مضمون نگار:……………..غفران احمد ندوی صدر مدرس مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن سمریاواں سنت کبیر نگر

اسلام کی عزت وسربلندی اور دین اسلام کی بقاء کے لئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے پیارے اصحاب کو طرح طرح کی تکلیفیوں سے دوچار ہونا پڑا، قربانیاں پیش کرنی پڑیں، دین کی نشر واشاعت میں جان کا نذرانہ پیش کرنا پڑا ،بچوں کو یتیم کرنا پڑا ،عورتوں کو بیوہ کرنا پڑا مگر کبھی باطل کے آگے اسلام کے جھنڈے کو سر نگوں نہیں ہونے دیا گیا.
خود محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ کی گلیوں میں گھسیٹا گیا، دعوت وتبلیغ سے روکا گیا ،پشت مبارک پر اونٹ کی اوجھری رکھی گئی ،دندان مبارک کو شھید کیا گیا ،رخسار انور کو زخمی کیا گیا گریبان کو چاک کیا گیا ،طائف میں پتھروں کی بارش کی گئی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سب کچھ برداشت کیا تاکہ میری امت تک خدائے وحدہ لاشریک کا پیغام پہونچ جائے ،اسلام کی آغوش میں آنے کی وجہ سے حضرت سمیہ رضی اللہ عنھا کو ابو جہل نے برچھی مار کر شہید کر دیا ،اسلام کی خاطر سب سے پہلی شھید ہونے والی خاتون حضرت سمیہ ہی ہیں،
حضرت بلال کو گرم ریت پر لٹا کر طرح طرح کی تکلیفیں دی گئیں ،آپ صلی علیہ وسلم کے چچا سید الشھداء حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کو اُحد کے میدان میں وحشی بن حرب نے نیزہ مار کر شہید کردیا ،حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو تختہ دار پر لٹکایا گیا ،حضرت حبیب بن زید رضی اللہ عنہ کو مسلیمہ کذاب نے جلاد کے ذریعہ جسم کے کئی ٹکڑے کروا دئیے مگر زبان پر کلمہ شہادت اور پاک پیغمبر محمد عربی صلی علیہ وسلم کا نام تھا ،حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ ایک رات کی شادی ہوئی، اعلان ہوا میدان کارزار کی طرف نکل پڑو، دین اسلام کی حفاظت کی خاطر حالت جنابت میں نکل پڑے اور دشمنوں سے مقابلہ کیا اور جام شہادت نوش فرمایا، غسیل الملائکہ کا خطاب ملا کیوں کہ ان کو فرشتوں نے غسل دیا تھا ، جنگ موتہ کے موقع پر زید بن حارثہ نے علَم سنبھالا اور شہید کر دئیے گئے، اس کے بعد حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ نے اسلامی چھنڈا لیا ان کے دونوں ہاتھ کاٹ دئیے گئے اور جسم کے دو ٹکڑے کئے گئے ،ان کے جسم پر 70سے زائد زخم تھے اور حیرت کی بات یہ تھی کہ ایک بھی زخم پشت پر نہیں تھا، پھر علم کی ذمہ داری حضرت عبد اللہ بن رواحہ کو ملی، ان کو بھی شہادت کا جام پینا پڑا.ایک صحابی حرام بن ملحان کو نیزہ مارا گیا تو ان کی زبان سے بے ساختہ نکلا فزت برب الکعبۃ رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا.
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جن کے اسلام لانے سے مسلمانوں کو تقویت پہونچی، انھوں نے 22 لاکھ مربع میل زمین پر حکومت کی ہے، ارض مقدس کو فتح کیا، بڑے بے باک اور بہادر تھے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سلسلے میں فرمایا کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتے ،مجوسی غلام ابو لؤلؤ نے اپنے زہر آلود خنجر سے آپ پر حملہ کیا اور شہید کر دیا ،باری آئی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی تو باغیوں نے چالیس دن تک ان کے گھر محاصرہ کیا اور پیاس کی حالت میں جمعہ کے دن قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے شہید کر دیا، اس کے بعد نمبر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا تھا، رمضان مقدس کے مہینہ میں خوارج میں سے عبد الرحمن بن ملجم نے آپ کی پیشانی پر تلوار کا وار کیا، جس سے زخم گہرا لگا اور دو ایک روز کے بعد انتقال فرماگئے، باری آئی حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی تو ان کو زہر دے دیا گیا، حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بھی 70/72 لوگوں کے ساتھ کربلا کے میدان میں شہید کر دیا گیا، اسلام کی آبیاری، حفاظت، فروغ اور نشر و اشاعت میں جان کی بازی لگانے والوں کی فہرست بہت طویل ہے، ان کا شمار و احاطہ ناممکن ہے، آج اسلام کے نام پر صرف رسم اور قالب کی پوجا ہوتی ہے، اصلی دین اور اصلی اسلام سے انسانی زندگیاں بہت دور ہیں، کاش ہم گہرائی کے ساتھ سمجھ پاتے کہ اسلام کتنی قربانی، خود سپردگی اور جاں نثاری کے بعد ہم تک پہونچا ہے اور ہمیں کتنا مخلص اور بے غرض ہو کر دین اسلام کی خدمت کی ضرورت ہے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے