انشاء وارثی

 آج کے زمانے میں معلومات ایک کلک کی رفتار سے پھیلتی ہے۔معلومات کا پھیلنا ایک عالمی بحران بن چکا ہے۔ مصنوعی تصویرات سے لے کر من گھڑت خبروں، کہانیوں اور سازشی نظریات تک غلط معلومات کا پھیلنا لوگوں کے بھروسے کو کمزور کر دیتے ہیں۔ غلط بیانیے جمہوری ملک میں جمہوری نتائج کو غیر مؤثر کرنے، تشدد بھڑکانے کے لئے استعمال کیے جاتے ہیں اور اقتدار پسندی حکومتوں میں اکثر اسے حکومتوں کے ذریعے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔غلط معلومات مختلف ذرائع سے باہر آتے ہیں،کبھی کبھار یہ جہالت اور غلط تشریحات سے سامنے آتے ہیں۔ بہرحال ان کی زیادہ تر خبریں جان بوجھ کر بنائی جاتیں ہیں، من گھڑت ہوتیں ہیں اور خاص مقاصد کے لیے پھیلائے جاتے ہیں۔ سیاسی اداکار غلط معلومات کا استعمال کرتے ہیں لوگوں کی نظریات کو بدلتے اور مخالفین کو بدنام کرنے کے لیے بیرونی جماعتیں غلط معلومات پھیلاتے ہیں۔دوسرے ممالک کو کمزور کرنے کے لیے موقع پرست عناصر جن میں سوشل میڈیا پر اثر ڈالنے والے افراد اور نام نہاد ماہرین شامل ہیں، وہ غلط معلومات پھیلاتے ہیں شہرت اثر و رسوخ یا مالی حصول کے لیے. جب کہ مقاصد مختلف ہیں، لیکن اس کے نتائج مستقل ہیں، جیسے غلط معلومات حقیقت کو بدل دیتیں ہیں، زندگی کو برباد کرتیں ہیں اور جمہوریت کو کمزور کر دیتیں ہندوستان ایسا ملک ہے جس نے اس مسئلہ کا مقابلہ کیا، جب غلط معلومات کا ایک تسلسل انٹرنیٹ پر گردش کرنے لگا مختلف واقعات سے جیسے مسلمانوں اور ان لوگوں پر بدلہ لینے کے لیے حملہ کرنا جو کشمیری ریاست سے آتے ہیں، پہلگام پر حملے کے بعد جو کہ 22 اپریل کو ہوا تھا۔ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارم اخبار کے ایجنسیوں اور تنظیموں اور اثر انداز افراد نے پورے ملک میں ایک مخصوص قوم پر حملہ کرنے کی غلط خبریں پھیلائی اور ہمارے محبوب وطن کی ایک منفی تصویر عملی طور پر پھیلایا ان واقعات کا مختلف ذرائع کے ذریعے تحقیق کرنے کے بعد یہ پتہ چلا کہ ان میں سے اکثر واقعات غلط اور جھوٹ پر مبنی ہیں۔ بہت سے ایسے واقعات جو کہ ذاتی دشمنی سے جڑے ہوئے ہیں اور فطری طور پر مجرمانہ ہے۔ جس کا حالیہ دہشت گردی حملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔بحرحال اس عمل کو پورے احتیاط سے کرنے کی ضرورت ہے، اس کے اخلاق پر ہدف بناتے ہوئے، نہ کہ اس انسان کے حق پر جو خود کو بیان کرتے ہیں، جب تک ان کا بولنا نقصان پر مشتمل تر ہوں۔حقیقت کو بدل دینا یہ ایک پریشانی سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ جمہوری اور معاشرتی اتحاد کے لیے خطرہ ہے، جبکہ جھوٹے دعوے کو ختم کرنا ضروری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے