مدثراحمد، شیموگہ
(اگر عالم ارواح میں اُردو کے مرحوم علمبردار ایک دائرے میں بیٹھ کر باتیںکرنے کا موقع ملتا تو کچھ بات ایسی ہوتی۔ واضح رہے کہ یہ مضمون محض طنزو مزاح پر مبنی ہے حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں )۔
مرزا غالب (ناک بھوں چڑھاتے ہوئے): کیا کہا؟ اردو زندہ ہے؟
بھائی، اردو زندہ ہے بالکل ویسے ہی جیسے قبر میں لیٹا مردہ کہہ رہا ہو۔ میں خیریت سے ہوں!
حالی: بچوں کو ”ذ” اور”ض ” کی پہچان نہیں، مگرemoji ٹھیک جگہ پر لگاتے ہیں، بولو، اس زبان کا کیا کریں؟
منٹو (غصے سے): کیا کریں حالی صاحب؟ اب اردو سے محبت نہیں، منافقت ہو رہی ہے۔ ایک طرف مشاعرے، دوسری طرف اسکولوں میں اردو کا جنازہ نکالا جارہاہے۔ یہ اور بات ہے کہ وہ اردو ہم تک نہیں پہنچی ۔
سرسید (جھنجھلا کر): میں نے سوچا تھا اُردو میں سائنس، اُردو میں منطق۔۔۔۔(کچھ باتیں رہ جاتی ہیں ) ۔۔۔۔۔یہاں تو اردو میں بس ٹک ٹاک شاعری اوردل ٹوٹنے کا دکھ بچا ہے!
اقبال (بھنویں چڑھاتے ہوئے) :۔ خودی کا سبق دیا تھا، یہ نسل فالوورز کی غلام نکل گئی۔ نہ اردو کی پہچان، نہ اپنی۔
غالب (قہقہہ لگا کر): اب تو غالب کا شعر بھی فونٹ اورفالوکا محتاج ہے، اردو والوں نے دل کوDIL بھی بنا دیا۔
منٹو: اردو اب صرف ماتم کے قابل ہے۔ نوجوان کے پاس وقت ہے ریل بنانے کا، پر اردو کا ایک لفظ پڑھنے کی فرصت نہیں۔
حالی:میں نے مسدس اردو کے لیے لکھی تھی۔ آج کل کے شاعر تو Copy-Paste شاعری کر کے خود کو غالب سمجھتے ہیں!
سر سید: اس قوم کے والدین خود بچوں کو کہتے ہیں: اردو میں کیا رکھا ہے؟ انگریزی سیکھو، نوکری ملے گی! ایسی سوچ میں اردو نہیں، ضمیر مر جاتا ہے۔
اقبال (سخت لہجے میں): قوموں کی ترقی زبان سے ہوتی ہے۔ یہ قوم انگریزی بول بول کے عمل سے بھی غلام بن گئی ہے۔
غالب: یاد ہے حالی، تم نے کہا تھااردو کا حال برا ہے؟ اب تو حال نہیں، کفن بھی چوری ہو چکا ہے!
منٹو (چبھتے ہوئے لہجے میں): بس ایک کام بچا ہے، کسی دن ”اردو ڈے” منائیں گے، اردو زبان کو سلام بول کر رومن اردو میں اسٹوری لگا دیں گے۔
سر سید: اور ٹیگ کریں گے: #ProudToBeUrduSpeaker #حالانکہ بولنا تک نہیں آتا۔
اقبال (تلخ مسکراہٹ کے ساتھ) :اب تو خواب میں بھی اردو آتی ہے، پر subtitles کے ساتھ۔
غالب (حقہ کا آخری کش لیتے ہوئے):۔ میں تو کہتا ہوں، اب کوئی اُردو کی قبر پر WiFi لگا دے، شاید کوئی بیٹھ کر دو جملے پڑھ ہی لے۔
(ختم شد)
