از: ذوالقرنین احمد (فری لانس جرنلسٹ)
دنیا کا نظام کرونا وائرس کے نام پر لگائے گئے لاک ڈاؤن کے بعد سے انتہائی تیزی کے ساتھ تبدیلی کی طرف گامزن ہے یہ تبدیلی کوئی مثبت یا ترقی کی سمت میں نہیں ہے، بلکہ انسانیت کو بنیادی انسانی حقوق و اقدار سے محروم کردینے والی ہیں، ہمارے ملک میں اس کے اثرات موجودہ دور میں صاف ظاہر ہو رہے ہیں۔ ملک کا ہر شخص قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے مہنگائی اپنے شباب پر ہے،بے روزگاری کی سطح میں انتہائی درجے کااضافہ ہوا ہے۔
گزشتہ دو دہائیوں پہلے حالات اتنے سنگین نہیں تھے اور ناہی آزادی کے بعد کبھی ملک کی عوام نے اتنے سنگین حالات بے روزگاری و غربت کا مشاہدہ کیا ہوگا! غریب عوام سطح غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہوچکی ہے۔ غریب دن بہ دن غریب ہوتا جارہا ہے اور سرمایہ دار امیر سے امیر تر ہوتے جا رہے ہیں۔ اس سے بے روزگاری کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور ساتھ اس بات کو اجاگر کرنا ضروری ہے کہ مزدوروں اور پرائیوٹ کمپنیوں،انڈسٹریس میں جاب کرنے والے افراد بھی کسی مزدور سے کم نہیں ہے دس سے بارہ اور چودہ گھنٹے کام کرنے کے باوجود انہیں ان کی محنت کے مطابق تنخواہیں نہیں دی جاتی ہے بلکہ ان کے ساتھ غلاموں کے جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ دن بھر جانوروں کی طرح محنت کرنے والا مزدور یا پھر کمپنی میں کام کرنے والا پرفیشنل مزدور ہو ان کی خون پسینے کی کمائی کا ایک بڑا حصہ حکومت جی ایس ٹی کے نام پر غیر محسوس طریقے سے وصول کر رہی ہے شاید کوئی چیز مارکیٹ میں ایسی نہیں بچی ہوگی جس پر جی ایس ٹی عائد کرنا باقی رہا ہو، ایک عام انسان جب محنت سے دن بھر کے گزارے لائق بڑی تگ و دو کرکے اپنے اہل و عیال کے لیے دو وقت کی روٹی کے لیے کام کرکے گھر لوٹتے وقت بنیادی ضروریات کی چیزیں خریدتا ہے تب اس کی کمائی کا 18 فیصد ٹیکس کی صورت میں حکومت کے خزانے میں جمع ہوچکا ہوتا ہے۔ لیکن اس بات کا احساس حکومت عام انسانوں کو نہیں ہونے دے رہی ہیں کیونکہ وہ کمپنیوں سے پہلے ہی ٹیکس وصول کرلیتے ہیں اور پھر عوام سے ایم آر پی کے ساتھ وصولی کرتے ہیں یعنی اگر آپ کو کوئی چیز پہلے 5 روپیے میں ملتی تھی اور آج بھی وہ چیز پانچ روپیے میں مارکیٹ میں دستیاب ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ سے جی ایس ٹی وصول نہیں کیا جارہا ہے بلکہ کمپنی نے اس چیز کی مقدار اور کوالٹی کو کم کردیا گیا ہے۔
اتنا ہی نہیں تعلیم یافتہ نوجوانوں کو حلال روزگار کے موقع تلاش کرنے پر بھی ملنا مشکل ہوچکا ہے پہلے پڑھے لکھے افراد کو آسانی سے جاب مل جایا کرتی تھی لیکن اب چپراسی کی نوکری کے لیے پی ایچ ڈی ہولڈر انٹرویو کے لیے قطاریں لگا کر کھڑے دیکھائی دیتے ہیں کسی سرکاری ادارے میں جاب نکلتی ہے تو وہاں دس خالی جگہوں کے لیے ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں فارم داخل کیے جاتے ہیں اور حکومت اس جگہ کو بھرنے کے لیے بھی ایک ہزار روپیے کی رقم فارم کے ساتھ وصول کرتی ہیں امتحانات ہوتے ہیں لیکن پھر بھی نوکری اس کو ملتی ہیں جس کے تعلقات کرپٹ لیڈروں سے اچھے ہویا وہ لیڈر کا رشتے دار یا قریبی ہو ان کے لیے جگہ فکس ہوجاتی ہیں۔
آج کے دور میں ایک سنگین مسئلہ قرضوں سے متعلق ہے ہر گلی کوچے چوک چوراہوں پٹرول پمپ پر لون اسکیم اور کریڈیٹ کارڈ کا اشتہار لگا ملے گا یا پھر کوئی شخص بینک کا نمائندہ مارکیٹنگ کرتا ہوا دکھائی دیگا یہ سرمایہ دارانہ نظام کی ہی دین ہے کہ عوام کو قرضوں کے بوجھ تلے اس طرح سے دبا کر رکھ دوں کہ وہ دو وقت کی روٹی اور سانس لینے زندہ رہنے کو ہی آزادی تصور کرنے لگ جائے۔
