بیدر۔ 2؍جولائی (محمدیوسف رحیم بیدری): سدبھاؤنا منچ بیدر ضلع نے 30؍جون کو سدبھاؤنا واک کااہتمام کرنے سے قبل شہر کے مختلف مقامات جیسے تاریخی عمارت چوبارہ ، امبیڈکر سرکل ، کئی ایک نکڑاور دیگر مقامات پر ہورڈنگ لگائے تھے۔ تاکہ لوگ اس واک میں شریک ہوسکیں۔ 30؍جون کی صبح 11؍بجے تاریخی عمارت مدرسہ محمودگاوان کے روبرو سے یہ واک نکالی گئی اور ریاست میں نفرت پر قابو پانے اور اپنے اپنے طبقہ کی اہم شخصیات کی عزت کرنے سے متعلق مطالبات کو ڈپٹی کمشنر اور ایس پی بیدر تک پہنچایاگیا۔ سوشیل میڈیا پر لگام لگانے اور نظر رکھنے کا بھی مطالبہ شامل تھاتاکہ حالات پرامن رہیں۔
واک ختم ہوکر آج تیسر ادن ہے ۔ اس تحریر کے لکھے جانے تک تاریخی عمارت چوبارہ پر سدبھاؤنا منچ کا’’سدبھاؤنا واک‘‘ کااعلان کرتاہواتنہا ہورڈنگ لگاہوادیکھاجاسکتاہے۔ 30؍جون کی دوپہر کے بعد اس ہورڈنگ کا کام ختم ہوچکاہے ۔ لیکن یہ ہورڈنگ آج بھی لگاہواہے۔ عوام سوال کررہی ہے کہ تاریخی عمارتوں کوہورڈنگ لگانا اور پھر پروگرام ختم ہونے کے بعد نہ پروگرام والے ہورڈنگ ہٹاتے ہیں اور نہ ہی بلدیہ بیدر ایسے ہورڈنگ خود سے ہٹاتاہے۔ نئے شہر کی صورتحال اس سے زیادہ خراب ہے۔ وہاں کا حال یہ ہے کہ کئی ایک ہورڈنگ ٹوٹ پھوٹ چکے ہیں لیکن انھیں ہٹانے کے لئے بلدیہ بیدر تیارنہیں ہے۔ چیرمین بلدیہ محمدغوث کو اس طرف توجہ دیناچاہیے۔ کمشنر بلدیہ بھی غالباً اپنی ڈیوٹی پر ہوں گے ۔ توقع ہے کہ پروگرام ختم ہونے کے بعد کے سارے ہورڈنگ ہٹائے جائیں گے۔
