اٹوا بازار سدھارتھ نگر: بزم اربابِ ادب اٹوا کی 101ویں ماہانہ طرحی نشست جمال اجمل صاحب کی صدارت اور شکیل ضاغط صاحب کی نظامت میں جمال ٹریڈرس پر اور شب میں آن لائن تحریری منعقد ہوئی جس میں قرب و جوار اور دور دراز کے شعراء نے شرکت کی ارشد اقبال صاحب نے نعتِ رسول مقبول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پڑھ کر نشست کا آغاز کیا ،چنندہ اشعار علم دوست، ادب نواز، باذوق قارئین کی نذر ہیں۔
جو جھوٹ مرے نام سے منسوب ہوا ہے
تحقیق کروگے تو صداقت نہ ملے گی
ہدایت اللہ خان شمسی
جو عرق نچوڑیں نہ ظہیر اپنی غزل میں
اقبال تقی میر کی ندرت نہ ملے گی
ظہیر رحمانی
بیٹھے ہیں سجاۓ سبھی نفرت کی دکانیں
قیمت میں کسی آج محبت نہ ملے گی
جمال قدوسی
اس دور میں یہ حال ہے اجمل کہ کہیں بھی
محنت کے مطابق تمہیں اجرت نہ ملے گی
جمال اجمل
فرقوں میں بنٹ گئے تو مقدر ہے غلامی
غیروں کی حمایت سے قیادت نہ ملے گی
التجا حسین نور صدیقی
یہ زہد و ورع لے کے چلے ڈھونڈنے ہمدم
دھوکہ ہے یہاں سچی محبت نہ ملے گی
شکیل ضاغط
دریوزہ گری کرتے رہے یوں ہی اگر ہم
پگڑی بھی کسی سر پہ سلامت نہ ملے گی
ارشد اقبال
خود بھوکے رہے اور غریبوں کو کھلایا
زہرآء کے گھرانے سی سخاوت نہ ملے گی
سید عزیز الرحمان عاجز
سدھرو گے نہ گر ہندی مسلمانو! مٹو گے
تاریخ کے پنوں میں روایت نہ ملے گی
عبدالرب جوہر
تعظیم نہیں ہوتی جہاں قلب ونظر کی
شاداب وہاں عشق کی عظمت نہ ملےگی
عباس شاداب
جیون میں لگے رہتے ہیں دنیاکے جھمیلے
یوں عمر گزر جاۓ گی فرصت نہ ملے گی
ضمیر احمد ضمیر قاسمی
جس قوم میں بکنے لگے ہر روز قیادت
اس قوم کو ہرگز کہیں عزت نہ ملے گی
عبدالمبین مبیں ایس نگری
مت پوچھیے اب گرمئی بازارِ عداوت
نفرت ہی ملے گی کہیں الفت نہ ملےگی
ڈاکٹر قمر اقبال قمر
جس سے تمہیں احساس ہو نفرت کا ذرا بھی
قرآن میں ایسی کوئی آیت نہ ملے گی
شفیق شہپر
مظلوم کا حق جو بھی دباۓ گا اے فرہاد
محشر میں اسے رب کی عنایت نہ ملے گی
جنید فرہاد لٹیاوی
سلمان ریا پیار میں جو تو نے کبھی کی
جیون میں کبھی پیار کی نکہت نہ ملے گی
سلمان حنیف
اس موقع پر شیخ نعمان احمد مدنی حفظہ اللہ سمرہن بلرام پور بطور مہمان خصوصی تشریف فرما تھے۔
