انس مسرور انصاری
قومی اردو تحریک فاؤنڈیشن
جب تک آپ خود اپنی قدر نہیں کریں گے، دنیا آپ کی قدر نہیں کرے گی۔‘‘اپنی قدرآپ’’سے مرادیہ ہے کہ آپ اپنے اندر ایسے اعلیٰ اوصاف پیدا کریں کہ دوسرے لوگ متاثر ہوں۔ اپنے کردار و عمل سے متاثر کرنے کی پہلی منزل آپ کا اپنا گھر ہے۔ اپنے مثالی کردار سے، اپنے خلوص و محبت اور ایثار سے گھر کے افراد پر اپنا اثر قائم کریں۔ اپنے احباب میں اپنی شخصیت کو باوقار انداز میں پیش کریں۔ دوسروں کے آلام و مصائب میں ان کی دستگیری کریں۔ ان کے شریکِ حال رہیں۔ جس حدتک ممکن ہو عملی طور پر پرخلوص معاونت کریں۔اپنے آپ کوایسے درخت کی طرح فعال اور نفع بخش بنائیں جو پھل بھی دیتا ہے اور سایہ بھی۔ اس روش پر چلنے سے بتدریج آپ کی شخصیت بنے گی اور کچھ ہی عرصہ میں آپ معاشرہ میں پُروقار آدمی بن جائیں گے۔ اخلاقِ نبویﷺ کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم نے معاشرہ میں سب سے پہلے اپنے اعلیٰ ترین کردار و اخلاق کو پیش کیا پھر اسلام کی دعوت دی اور اُس کا آغاز سب سے پہلے اپنے گھر والوں سے کیا۔ اس سنتِ نبوی پر عمل کرتے ہوئے آپ کو بھی اس کا آغاز سب سے پہلے اپنے گھر سے کرنا ہے۔ پھر پڑوس میں۔ پھر محلّہ، قصبہ اور شہر میں۔ اس کام کو ایک جملہ میں آپ ‘‘خدمتِ خلق’’ بھی کہہ سکتے ہیں۔خدمت کے اس دائرہ کو روز بہ روز وسیع سے وسیع تر کرتے جائیں۔ لوگ آپ کے گرویدہ ہوتے چلے جائیں گے۔ شادی بیاہ کی تقریبات اور سماجی محفلوں میں آپ کو مدعو کیا جائے تو ایک مخلص اور ذمّہ دار آدمی کی حیثیت سے شریک ہوں۔ آپ کے عمل سے اس بات کا اظہار ضروری ہے کہ آپ دوسروں کے بہی خواہ اور خیراندیش ہیں۔ دوسروں کے دلوں میں جگہ پانے کے لیے آپ کو محنت، ایثار اور دور اندیشی سے کام لینا ہوگا۔ یہ سارے کام آپ کو اپنی معیشت کے استحکام کے ساتھ کرنا ہے۔ بعض موقعوں پر کسی قدر نقصانات سے بھی دوچار ہونا پڑے گا لیکن آگے چل کر یہی نقصانات آپ کے حق میں مفید ثابت ہوں گے۔ سود و زیاں کی اس دنیا میں بنا کچھ کھوئے کچھ بھی نہیں ملنے والا ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جس پر چل کر آپ بہت کم وقت میں ہردل عزیز ہو جائیں گے۔ کچھ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے آپ پر ایک مصنوعی خول سا چڑھائے رکھتے ہیں۔ اپنے آپ کولیے دیے رہتے ہیں۔اقتصادی ابتری کے شکار افراد سے ملنا جُلنا اُنھیں سلام کرنا، خیروعافیت دریافت کرنا،اپنے پاس بیٹھنے اور بٹھانے کو کسرِ شان سمجھتے ہیں۔ وہ اپنے ہم رتبہ لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا پسند کرتے ہیں۔ ان کے اس ناروا سلوک میں اپنی شخصیت کو بارعب رکھنے اور اپنے آپ کو بلند مرتبہ ظاہر کرنے کی غرض پوشیدہ ہوتی ہے۔ اس طرح یہ لوگ اپنی خودساختہ شخصیت کا رعب ڈالنا چاہتے ہیں۔ اپنے آپ کو دوسروں سے برتر ثابت کرنے کے لیے بداخلاقیوں کے مظاہرہ سے بھی گریز نھیں کرتے لیکن وہ جو چاہتے ہیں وہ اُنھیں مل نہیں پاتا۔ اُن کی بدسلوکی اور غیراخلاقی حرکتوں سے عام لوگ اُن سے متنفر ہوجاتے اور حسد و عداوت رکھنے لگتے ہیں۔ ایک بڑا عوامی طبقہ ان سے گریز کرنے لگتا ہے۔ اس کاسب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ان کا حلقۂ احباب بہت محدود ہو جاتا ہے۔ وہ ایک منفی شخصیت بن جاتے ہیں۔ عام آدمی کی ان سے وابستگی غرض مندانہ ہوتی ہے۔لوگ اپنی غرض سے ان کے پاس جاتے ہیں لیکن ان کے لیے اپنے دل میں محبت واحترام کا جذبہ نہیں رکھتے۔خودساختہ شخصیت والا آدمی انسانی معاشرہ کے لیے ایک غیرنفع بخش آدمی ہے۔ معاشرہ اسے نظر انداز کرنے لگتا ہے۔ وہ معاشرہ سے کٹ جاتا ہے۔ جب اس کے ناروا اور غیرمخلصانہ سلوک کی وجہ سے لوگ اس سے کترانے لگتے ہیں تو وہ اپنے محدود حلقہ میں گھٹن اور تنہائی محسوس کرنے لگتا ہے۔ ایسے ماحول میں جہاں آدمی کا دم گھٹنے لگتا ہے وہیں طرح طرح کے ذہنی و نفسیاتی امراض پیدا ہو جاتے ہیں۔ آدمی مسلسل گھٹن آلود تنہائی سے بتدریج احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتا ہے۔ اسے دنیا بھر سے شکایتیں ہونے لگتی ہیں۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کا اپنا کوئی نہیں ہے جس سے وہ اپنے دل کی بات کہہ سکے۔اسے ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے تواس کے غرض مندانہ حلقہ میں کوئی ہمدرد نہیں مل پاتا۔ اس طرح وہ ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے۔ احساسِ کمتری کی وجہ سے جب آدمی کے اندر اس طرح کے خیالات پیدا ہوتے ہیں توان کے اثرات زندگی کے ہرشعبہ کو متاثر کرتے ہیں ۔ایسا شخص دھیرے دھیرے اپنی تمام فطری صلاحیتیں کھو بیٹھتا ہے۔ وہ دنیامیں نہ کسی کام کارہ جاتاہے اور نہ کوئی بڑاکارنامہ انجام دے سکتاہے۔ وہ تعلیم یافتہ شخص جواعلیٰ سماجی اقدار کا پاسدار اور نگہبان ہوسکتا تھا اور جس کی علمی لیاقت اور ذہنی بصیرت سے معاشرہ کے صالح عناصر کو تقویت مل سکتی تھی، اس کی اپنی زندگی خود اسی کے لیے ایک طرح کا عذاب اور سوالیہ نشان بن کر رہ جاتی ہے۔ اس کے برعکس وہی آدمی جب اپنے اندر اعلیٰ ترین اوصاف پیدا کرکے اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو بیدار کر لیتا ہے۔دوسروں کے دل جیتنے کا ہنر آجاتا ہے تو اس کے گرد اسے چاہنے والوں کا ایک بڑا مجمع اکٹھا ہوجاتاہے۔ جاں نثاروں کاایک گِروہ تیارہو جاتاہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ آدمی دوسروں کے لیے خودکو نفع بخش بنائے۔ غور طلب ہے کہ اندازِ فکر کی ایک ذراسی تبدیلی کتنے بڑے انقلاب کاپیش خیمہ بن جاتی ہے۔اخلاص ومروّت اور ایثار و محبت کے ساتھ ہی اس کے اندر ذوقِ عمل اور مستحکم ارادہ کی طاقت بھی ہو تو ایسا شخص کسی بڑے انقلاب کا ہیرو ہوسکتاہے۔ آپ چاہیں توآپ بھی ایک بڑے اور شاندار انقلاب کے ہیرو بن سکتے ہیں۔اس کی سب سے اچھی اور بہترین مثال سر سیّد احمد خاں کی ہے۔ اُنھوں نے اپنے اعلیٰ ترین اوصاف ،جہدِ مسلسل ،اخلاص و محبت، کردار وع مل اور قومی جذبہ کے سبب وقت کی مقتدر اور بااثر شخصیات کواپنے گِرد جمع کرلیا تھا۔ والیانِ ریاست اورانگریزی حکام تک اُن کے گرویدہ تھے۔ سرسیّداحمدخاں کے قومی جذبہ، تعلیمی مشن، مستحکم ارادے، قوتِ عمل اور پُرخلوص مقاصد کا لامثال نمونہ ہے آج کی مسلم یونیورسٹی جونہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ پورے ملک کے لیے افتخار کا باعث ہے۔تاریخ میں سرسیّد احمد خاں ایک پُرآشوب اور عبوری دَور میں صالح انقلاب کے ہیرو اور قومی ریفارمر تسلیم کیے جاتے ہیں۔ اُن کے عزائم اور مقاصد کی تکمیل پرپوری قوم کو بجاطور پرنازہے۔ موجودہ حالات میں ہرمسلمان پریہ بھی فرض ہے کہ وہ اعلیٰ درجہ کے تعلیمی ادارے قائم کریں۔ جب تک قوم تعلیم کے میدان میں خودکفیل نہ ہوگی،اس کی بقاء و تحفظ اور ترقی ممکن نہیں۔ ایثار و قربانی کے بغیر کبھی کوئی انقلاب برپا نہیں کیا جاسکتا۔ مسلم قوم کی ناخواندگی دور کرنے کے لیے ایثار و قربانی کی ضرورت ہے۔ آج قوم کے لیے تعلیم پہلی ضرورت ہے۔ جو لوگ اس راہ میں جدوجہد کریں وہ ثواب کے مستحق ہیں۔ کسی قوم کے لیے دنیاوی تعلیم کافی ہوسکتی ہے لیکن مسلمانوں کو دو محاذوں پرکام کرنا ہے۔ اُنھیں دینی تعلیم بھی حاصل کرنی ہے اور دنیاوی تعلیم بھی۔! اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔اس قوم کی بقاء وتحفظ اورترقی کے لیے اوّل تعلیم۔ دوئم تعلیم اور سوئم تعلیم ہے۔ تعلیمی خود کفالتی اس کی آزادی کا واحد راستہ ہے۔ علامہ اقبال کے شعر میں ذرا سی ترمیم کے ساتھ حقیقت منکشف ہوتی ہے۔
نہ سمجھوگے تومٹ جاؤ گے ائے ہندی مسلمانو!
تمھاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
٭٭٭
