(عبدالمبین منصوری)
سدھارتھ نگر: سوشل ویلفیئر فاؤنڈیشن "نئی آواز” کی 151 ویں شعری نششت ہمیشہ کی طرح ڈاکٹر جاوید کمال کی رہائش گاہ پر اختتام پذیر ہوا۔
جس میں دور دراز اور قر ب و جوارکے شعراء اور ادیبوں نے شرکت کیا۔
پروگرام شروع ہونے سے پہلے سجیت جیسوال، رام کرن گپتا، کیلاش ترپاٹھی اور منوج سنگھ کو خراج عقیدت پیش کیا گیا جو ایک ہفتہ قبل ایک سڑک حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔
نششت کا آغاز انور علی فیضی نے نعت پاک سے کیا۔
روضہ شاہ کا گھر مجھ کو نظارہ ہو جائے
میری بخشش کا سر حشر ذریعہ ہو جائے
اس کے بعد ڈاکٹر نوشاد اعظمی نے کہا
ابھی ہم ہیں ابھی تم ہوابھی ہے کارواں باقی
زمانے میں محبت کی ابھی ہے داستاں باقی
ہمارے زخم چھوٹا سا جاننے والے
یہ زخم بھر نہیں سکتا ہے سو مہینے میں
امجد علی
ہماری آنکھ سے آنسوں مسلسل بہتے رہتے ہیں
یہاں حاضر سبھی چہرے انھیں ہی یاد کرتے ہیں
پنکج سدھارتھ
آپ نے جس طرح ماحول بنا رکھا
لوگ آ جائیں گے سڑکوں پہ بغاوت کر کے
شیوساگر سحر
یا خدا اس کو بہت جلد زمانے سے اٹھا
بد دعا دے کے کوئی میرے سرہانے سے اٹھا
ایڈوکیٹ شاداب شبیری
اب کس پہ اعتبار یہاں کیجیے جناب
احسان کیجئے تو بھلا دیجئے جناب
ڈاکٹر جاوید کمال
دل کو پتھر بنا رہا ہوں میں
زخم پہ زخم کھا رہا ہوں میں
حجر کی شام تیری یاد آئی
اور آنسوں بہا رہا ہوں میں
ڈاکٹر فضل الرحمن
نششت کی صدارت ڈاکٹر فضل الرحمن نے اور نظامت کا کام ڈاکٹر جاوید کمال نے بخوبی انجا م دیا۔
مہمان خصوصی پروفیسر اختر حسین، راکیش یادو، روی یادو اور ہریندر کی موجودگی قابل ستائش رہی ۔
