ڈاکٹر قاضی سراج اظہر

اسوسیٹ کلینکل پروفیسر
مشیگن اسٹیٹ یونیورسٹی۔ امریکہ
شجر کاری پر بہت اچھے تحقیقی منصوبے (PBL) کئے جاسکتے ہیں۔ بچے اس میں کافی دلچسپی بھی دیکھاتے ہیں لیکن ہندوستانی اساتذہ کی طبیعت اُدھر نہیں آتی۔ خصوصاً اردو مدارس کے اساتذہ سمجھتے ہیں صرف نصاب مکمل کرنا انکی ذمہ داری ہے۔ کیوں نئے کاموں پر اپنی دماغ پاشی کیجائے۔ اکثر دفعہ میں نے دیکھا ہے اور سُنا بھی ہے جو اساتذہ جدت پسندی سے آگے بڑھ چڑھ کر بچوں کو تعلیمی فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں دوسرے اساتذہ اُن پر دباؤ ڈالتے ہیں اور کہتے ہیں، “اگر آپ اسطرح کے کام کرینگے تو منتظمینِ تعلیمی ادارہ ہم سے بھی یہی توقع رکھے گا۔ بہتر ہے سکون سے کھاؤ پیو اور چلتے پھرتے نظر آؤ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس طرح کی ذہنیت یورپی ممالک کے اساتذہ میں نہیں ہوتی۔ وہ ہر طرح کی جدید تحقیق شدہ طریقۂ تعلیم کو اپنانا چاہتے ہیں، جس سے بچوں کی اکتسابی صلاحیت میں اضافہ ہو۔ وہ چاہتے ہیں اپنی تدریسی صلاحیتوں کو بہتر سے بہتر بنائیں۔ وہ نصابی تعلیم کو گہرائ میں اُتر کر سمجھانا چاہتے ہیں تاکہ طلبہ بنیادی علم کو اچھی طرح سمجھ کر مشکل مسائل کا حل تلاش کریں۔ طلبہ جب تحقیق پر مبنی منصوبے کرتے ہیں تو اُنہیں مختلف نصابی مضامین پر بھی عبور حاصل ہوتا رہتا ہے۔ بچے اپنے تحقیقی تجربات خود کرتے ہیں اور مشاہدات کو اپنی زبان میں نوٹ بُک یا بیاض میں درج کرتے ہیں۔ نتائج کا اندراج  پیمائش کی اکائیوں کا علم، ریاضی کے ضابطوں کا استعمال، ترسیمات یعنی گراف بنانے کا طریقہ وغیرہ سب کچھ کم عمری سے سیکھ لیتے ہیں۔ اس کیلئے منصوبہ بند تحقیق کروانے کیلئے بچوں کو سائنسی طریقۂ کار (Scientific Method) اور انجینرنگ طریقۂ کار (Engineering Method) کے مراحل سے پہلے آگاہ کریں، جو بہت آسان ہیں۔
گو کہ یہ سائنسی تحقیقی منصوبہ (Project-Based Learning) ہوتا ہے لیکن بچے سائنس، زبان دانی اور ریاضی ساتھ ساتھ سیکھتے رہتے ہیں۔ اس طرح کی تعلیم میں وہ کافی دلچسپی اور شوق کا اظہار کرتے ہیں۔ اُنہیں انگلش میں رٹنے رٹانے کی مطلق ضرورت نہیں ہوتی۔ جو بھی خود سے کرکے سیکھتے ہیں اُنہیں یاد رہتا ہے ساتھ ہی مسائل کو مختلف طریقوں سے کرکے سیکھنے کا ہُنر سیکھ لیتے ہیں۔ اُن میں جدت اور تخلیقی  ذہن سازی رونما ہوتی ہے۔ اس کے برخلاف انگلش میڈیم کے رٹُّو کے ٹٹُّو ساری توانائ انگریزی سیکھنے میں لگا دیتے ہیں۔ انگلش میں منہ کھولنے اور لکھنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ تا آنکہ اُن کو لکھایا اور رٹایا نہ جائے۔ بحث و مباحثے میں شرکت کرنے سے ہچکچاتے اور ڈرتے ہیں۔ اِن میں انگریزی ذخیرۂ الفاظ اور جملوں کی تشکیل کا فقدان ہوتا ہے۔ ظاہر ہے یہ اُن کی مادری زبان نہیں ہے۔ والدین میری باتوں کو سمجھیں۔ والدین اپنے آئندہ تعلیم حاصل کرنے والی اولادوں کا سوچیں۔ جو ہوگیا سو ہوگیا ماضی کے غلط فیصلوں پر آہ وزاری کرنے سے کوئ فائدہ نہیں۔ اگلا گِرا پِچھلا ہوشیار کے مماثل اپنی آنے والی اولادوں کی صحیح تعلیم و تربیت مادری زبان اردو میں ہی دلوائیے۔ اُن پر محنت کیجئے جیسے اپنے بچوں پر محنت کی جاتی ہے۔ بچے مادری زبان میں اگر معیاری تعلیم حاصل کریں اور اُس پر خوشی کا اظہار کریں تو اس سے بہترکوئ تعلیم نہیں ہو سکتی۔ اساتذہ کو جو دلی مسرّت ملتی ہے اُس کا کوئ بدل نہیں ہوسکتا۔ ایسے طلبہ اساتذہ کو ہمیشہ یاد رکھتے ہیں۔ اُن کی عزت کرتے ہیں۔ ان کے حق میں تاحیات دعائیں دیتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ چیونٹیاں اپنے بِلوں میں مچھلیاں پانی کی لہروں میں ایک شفیق اُستاد کیلئے دعائیں کرتی رہتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہماری آنے والی نسلوں کیلئے ہمیں شفیق و درمند معلمین و معلمات عطا کرے۔ آمین ثم آمین
نوٹ: کیا آپ شجر کاری پر مختلف تحقیقی منصوبے کر سکتے ہیں؟ اگر کر سکتے ہیں تو اُن کے عنوانات دیجئے۔ طریقۂ تحقیق کو اختصار سے لکھئیے اور گروپ میں ارسال کیجئے۔ ان میں سدھار لانے کیلئے تجویز دی جا سکتی ہے۔
طریقۂ سائنس کے مدارج (Steps of Scientific Method) 
۱- تحقیقی سوال (Scientific Question)
۲- مفروضہ (Hypothesis)
۳- تجربے کیلئے درکار اشیاء اور طریقۂ کار (Material and Method or Procedure)
۴- نتیجہ (Result)
ہ۔ ماخوذ یا نتیجہ اخذ کرنا (Conclusion)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے