تحریر: سلمان کبیرنگری

اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں کچھ جذبات ایسے رکھے ہیں جو اس کے دل کی گہرائیوں سے اُبھرتے ہیں، انہی میں سے ایک اہم جذبہ "وطن سے محبت” ہے۔ انسان جہاں پیدا ہوتا ہے، وہ مٹی، وہ فضا، وہ گلیاں اور وہ ماحول اس کے دل میں خاص جگہ رکھتے ہیں۔ اسلام نے بھی اس فطری جذبے کی قدر کی ہے اور اس کی سرپرستی کی ہے۔
اسی حوالے سے نبی کریم ﷺ کا مکہ مکرمہ سے محبت کا واقعہ ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ حضرت ترمذی رحمہ اللہ کی روایت (حدیث نمبر 3925) کے مطابق، نبی کریم ﷺ نے مکہ کو مخاطب کر کے فرمایا:
"اللہ کی قسم! تو اللہ کی زمین میں سب سے بہتر اور مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے۔ اگر میری قوم نے مجھے یہاں سے نہ نکالا ہوتا، تو میں بھی تجھے کبھی نہ چھوڑتا۔”
اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ وطن سے محبت نہ صرف فطری جذبہ ہے بلکہ یہ سنتِ نبوی ﷺ بھی ہے۔
حال ہی میں پہلگام میں ہونے والے ایک افسوسناک واقعے کے بعد، بعض شرپسند عناصر کی طرف سے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ صورت حال نہایت تکلیف دہ ہے۔ مگر اس وقت امت مسلمہ کے صبر و سکون اور حکمت عملی کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ مسلمانوں نے اشتعال انگیزی کا جواب صبر، خاموشی اور دعا سے دیا۔ یہی اسلام کی اصل روح ہے۔
اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ صبر سب سے بڑی طاقت ہے۔ نفرت کا جواب محبت سے دینا ہی اصل کامیابی ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اگر کوئی ہم سے نفرت کرتا ہے تو ہم اس کے جواب میں محبت کریں، کیونکہ ہمارا دین ہمیں امن، عدل اور فلاحِ عامہ کی تلقین کرتا ہے۔ سچی حب الوطنی وہی ہے جو قوموں کو جوڑے، دلوں کو نرم کرے، اور سب کے لیے خیرخواہی کا پیغام بنے۔
ہم اپنے ان برادران وطن کے لیے بھی دعاگو ہیں جو اس وقت نفرت کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں، کہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو ہدایت سے منور کرے۔
"اور بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے” (البقرہ: 153)
پس جب اللہ ہمارے ساتھ ہے، تو پھر ہمیں کسی کا خوف نہیں۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی محبت، امن پسندی اور حسن اخلاق سے اس وطن کو ایک بہتر جگہ بنائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے