از: نذیر احمد حسامی ظہیر آباد
بسم اللہ الرحمن الرحیم، الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین، وعلی آلہ و اصحابہ أجمعین۔
اَعُوذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔ إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًاالخ
بیشک اللہ تعالیٰ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ ہے، ان میں چار حرمت والے مہینے ہیں، اور انہی میں ایک محرم الحرام ہے، جس سے اسلامی سال کا آغاز ہوتا ہے۔ آج آٹھ محرم ہے، کل نو تاریخ ہے، اور پرسوں یومِ عاشورہ یعنی دس محرم الحرام کا دن۔ یہی وہ دن ہے جس کے متعلق نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "یہودی صرف عاشورہ کا روزہ رکھتے ہیں، تم ان کی مخالفت کرو، نو اور دس یا دس اور گیارہ کے روزے رکھو۔” یہ محض روزے کا حکم نہیں، بلکہ پوری زندگی کا اصول دیا جا رہا ہے کہ یہود و نصاریٰ کی مخالفت عبادت میں بھی ہونی چاہیے، اور تہذیب، ثقافت، لباس، طرزِ زندگی اور سوچ میں بھی۔ پھر سوال یہ ہے کہ ہم آج ہر چیز میں انہی کی نقالی کیوں کر رہے ہیں؟ ان کا فیشن، ان کی خوراک، ان کا طرزِ گفتار، ان کے اندازِ رہائش، ان کے کلچر، یہاں تک کہ ان کا طرزِ تعلیم تک اپنا لیا، اور اسلامی غیرت، سنّت، اور حیا کو خیرباد کہہ دیا۔ یہ معمولی بات نہیں بلکہ اللہ اور رسول ﷺ کی نافرمانی ہے، بلکہ دین سے بغاوت ہے۔ افسوس! مسلمان غیروں کے لباس، بول چال، فیشن، خوشی اور غم کے طریقے، سب کچھ اپناتا جا رہا ہے۔ یہ طرزِ عمل ہمیں دنیا میں بھی رسوا کر رہا ہے اور آخرت میں بھی ہلاکت کی راہ ہے۔
محرم الحرام کا مہینہ بڑا عظیم اور متبرک مہینہ ہے۔ قرآن نے اسے حرمت والا مہینہ قرار دیا۔ ہم جب دینی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس مہینے میں دو نیک اعمال واضح طور پر نظر آتے ہیں: ایک عاشورہ کے روزے رکھنا، دوسرا اپنے اہل خانہ پر رزق میں وسعت دینا۔ نبی کریم نے فرمایا: "عاشورہ کے دن کا روزہ پچھلے سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔” ایک اور حدیث میں آیا کہ "جو شخص عاشورہ کے دن اپنے گھر والوں پر وسعت کرے، اللہ تعالیٰ پورے سال اس کے رزق میں برکت عطا فرماتے ہیں۔” اگرچہ یہ حدیث ضعیف ہے مگر علمائے کرام نے اسے فضائل میں قابلِ قبول قرار دیا ہے۔ اس دن اہلِ خانہ کے ساتھ محبت، ایثار، دلجوئی، اور کسی بھی شکل میں احسان کی ترغیب دی گئی ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ہم نے اس مبارک دن کو بدعتوں، جھوٹے رسومات، اور من گھڑت مظاہر کا اکھاڑا بنا دیا ہے۔ عاشورہ کے نام پر ماتم، سینہ کوبی، تازیہ، شبیہ، علم، جلوس، میلے، شور و غل، اور صریح حرام افعال رواج پا چکے ہیں۔ ان رسومات کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ بدعات ہیں جن سے نبی کریم نے سختی سے منع فرمایا ہے۔ حدیث میں آیا: "من تشبہ بقوم فہو منہم” — جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ انہی میں سے ہے۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم حسین کے ماننے والے ہیں یا دشمنانِ اسلام کے طریقے اپنانے والے
عاشورہ کا دن فضیلت والا دن ہے، لیکن اس دن کی عظمت صرف حضرت حسین کی شہادت کی وجہ سے نہیں، بلکہ یہ دن شروع سے ہی اللہ کی طرف سے برکت والا ہے۔ حضرت آدم کی توبہ اسی دن قبول ہوئی، حضرت نوح کی کشتی جودی پہاڑ پر اسی دن ٹھہری، حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل کو اسی دن فرعون سے نجات ملی، حضرت ایوب کو اسی دن شفا ملی۔ گویا عاشورہ کا دن خود قرآن و حدیث میں ایک تاریخی دن ہے۔ نبی کریم نے بھی اس دن کے روزے رکھے، صحابہ کو تلقین کی، بلکہ رمضان کے روزوں سے پہلے عاشورہ کے روزے فرض تھے، بعد میں ان کی فرضیت منسوخ ہوئی۔ اور حسن اتفاق سے حضرت حسین کی شہادت بھی اسی دن پیش آئی، جس سے اس دن کو مزید روحانی عظمت نصیب ہوئی۔
