مولانا مجیب بستوی سمریاواں بازار سنت کبیر نگر

ملک میں افلاس و بدحالی کا نقشہ دیکھئے

چار جانب نو بہ نو تازه بہ تازه دیکھئے

کس طرح بحرِ فنا میں الحفیظ والامان

زندگی کا ہے پھنسا اپنا سفینہ دیکھئے

دل پراگندہ خیالوں میں الجھ کر رہ گیا

دوشِ ہستی پر تمناؤں کا لاشہ دیکھئے

بھیس میں رہبر کے رہزن کررہے ہیں رہبری

کاروانٖ قوم کی جاده بہ جادہ دیکھئے دیکھئے

قوم ووطن کی بے بسی کا حال زار

اپنا دل اپنی نظر اپنا ارادہ دیکھئے

سر پہ ہے سایہ فگن ہر سو تباہی کی گھڑی

تنگ نظری کا دماغ ودل پہ قبضہ دیکھئے

جذبۂ انسانیت، ذوق جنوں ، جوش عمل

ہر طرف ہر لحظہ ہر ہر گام مردہ دیکھئے

کیوں ہمیں پر اٹھ رہی ہے ہر گھڑی چشمِ عتاب

اپنی ہی آنکھوں سے اپنا زرد چہرہ دیکھئے

دیکھ کر حالات کو کہنا ہی پڑتا ہے مجیب

غیرتِ قومی کا یہ اٹھتا جنازہ دیکھئے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے