نیپال میں تعلیمی اصلاحات کی ضرورت

ابوسعود محمدھارون انصاری ………………….سینئر صحافی

جنوبی افریقہ کے عظیم رہنما نیلسن منڈیلا نے کہا تھا کہ ’’تعلیم دنیا کو بدلنے کا ایک طاقتور ہتھیار ہے‘‘۔درحقیقت تعلیم کے بغیر نفوس انسانیہ کی حقیقت اور وجود بے معنی ہے، جو قوم تعلیم سے عاری رہتی ہے اس کا مقدر تنزلی،پستی کے علاوہ کچھ بھی نہیں، اللہ جو خلاق دو عالم ہے اس نے جب حضرت آدم کی تخلیق کی تو انہیں ساری چیزوں کے نام سکھائے۔ آدم سے لیکر آخری نبی تک جتنے بھی انبیاء و رسل دعوت دین کے لئے مبعوث کئے گئے اُن سب کو اللہ جل شانہ نے دین حنیف کی تعلیم دی، اب وہ چاہے وحی کے ذریعہ ہو یا الہام۔ دنیا فانی کے آخری رہنما کا پیغام بھی تعلیم حاصل کرنے کا تھا اور رحمت دوعالم بھی انسانیت کی خیر و بھلائی کے لئے زانوئے تلمذ جبریل امین کے سامنے تہہ کئے۔ اور دنیا کی مہتم بالشان آسمانی کتاب "قرآن” کی پہلی آیت "اقراء” ہے اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ بنی نوع انسانی کے عروج کے لئے تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے، کیونکہ حقیقت کی معرفت علم کے بغیر ناممکن ہے۔ یہی وجہ ہے بڑے بڑے سلاطین اپنے گھروں میں بچوں کی تعلیم و تربیت کا ازخود انتظام کرتے تھے اور اپنی سلطنت میں اسکول بھی قائم کراتے تھے جس کے اخراجات خود پورا کرتے تھے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین اور صحابیات سیکھتے اور سکھاتے پڑھتے اور پڑھاتے تھے، یہاں کہ دور نبوی میں پڑھے لکھے قیدیوں کو سکھانے پڑھانے کے عوض آزاد کردیا جاتا تھا۔
حقیقت ہے مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ تعلیم ہی معاشرے کی مجموعی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے لیکن اس کی حالت قابل رحم ہے۔ اگرچہ ملکی آئین، قومی اور بین الاقوامی قانونی دستاویزات میں تعلیم کے شعبے کو ترجیح دی گئی ہے، لیکن اس کا موثر نفاذ مشکل نظر آتا ہے۔ تعلیم کو پوری انسانی زندگی کو مہذب اور پائیدار ترقی میں حصہ داری کے قابل بنانے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ موجودہ دور میں قومی اور بین الاقوامی تعلقات کو مضبوط بنانے، سماجی انصاف اور معاشی ترقی میں تعلیم کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ عالمگیریت کی وجہ سے تعلیم افراد، برادریوں اور قوموں کی خوشحالی کے لیے ایک ناگزیر ذریعہ بن چکی ہے۔ تاہم نیپال جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے ایک جامع اور جدید تعلیمی نظام کی تعمیر کے لیے سنجیدہ اصلاحات کی ضرورت ہے۔

قانونی دفعات اور ان کی اہمیت:-
نیپال کے آئین کے آرٹیکل 31 میں تعلیم کے حق کو بنیادی حق قرار دیا گیا ہے۔ آرٹیکل 51 کے ہدایتی اصول میں ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ مساوات، جامعیت اور تعلیم کے معیار کو یقینی بنائے۔ اس کے علاوہ لازمی اور مفت تعلیم کے ایکٹ 2075 میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہر شہری کو لازمی اور مفت بنیادی تعلیم حاصل کرنے کا حق حاصل ہے اور ثانوی سطح تک مفت تعلیم حاصل کرنے کی سہولت فراہم کی جائے گی، معذور افراد، دلتوں، قبائلی قبائل، کے لیے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے۔ ریاست کو سماجی انصاف کے ساتھ تعلیم فراہم کرنے کی ذمہ داری بھی اٹھانی چاہیے۔ اسی طرح جان ڈیوی نے اس بات پر زور دیا کہ نظام تعلیم کو معاشرے کی حقیقی ضروریات سے مربوط ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق تعلیم زندگی کے لیے نہیں، زندگی تعلیم کے لئے ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ نیپال کی حکومت نے ایجوکیشن ایکٹ 2028 کے ذریعے اسکول کی تعلیم، انتظام، نصاب اور امتحانات کو بہتر بنانے کے لیے ایک قانونی فریم ورک تیار کیا ہے۔ تعلیمی ایکٹ 2075 اور بنیادی اور ثانوی تعلیم کے ضوابط 2077 میں تعلیم کے معیار کو بڑھانے اور آسان رسائی پر زور دیا گیا ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی 2076 کا مقصد بچوں کی جامع اور معیاری تعلیم تک رسائی کو بنیادی ترجیح کے طور پر یقینی بنانا ہے۔ بین الاقوامی معاہدوں اور اعلانات نے نیپال کے تعلیمی شعبے پر بھی گہرا اثر ڈالا ہے۔ انسانی حقوق کے اعلامیہ 1948 کا آرٹیکل 26 ہر شخص کو تعلیم کے حق کی ضمانت دیتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ملینیم ڈیولپمنٹ گولز کا مقصد 2030 تک سب کے لیے جامع، مساوی اور معیاری تعلیم فراہم کرنا ہے۔ اسی طرح 1989 کے کنونشن آن دی رائٹس آف چائلڈ کا آرٹیکل 28 تعلیم تک رسائی کو بچوں کا بنیادی حق تسلیم کرتا ہے۔ ان قانونی دفعات میں تعلیمی شعبے میں اصلاحات کے لیے ضروری رہنما اصول فراہم کیے گئے ہیں لیکن قانونی دفعات پر موثر عمل درآمد کا فقدان نظر آتا ہے۔ مثال کے طور پر نیپال میں دور دراز علاقوں میں اسکولوں تک رسائی ناقص ہے، معیاری اساتذہ کی کمی ہے، اور بہت سے اسکولوں میں ضروری وسائل اور بنیادی ڈھانچے کی کمی ہے۔ اس کے علاوہ تعلیم کی سیاست کرنے اور پالیسی پر عمل درآمد کی کمزوری نے تعلیمی نظام کو کمزور کر دیا ہے۔

تعلیم کے شعبے میں چیلنجز:-
تعلیمی اصلاحات کا سب سے بڑا چیلنج ملک میں عدم مساوات کی صورتحال ہے۔ ہمالیوں، پہاڑیوں اور ترائی کے مختلف جغرافیائی علاقوں کے درمیان جسمانی، معاشی اور سماجی فرق تعلیم میں بہت زیادہ تفاوت کا باعث بنا ہے۔ مثال کے طور پر نیپال کے دور دراز دیہات میں بہت سے بچے اب بھی اسکول سے باہر ہیں۔ وزارت تعلیم کی رپورٹ کے مطابق دیہی علاقوں میں 15 فیصد بچے بنیادی تعلیم مکمل کرنے سے قاصر ہیں۔ نیپال میں تعلیم کے شعبے تک مساوی رسائی نہ ہونے کی وجہ سے بعض طبقات اور علاقوں کے طلباء معیاری تعلیم سے محروم ہیں۔ دیہی علاقوں میں بچوں کے اسکول جانے کی شرح شہروں کے بہ نسبت کم ہے۔ 2079/80 کی رپورٹ کے مطابق دیہات میں پرائمری اسکول جانے کی شرح 74 فیصد اور شہروں میں پرائمری اسکول جانے کی شرح 91 فیصد ہے۔ اسی طرح 2079/80 کی رپورٹ کے مطابق تعلیم کا معیار اب بھی چیلنجنگ ہے۔ طلباء کے سیکھنے کی صلاحیت توقع سے کم ہے۔ اسکولوں میں طلباء کی باقاعدہ حاضری 70 فیصد ہے اور پرائمری سطح پر اسکول چھوڑنے کی شرح 14 فیصد اور سیکنڈری سطح پر 23 فیصد ہے۔نیز اساتذہ کی کمی اور معیاری اساتذہ کی کمی سے تعلیمی معیار متاثر ہو رہا ہے۔ 2079/80 کی رپورٹ کے مطابق پرائمری سطح پر تربیت یافتہ اساتذہ کی شرح 65 فیصد ہے، جبکہ سیکنڈری سطح پر تربیت یافتہ اساتذہ کی شرح 70 فیصد ہے۔ اسکولوں میں ضروری انفراسٹرکچر کی کمی طلباء کے تعلیمی ماحول کو متاثر کر رہی ہے۔ 45 فیصد اسکولوں کی عمارتوں کی مرمت اور بہتری کی ضرورت ہے۔ بیت الخلاء کی سہولیات کا فقدان 30 فیصدہے اور بعض اسکولوں میں بیت الخلاء سرے سے نہیں ہے۔ فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم کا فقدان روزگار اور انٹرپرینیورشپ کے شعبے میں مسائل کا باعث بن رہا ہے۔ فنی تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کی تعداد صرف 15 فیصد ہے جو کہ مقررہ رقم سے بہت کم ہے۔ ایک اور چیلنج تعلیم کا معیار ہے۔ نیپال کی مجموعی گھریلو پیداوار میں تعلیم کے شعبے کا بجٹ کم ہے۔ اتنے کم بجٹ میں معیاری تعلیم فراہم کرنا ناممکن ہے۔ تعلیم میں نصاب تعلیم کے بجائے روایتی علم پر زور دیتا ہے۔سماجی اور معاشی پہلوؤں میں تعلیم کی بہتری کے لیے بھی چیلنجز درپیش ہیں۔ غربت اور بے روزگاری کی وجہ سے بہت سے والدین اپنے بچوں کو سکول بھیجنے سے قاصر ہیں۔ اگرچہ ڈیجیٹل تعلیم کا بروقت مطالبہ ہے، لیکن اکثر اسکولوں میں انٹرنیٹ، کمپیوٹر اور سمارٹ کلاس روم جیسی سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔ دوسری جانب بچوں کی شادی، چائلڈ لیبر اور صنفی امتیاز نے مزید مسائل پیدا کیے ہیں۔

حل اور نفاذ کے اقدامات:-
تعلیم کی بہتری کے لیے معیاری قانونی نظام کا نفاذ، وسائل کی مساوی تقسیم اور تعلیم کو سب کے لیے قابل رسائی بنانا ضروری ہے۔ بین الاقوامی پریکٹس کے مطابق اقوام متحدہ کا فریم ورک فار ایکشن آن ایجوکیشن رکن ممالک سے سفارش کرتا ہے کہ وہ تعلیم کو سب کے لیے قابل رسائی، جامع اور معیاری بنائیں۔ نیپال کو اس فریم ورک کو مؤثر طریقے سے اپنانا چاہیے۔ نیز تعلیم میں تکنیکی اور پیشہ ورانہ مضامین کو شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ فی لینڈ اور سنگاپور جیسے ممالک نے تعلیم میں تجرباتی اور اختراعی طریقے اپنا کر کامیابی حاصل کی ہے۔ نیپال ان مشقوں سے سیکھ سکتا ہے اور اپنے نصاب اور تدریسی طریقوں کو بہتر بنا سکتا ہے۔ تعلیم میں ڈیجیٹل ٹولز کے استعمال، اساتذہ کی تربیت اور صلاحیت سازی، اور طلباء کے نفسیات کو سمجھ کر تدریسی طریقوں کو تیار کرنا ضروری ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ تمام شہریوں تک قانونی طور پر تعلیم کے حقوق اور سہولیات پہنچانے کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی کرے۔
آئین کی متعین شقوں پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے وزارت تعلیم ،ذمہ داران ادارے واضح کردار ادا کریں۔ حکومت کو تعلیم کے شعبے میں بجٹ بڑھانے کی ضرورت ہے۔ یونیسکو کی تجویز کے مطابق کل بجٹ کا کم از کم 20 فیصد تعلیم پر خرچ کیا جانا چاہیے۔ سکولوں کی اصلاح کے لیے لوکل گورنمنٹ کے کردار کو مضبوط کیا جائے۔

پرائمری اسکول ومدارس میں نصاب تعلیم کا فرق اور اصلاح:
آج نیپال میں پرائمری اسکول کالجز اور مدارس کے مادی حالات پہلے کے بالمقابل تشفی بخش ہیں مگر افسوس یہ ہے کہ تعلیمی انحطاط نے مستوی کو خراب کردیاہے۔ماہر اساتذہ کی ٹیمیں مفقود ہیں انکے خدمات سے ادارے قاصر ہیں۔مدارس میں روایتی تعلیم کا انتظام ہے جہاں نصاب تعلیم میں کوئی جدت نہیں ہے، ذمہ داران مدارس کی توجہ اور انکےدن بھر کے تھکان کا ایک ہی مقصد مشروعات کی تجسس اور خوردونوش کا اعلی انتظام،بعص مدارس میں طلباء کو وزارت تعلیم سے ملنے والی سہولیات میں کٹوتی یا پورا کا پورا غائب کردینا بھی شامل ہے۔سال 2024 اور 2025 میں سرحدی علاقوں میں قائم کچھ مدارس میں نصاب تعلیم کو مخلوط پایا گیا جہاں نیپالی زبان میں کتاب کی موجودگی میں ھندی زبان میں کتابیں بھی شامل کرکے طفل نوخیز کے ناتواں کندھوں کو بوجھل کردیا گیا۔ مدارس کے نصاب تعلیم میں مساوات نہیں ہے،نہ ہی اسکو جدید اختراعی بنانے کی کوشش ہے۔ایسے میں نونہال بچوں کا مستقبل نہ مدارس سے جڑ سکتا ہے نہ اس قابل ہونگے کہ حکومت کے گرانٹ پر کھرے اتر سکیں۔ اس لئے ذمہ داران مدارس نصاب تعلیم کو درست کریں اور نصاب میں ابتدائی درجات اعدادیہ سے لیکر اوپر کے کلاسز تک مفید اور ضروری کتابیں ہی باہم رائے اور مشورہ سے شامل کریں،تعلیمی میدان میں آپسی تال میل بہت ضروری ہے، روایتی طریق تدریس کو اپڈیٹ کریں اور مستحکم تعلیم پر فوکس دیں، اسکول کالجز مدارس قوم کی امانت ہیں جب آپ کا ذہن اس بات قبول کرے گا تبھی ممکن ہے۔ طلباء امانت ہیں امانت میں خیانت نہ کریں اور نہ ہی خائن بنیں۔
حکومت نیپال، وزارت تعلیم اسکول کالجز اور دیگر تعلیمی مراکز کے تعلیم کو ٹھوس بنانے کے لئے مذکورہ دفعات کو یقینی بنائے تاکہ نیپال میں تعلیم کا گرتا ہوا گراف بڑھے اور ملک ترقی کے راہ پر گامزن ہو۔ پہاڑوں میں اسکولی بچوں کو اسکول رسائی میں جن دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اس کے حل اور تدارک کے لئے پہل کرے، کیونکہ بعض مقامات پر یہ بچے کیبل کے ذریعہ ندی، نالوں اور جھیلوں کو عبور کرتے پائے جاتے ہیں جس میں شامل چھوٹے چھوٹے بچے بھی ہوتے ہیں، جانی نقصانات کا خطرہ ہمیشہ بنا رہتا ہے۔ لوکل گورنمنٹ ( صوبائی حکومت) اپنا فرض منصبی سمجھتے ہوئے آمد و رفت کو سہل بنائے اور مرکزی حکومت سے مطالبہ کرکے مکمل سہولت دینے کا پابند بنے۔ اونچی عمارتوں کی تعمیر، شیش محل میں کی جانے والی اجتماعیں، قرطاس پر کھینچی گئی لیکریں، ویب سائٹ پر اپلوڈ کئے گئے منصوبے چہ معنی دارد؟ ان بنود و نکات پر عمل درآمد نہ کیا جائے تو کیا فائدہ۔ اگر قوم کے نونہالوں کو سہولیات نہ مل سکیں، وسائل مہیا نہ کئے گئے تو ملک کی ترقی کا خواب دیکھنا آفتاب کے اجالے میں کھلی آنکھوں سے خواب دیکھنے کے مترادف ہوگا۔ آپ قوم کے بچوں کو تعلیم سے مزین کریں کل یہی بچے قوم کی زینت اور ملک کے نام کو روشن کریں گے۔ جب ان کے ہاتھوں میں زمام اقتدار آئے گا تو ملک کو ہر مشکل حالات سے بچالے جائیں گے۔
نیپال کے ایک جج نے مدارس اسلامیہ کے تعلیم کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے اپنے احساسات کچھ اس طرح رکھے۔ واضح رہے کہ انہوں اپنے جذبات اور احساسات کو عید ملن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی ملاحظہ ہو:
مدرسہ تعلیم: جہاں علم، کردار اور امت کی خدمت یکجا ہوتی ہے ✨ تحرير : فيصل عزيز فیس بک بتاریخ 15جون2025میلادی
جمعیت اہل حدیث نیپال کے زیرِ اہتمام “عید ملن” کے روح پرور پروگرام میں نیپال سپریم کورٹ کے جسٹس عبدالعزیز مسلمان نے خطاب کیا اور مسلم معاشرے کی تعلیمی، اخلاقی اور اجتماعی ترقی کے لیے نہایت بصیرت افروز پیغامات دیے۔
🔹 انہوں نے کہا:
“اسلامی مدارس میں دی جانے والی اخلاقی تعلیم دنیا کی کسی بھی درسگاہ میں نہیں دی جاتی۔ یہ ادارے صرف دینی علم نہیں، بلکہ سچائی، دیانت، احترام، خدمتِ خلق، اور انسانیت کے اعلیٰ اوصاف پروان چڑھاتے ہیں۔”
🔹 جسٹس صاحب نے زور دیا کہ:
“چاہے حکومت مدد کرے یا نہ کرے، ہمیں خود اپنے مدارس کو بہتر بنانا ہے، انہیں وقت کے تقاضوں کے مطابق ترقی دینا ہے۔”
🔹 نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا:
“ہمیں تعلیم میں پیچھے نہیں رہنا چاہیے۔ مسلم طلبہ کو سرکاری ملازمتوں میں آنا چاہیے۔ بلکہ ہر گھر سے مختلف میدانوں میں نمائندگی ہونی چاہیے۔ صرف ڈاکٹر یا انجینئر بننے سے پوری کمیونٹی کا فائدہ نہیں ہوگا — کوئی استاد بنے، کوئی انتظامیہ میں جائے، کوئی عدلیہ میں، کوئی پولیس یا فوج میں، تب ہی ہم مکمل ترقی کی راہ پر آئیں گے۔”
🔹 انہوں نے تجویز دی کہ مسلم تنظیمیں نوجوانوں کے لیے مفت امتحانی تیاری کی کلاسز کا اہتمام کریں تاکہ وہ مقابلے کے میدان میں کامیابی حاصل کر سکیں۔
🔹 آخر میں انہوں نے کہا:
“میں خود ایک مدرسے سے پڑھ کر آیا ہوں۔ اگر عزم ہو، تو کامیابی کے لیے دولت کی نہیں، محنت، دعا اور استقامت کی ضرورت ہوتی ہے۔”
یہ پروگرام کاٹھمندو نیپال کے مختلف تعلیمی اداروں سے آئے مسلم طلبہ کی حوصلہ افزائی، رہنمائی اور فکری بیداری کا ذریعہ بنا۔ عید ملن کا یہ موقع صرف خوشی کا اظہار نہیں، بلکہ قوم و ملت کے لیے ایک نئے عزم کا پیغام تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے