ قبل بحر احمر کے تنازع پر ہوتیوں سے جو سیز فائر کا معاہدہ کیا گیا ہے اس میں امریکہ کی شکست ہے ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ کے دن پورے ہوچکے ہیں ۔ڈونالڈ ٹرمپ جس طرح کے احمقانہ فیصلہ کررہا ہے ،اور اس کو خود بھی نہیںمعلوم کہ وہ کل کیا فیصلہ کرنے والا ہے اس سے بھی امریکیوں کو اپنی تباہی صاف نظر آرہی ہے ۔امریکہ کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہے کہ بھاری اکثریت سے کامیاب ہونے والا صدر اپنے پہلے سو دنوں میں ہی مقبولیت کھوچکا ہے اور اس کے ووٹروں کو اپنی غلطی کا احساس ہونے لگا ہے ۔اس کے خلاف عدالتوں میں مقدمات اور سڑکوں پر مظاہرے ہیں،مشرق وسطیٰ کے تنازع میں جس طرح امریکہ تمام عالمی قوانین کی دھجیاں اڑا رہا ہے ،پہلے بھی اڑاتا رہا ہے ،لیکن پہلے اس کواپنی عوام کی حمایت حاصل تھی آج اس سے وہ کسی حد تک محروم ہے ،ساتھ ہی اس کے حامی ممالک میں بھی پہلا سا جوش و خروش دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ اس جنگ میں نہ صرف شکست کھائے گا بلکہ اس کا ورلڈ آڈر بھی زمیں دوز ہوجائے گا اور جس طرح سویت روس کے حصے ہوئے تھے اسی طرح امریکہ کے بطن سے 50ممالک کا ظہور ہوگا۔
سوال یہ ہے کہ امریکی شکست و ریخت سے کیا امت مسلمہ کو عروج حاصل ہوگا؟میرا اندازہ ہے کہ امت مسلمہ بحیثیت مجموعی ابھی اقتدار سنبھالنے کی صلاحیت سے محروم ہے ۔ مابعد امریکہ جس طاقت کو عروج حاصل ہوگا وہ چین ہے ۔امریکہ کی کشتی ڈوبنے کے بعد دنیا پر چین کی حکمرانی ہوگی ،ممکن ہے کہ اس میں روس کا بھی دخل کا حق ہو۔چین کا یہ عروج کچھ عرصہ کے لیے مسلمانوں کو راحت دے گا ۔لیکن اس کے بعد چین بھی اسی پوزیشن پر آجائے گا جس پر آج امریکہ ہے ۔ہر طاقت ور ایک مدت کے بعد ظالم ہوجاتا ہے اور ہر ظالم کے لیے ایک موسیٰ پیدا ہوتا ہے ۔ابھی امریکہ کو شکست دینے والی طاقتیں مسلم نہیں ہیں بلکہ روس اور چین ہیں ۔ایران بھی انھیں کی ٹیکنالوجی کے سہارے میدان میں ہے ۔ ایران کی فتح اپنی نہیں ہوگی بلکہ روس اور چین کی ہوگی اس لیے وہی مال غنیمت کے بھی حق دار ہوں گے ۔امت مسلمہ کو ابھی مزید انتظار کرنا ہوگا ۔شاید اگلے سو سال ۔یہ اس کی تیاری پر منحصر ہے کہ وہ کتنی کم مدت میں خود کو عالمی قیادت کے قابل بناتی ہے۔