آج سب بڑی نہوست اور معاشرہ کا ناسور کوئی چیز ہے تو آج ہمارے معاشرے میں تیزی سے پھیل رہا بچت گٹ اور سودی لین دین بن چکا ہے جس سے کوئی گھر الہ ماشاء اللہ بچا ہوگا ورنہ ہر شخص سود اور قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اتنا ہی نہیں بلکہ بنت حوا بچت گٹ کے نام پر مل رہے دس پندرہ ہزار روپیے کے لیے اپنی عصمت و عزتیں پامال کر رہی ہے یہ سرمایہ کار اور پرائیوٹ لمیٹڈ بینک بھی خاص طور سے عورتوں کو قرض دے رہے ہیں جب کہ گھر کا چلانے والا مرد ہوتا ہے کمائی کرنے والا مرد ہوتا ہے لیکن قرض عورتوں کو دیا جارہا ہے اور پھر جب بچت گٹوں کے ہفتہ بھرنے کا وقت آتا ہے تو یہ بینک کے مالکان نوجوانوں کو قرض وصول کرنے کے لیے گھروں کے دروازے تک بھیج دیتے ہیں پہلے کسی غیر کا مسلم بستی علاقے میں رات کے وقت تو دور دن کے وقت میں بھی گزر نہیں ہوتا تھا بڑے بزرگ افراد گلی محلے میں نظر رکھتے تھے، لیکن آج یہ حرام خور مسلم علاقوں میں کھلے عام قرض کی وصولی کے لیے گھومتے ہیں راتوں کو خاص طور سے فون کال کرتے ہیں اور علاقوں میں دکھائی دیتے ہیں اور جب قرض بھرنے کے ہفتے گزرتے جاتے ہیں سود بڑھتا جاتا ہے تو یہ وصولی کرنے والے جنھیں عورتیں بڑے شوق سے سر سر کہتی ہیں میٹنگ کے نام پر اور کسی بڑے صاحب سے مدد یا ہفتہ معاف کروانے کے نام پر انھیں کسی زانی حرامی یا پھلانے سیٹھ کے کے بستر کی زینت بنا دیتے ہیں اور اس طرح بنت حوا کو جسم فروشی کے کاروبار میں منظم طریقے سے دھکیلتے ہیں۔
اور یہ پوری لابی کام کر رہی ہیں اس طرح سے نسلوں کو تباہ و برباد کیا جارہا ہے مسلمانوں کو مرتد کرنے کی سازش ہورہی ہیں لیکن ہمارے پاس اس کا کوئی متبادل موجود نہیں ہے اور ناہی اس کی فکر ہمیں ستا رہی ہیں۔ بلکہ ہمارا پیسہ تو میلوں ٹھیلوں عرسوں، جلسوں میں اور صرف بھیڑ جمع کرنے والے اجتماعات میں برتھ ڈے شادی بیاہ کی بیجا رسومات میں خرچ ہورہا ہے۔ کوئی منظم پالیسی ہمارے پاس نہیں ہے اور نا ہی ہم اس سمت میں توجہ دینا چاہتے ہیں، نا ہی ہمیں کوئی سروکار ہے ہمیں تو اپنے پلاٹنگ کے بزنس کو بڑھانا ہے مارکیٹ کے ریٹ بڑھانا ہے ایک دوسرے سے بڑھا چڑھا کر زمینوں کی قیمتوں کو بڑھانا ہے اور عام عوام کو ظلم و جبر غلامی کی عمیق گہرائیوں میں دکھیل دینا ہے۔ ہمیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہے کہ آنے والی نسلوں کا کیا بنے گا آج جو آگ ہمارے گلی محلےمیں لگی ہوئی ہے وہ کل کو کس طرف کا رخ لے گی اس کا اندازہ آج ہمیں نہیں ہے لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں یہاں صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے معاشی حالات کو درست کرنے کی طرف توجہ دیں اپنے علاقوں میں اجتماعی ذکوٰۃ اور بیت المال کے نظام کو قائم کریں جہاں پہلے سے کام ہورہا ہے اسے مضبوط اور منظم کریں اپنے علاقے کے علمائے کرام سے مشورہ کر کے ایسے پروگرام مرتب کریں جس سے بنت ہوا اور نوجوان کو قرضوں کے بوجھ سے باہر نکالا جاسکے اور بچایا جاسکے۔
ورنہ یہ سرمایہ دارانہ نظام نسلوں کو غلامی کی کے عمیق گہرائیوں میں دھکیل دیگا جس کے ازالے کے لیے بڑی مدت درکار ہوگی اور وہ نسلیں اپنے آبا پر شرمندگی محسوس کریں گی اور انہیں کبھی معاف نہیں کرینگی آنے والی نسلوں کو آزادانہ زندگی گزارتے دیکھنا چاہتے ہیں تو آج اپنے معاشی حالات کو درست کرنا ضروری ہے ایمانی غیرت و حمیت کو بیدار کرنا ضروری ہے دینی شعور کے ساتھ پروان چڑھانے کی ضرورت ہے حرام رزق سے بچا کر حلال روزگار سے جوڑنے کی ضرورت ہے قرضوں سے بچا کر حلال تجارت و معیشت صنعت کاری سے جوڑنے کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ آئیندہ مستقبلِ قریب کے حالات یہ اشارہ کر رہ ہیں کہ انسانوں کی کوئی قیمت نہیں بچے گی سوائے ایک مزدور اور غلام کی حیثیت کے طوائف الملوکی میں صرف دو چیزیں کام آتی ہے ایک دفائی نظام اور روٹی۔