لیکن آج لوگ محرم کو منحوس مہینہ سمجھتے ہیں، خوشی کی تقریبات چھوڑ دیتے ہیں، نکاح نہیں کرتے، نیا کام شروع نہیں کرتے، جبکہ یہ بات سراسر خلافِ قرآن و سنت ہے۔ اگر یہ مہینہ منحوس ہوتا تو اسی مہینے میں حضرت فاطمہ کا نکاح کیوں ہوتا؟ حضرت عمر کی شہادت کیوں پیش آتی؟ حضرت حسین کی شہادت کیوں ہوتی؟ اور سب سے بڑھ کر اسلامی سال کا آغاز اسی مہینے سے کیوں کیا جاتا؟ سچ تو یہ ہے کہ منحوس وقت یا دن کوئی نہیں ہوتا، بدبختی ہمارے اعمال سے پیدا ہوتی ہے۔ جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا: "خشکی و تری میں فساد انسانوں کے اپنے ہاتھوں سے ہوتا ہے۔”
اور یہ بات بھی ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ حضرت حسین کی شہادت کو اتنا بڑھا چڑھا کر دشمنانِ اسلام نے پیش کیا کہ گویا اسلام میں صرف ایک ہی شہید ہیں۔ حالانکہ اسلام کی تاریخ شہداء سے بھری ہوئی ہے۔ حضرت علی کی شہادت رمضان میں ہوئی، حضرت عثما کی شہادت ذی الحجہ میں ہوئی، جن پر چالیس دن پانی بند رہا۔ حضرت حمزہ، سید الشہداء، کی شہادت اُحد میں ہوئی۔ اور ان گنت صحابہ اور تابعین نے دین کی راہ میں اپنی جانیں قربان کیں۔ شہادت دین کی عزت ہے، ماتم کا موقع نہیں۔ قرآن کہتا ہے: "جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل کیے گئے وہ مردہ نہیں بلکہ زندہ ہیں، لیکن تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں۔”
اگر ہمیں حضرت حسین سے سچی محبت ہے، تو ہمیں ان کی تعلیمات اور کردار سے محبت کرنی ہوگی۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے صرف ایک نواسے نہیں تھے، بلکہ حضرت حسن، حضرت حسین، اور حضرت محسن تینوں نواسے تھے۔ دشمنوں نے ایک نواسے کو بڑا چڑھا کر پیش کیا، باقی کو بھلا دیا۔ ہمیں اعتدال سے کام لینا چاہیے۔ حضرت حسن کی قربانی کوئی معمولی قربانی نہ تھی۔ انہوں نے امت کے امن کے لیے خلافت سے دستبرداری اختیار کی، اور صلح کر لی۔ آج اُن جیسے عہدہ چھوڑنے والے کہاں ہیں؟ آج تو ہر کوئی اقتدار کا بھوکا ہے۔
کربلا ہمیں بتاتا ہے کہ اگر دین خطرے میں ہو تو جان، اولاد، خاندان، سب قربان کر دو، مگر دین کی حفاظت کرو۔ حضرت حسین نے ہمیں سکھایا کہ غلط آدمی کے ہاتھ پر بیعت جائز نہیں، حق بات کے لیے اکیلے کھڑے ہو جاؤ، اور نماز جیسی عبادت کو زندگی کے کسی بھی حال میں نہ چھوڑو۔ نیزے چل رہے ہوں، تلواریں گردن پر ہوں، خیمے جل رہے ہوں، مگر سجدہ نہ چھوٹے۔ لیکن افسوس! آج حسین کے نام لیوا نمازوں سے غافل، قرآن سے دور، اور دین کی تعلیم سے بے زار ہو چکے ہیں۔
محرم آتا ہے، جلوس نکلتے ہیں، نعرے لگتے ہیں، ماتم ہوتا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کربلا کے میدان سے ہم نے کیا سیکھا؟ کتنے لوگوں نے نماز شروع کی؟ کتنے بچوں کو حافظ بنایا؟ کتنی بیٹیوں کو عالمہ بنایا؟ کتنے گھروں میں قرآن کی تعلیم عام ہوئی؟ حسین کا نام صرف سینے پیٹنے کا نام نہیں، بلکہ کردار اپنانے کا نام ہے۔ افسوس! آج حسین کے ماننے والے حسین کے نانا کے دین سے غافل ہیں، جبکہ دنیاوی تعلیم کے پیچھے اندھے ہو کر دوڑ رہے ہیں، صرف اس لیے کہ وہاں نوکری ہے، تنخواہ ہے، دنیا ہے۔ دین کی عظمت کو پامال کر کے ہم کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟
اگر ہم واقعی محرم کی عظمت چاہتے ہیں، تو ہمیں چاہیے کہ اس مہینے کو توبہ کا مہینہ بنائیں، قرآن کی تلاوت، درود شریف، ذکر، خیرات، دین کے کاموں اور تعلیمِ دین کی طرف رجوع کریں۔ بدعات سے بچیں، بدعتی محفلوں سے پرہیز کریں، سچائی کی راہ پر آئیں، اور حضرت حسین کی سیرت سے جڑیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سچائی سمجھنے، سچائی پر جینے، اور حق کے لیے کھڑے ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمیں نماز کا پابند، دین کا خادم، اور امت کا وفادار بنا دے۔ آمین یا رب العالمین۔
