(رپورٹ ضلع مہاراج گنج سے):
گزشتہ ہفتے ضلع مہاراج میں قومی یکجہتی کو بڑھاوا دینے کی غرض سے ایک شعری نشست کا انعقاد کیا گیا۔ ایس این فاؤنڈیشن مہاراج گنج کی جانب سے سنہرے الفاظ کے بینر کے زیر اہتمام پہلی بار ہونے والی اس شعری نشست میں قرب و جوار کے شعراء اور کویوں نے شرکت کی اور قومی یکجہتی کی مناسبت سے ایک سے ایک کلام پیش کیے۔ نشست کا آغاز انور علی فیضی نے ایک نعت پاک کے بعد اس شعر کے ساتھ کیا۔۔۔
تجھ کو میں بھولے سے بھی بھول سکوں ناممکن ، یہ تعلق تو رہے گا ، مرے مر جانے تک۔
سلسلہ وار شعرا اور کویوں کے کلام کے منتخب اشعار کچھ اس طرح رہے:
سمجھتا ہوں سب اشارہ تو اپ جانیے، ہے گر کوئی ہم سے پیارا تو اپ چاہیے۔ خان افسر فیض۔
نبی کے ساتھ وہ مہمان ہوگا جنت میں، کسی یتیم کا جو بھی کفیل ہوتا ہے۔ امجد رحمانی۔
محبت کا سفر میرا اگر آسان ہو جائے، تو ساری زندگی تجھ پہ مری قربان ہو جائے۔ پنکج سدھارتھ ۔
موسم یہی یہی تھا مہینہ اسی جگہ، ڈوبا تھا میرے دل کا سفینہ اسی جگہ۔ شاداب شبیری۔
یہی خواب پریشاں تو حقیقت میں بدلتے ہیں، ہے تم آنکھوں کے لئے ان کی تمنا کیوں نہیں کرتے۔ ریاض قاصد۔
نہ روز و شب نے نہ شام و سحر نے لوٹا ہے، مجھے تو صرف کسی کی نظر نے لوٹا ہے۔ سحر محمود۔
ہے میری آوارگی فاقہ کشی سب سے الگ، جی رہا ہوں اس لیے میں زندگی سب سے الگ۔ شیو ساگر سحر۔
زمین پہ ایک دن آئے گا وہ بھی، جو اونچا اونچا اڑتا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر جاوید کمال۔
اس کے علاوہ مونو سنگھ نے بھی اپنی کویتا سنا کر لوگوں کی واہ واہی لوٹی۔ نشست کی صدارت کر رہے ڈاکٹر جاوید کمال کو ایس این فاؤنڈیشن کے بانی رضوان احمد اور مبارک خان نے شال اوڑھا کر انہیں اعزاز بخشا۔ اس کے علاوہ آئے ہوئے سبھی شعراء اور کویوں کو سرٹیفیکیٹ بھی دیئے گئے۔ نشست کی نظامت انور علی فیضی نے کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے