مضمون نگار:………. صوفیہ معین ، کلکتہ

مرزا اسداللہ خاں غالب اردو کے ایک عظیم شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ فارسی کے بھی بہترین شاعر ہونے کا شرف حاصل ہے۔ غالب کو صرف شاعر کے حیثیت سے ہی جاننا کافی نہیں ہے بلکہ ان کو جدید نثر نگار کا بانی بھی قرار دیا جاتا ہے۔ اسی ضمن میں اگر ہم ان کی تصنیف ’’قادر نامہ‘‘کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں ایک اہم اور دلچسپ پہلو نظر آ تا ہےوہ یہ کہ غالب نے صرف شاعری اور نثر نگاری ہی نہیں کی بلکہ اردو قاعدے کی ابتدائی مرحلوں کے لیے بھی اہم رول ادا کیا ہے ۔
’’ قادر نامہ‘‘ مرزا غالب کی اہم تصنیف ہے جو کہ مختلف ناقدین کے تحت ان کے دور حیات میں منظر عام پر آ چکا تھا جو کہ ایک کتابچہ کی شکل میں تھا۔غالب نے ’’قادر نامہ‘‘ اپنے بھانجے مرزا عارف کے دونوں بچوں باقر علی خاں اور حسین علی خاں کو اردو سکھانے کی غرض سے لکھا تھا ۔ اس رسالہ میں غالب نے اردو فارسی کے ہم معنیٰ الفاظ کا استعمال زیادہ سے زیادہ کیا ہے اور ساتھ ہی ہندی الفاظ کو بھی شامل کیا ہے ۔ ’’قادر نامہ‘‘میں کل۱۳۷؍ اشعار ، ۱۲؍شعر ،۲؍ غزلیں اور آخر میں ایک قطعہ بھی شامل ہے۔
یوں تو غالب نے مختلف اصناف کو اپنے قلم سے روشن کیا جن میں ان کی فارسی کی چند تصانیف ’’پنج آ ہنگ، مہر نیم روز، قاطع برہان، دستنبو ، کلیات نظم فارسی، سید چین ، سبد باغ اردو وغیرہ شامل ہیں تو اردو زبان کو بھی انھوں نے گوہر نایاب سے نوازا جن میں دیوان غالب، عود ہندی، اردوئے معلی، وغیرہ شامل ہیں ۔ ’’قادر نامہ‘‘ بھی غالب کی اردو تصنیف میں شامل ہے لیکن اس کی پہچان باقی سب کتابوں سے مختلف ہے اس کی وجہ ان کے لکھنے کا ڈھنگ ہے ۔ اس کتاب کے چند اشعار پر اگر ہم غور وفکر کریں تو ہمیں بخوبی اس بات کا اندازہ ہو سکتا ہے جیسے:

اسم وہ ہے جس کو تم کہتے ہو نام
کعبہ مکہ وہ جو ہے بیت الحرام
گرد پھرنے کو کہیں گے ہم طواف
بیٹھ رہنا گوشے میں ہے اعتکاف

ان اشعار سے ہمیں بہت ہی آسانی کے ساتھ غالب کے دلچسپ ترتیب و ترکیب کا اندازہ ہوتا ہے اور ذو معنی لفظ کا علم ہوتا ہے جیسے ’’کعبہ ، مکہ، اور بیت الحرام‘‘کا استعمال ۔ اگر ہم اپنے بچوں کو ابتدائی مرحلوں میں ہی ’’قادر نامہ ‘‘کا مطالعہ کروا دیں تو ہمارے بچوں کی زبان اس قدر مضبوط ہو سکتی ہے کہ وہ ایک عمر آ نے کے بعد ادب کی تفہیم میں آسانی محسوس کرلیں ۔
اسی کے ساتھ ’’قادر نامہ‘‘ کی ایک اور خصوصیت فارسی آمیز الفاظ ہیں ۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں:

جس طرح گہنے کی زیور فارسی
اس طرح ہنسلی کی پرگر فارسی
فارسی آئینہ ، ہندی آرسی
اور ہے کنگھی کی شانہ فارسی

ان اشعار میں غالب نے فارسی آمیز لفظوں کا استعمال کیا ہے اور اپنی تصنیف "قادر نامہ” کو بے حد خوبصورت اور دلچسپ بنا دیا ہے ۔قادر نہ جس اہمیت کا حامل ہے وہ اس سے محروم ہے اور یہ ایک سبب ہے کہ بچے گریجویشن میں آجانے کے بعد بھی اردو زبان پر ملکہ حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے