مرتب: مولانا وصی اللہ عبدالحکیم مدنی

تبصره نگار: مونس فیضی

محسوس جو میں نے کیا

 خاکسار ( مونس فیضی ) کو حال ہی میں شیخ وصی اللہ مدنی حفظہ اللہ ناظم ضلعی جمعیت اہل حدیث، سدھارتھ نگر کے توسط سے رئیس القلم علامہ محمد رئیس ندوی رحمہ اللہ کی حیات و خدمات پر مبنی کتاب موصول ہوئی۔ آپ خود پولیس آفس کے دفتر تشریف لائے اور بڑی محبت سے کتاب پیش کی، جسے میں اپنی حوصلہ افزائی سمجھتا ہوں۔ میں نے کتاب کا مطالعہ کیا، جی چاہتا ہے کہ جو کچھ محسوس کیا،اسے بیان کردوں۔ خاکسار کا تبصرہ ملاحظہ ہو!

وکیل سلفیت علامہ محمد رئیس ندوی رحمہ اللہ کا انتقال مئی 2009ء میں بنارس میں ہوا تھا اور مورخہ: 21،20 اپریل 2011ء بروز بدھ، جمعرات کانفرنس ہال خیر ٹیکنیکل سنٹر، ڈومریاگنج، اترپردیش میں ان پر ضلعی جمعیت اہلِ حدیث، سدھارتھ نگر، یوپی کے زیراہتمام ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا تھا، جس کے کنوینر معروف عالم دین مولانا عبدالمنان سلفی رحمہ اللہ تھے، اس سیمینار میں جماعت کے اکابر علماء اور ندوی صاحب کے شاگردوں کی سرگرم شرکت رہی اور سیمینار اپنے مقصد میں کامیاب رہا۔

کتاب کے مرتب معروف عالمِ دین، ممتاز قلم کار اور ضلعی جمعیت اہل حدیث، سدھارتھ نگر کے ناظم شیخ وصی اللہ مدنی ہیں۔ جو علامہ محمد رئیس ندوی رحمہ اللہ کے ممتاز شاگرد بھی ہیں۔ مرتب وہ گراں مایہ اور گوہر آبدار شخصیت کے حامل ہیں جو ہماری خوش بختی، عطوفت و عنایت کے علمبردار اور تازہ دم شاہین کی طرح محو پرواز بھی ہیں۔ آپ نے علامہ کی حیات و خدمات کے توسط سے ان کے ذہنی ارتقاء، بین المتون تعقلات اور ان کی زندگی کے مشاہدات کو بڑی دیانت داری اور مخلصانہ جان فشانی سے ہم تک پہنچایا ہے اور نہایت دل کش انداز میں اپنے ممدوح علامہ محمد رئیس ندوی رحمہ اللہ کی زندگی کو کتابی صورت دے کر دلوں کو شاد کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک دیرینہ قرض تھا جو آپ نے بحسن و خوبی ادا کیا اور گویا یہ پیغام دیا کہ

میں نے اس واسطے چھیڑی ہے کہانی تاکہ

تیرے کردار کی عظمت کو زمانہ سمجھے

شیخ کہ یہ کتاب دراصل 2011 ء منعقدہ سیمنار میں پیش کیے مقالات کا مجموعہ ہے مگر مرتب کتاب نے ان مقالات کے علاوہ بہت سارے مختلف اہل علم سے مقالات لکھوا کر علامہ ندوی کی زندگی کے مختلف گوشوں کو اجاگر کیا ہے۔

کتاب کا آغاز مولانا محمد ابراہیم مدنی امیر ضلعی جمعیت اہلِ حدیث، سدھارتھ نگر کے سخن ہائے گفتنی سے کیا گیا ہے، پھر عرضِ مرتب شامل ہے، جنھوں نے دفتر کو ترتیب دیا ہے۔ دونوں حضرات کی تحریروں میں صاف گوئی، حق پسندی، برجستگی کے ساتھ پیغام بھی ہے اور جماعت کے مؤسسین و بانیان کا تذکرہ بھی۔ اس کے بعد سلاطین علم وفن کے دس پیغامات و تاثرات پیش کیے گئے ہیں، تمام تاثرات دل کش و دل آویز، پر مغز اور قابل مطالعہ ہیں۔ باب کا آغاز حیات ندوی و خصوصیات سے ہوتا ہے، اس کے تحت معتبر علماء وارباب قرطاس وقلم کے لکھے بتیس چھوٹے بڑے قیمتی مضامین شامل ہیں جن میں سب سے مفصل مضمون ستائیس صفحات پر مشتمل علامہ ندوی رحمہ اللہ کے داماد مولانا محمد اسماعیل سلفی کا ہے۔ جماعت کے کہنہ مشق اور معروف صحافی سہیل انجم کا قلمی خاکہ فصاحت و بلاغت کا آبشار اور مقفع و مسجع اسلوب کا عمیق سمندر ہے جو اپنے دامن میں مفاہیم و مطالب اور جاذبیت و کشش سے بھرپور ہے۔ آپ کی تحریر میں الفاظ کی سجاوٹ، بیان کی رفعت، کمال کی جدت، سب کچھ موجود ہے، آپ کا منفرد طرز تحریر قابل رشک ہے، اس لیے کتاب کی ترتیب میں ان کی شمولیت کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ اس کے بعد عالمی شہرت یافتہ اسکالر کئی کتابوں کے مصنف ومحقق ڈاکٹر عبدالرحمن پریوائی پھر علمی و فکری شخصیت سلطان القلم شیخ عبدالمعید مدنی علی گڑھ کی تحریر ہے جس میں جادو بیانی، دریاؤں کی سی روانی، حقائق و دقائق کی فراوانی کا عکس جمیل ہے تو دوسری طرف جذبات کی حرارت بھی محسوس کی جاسکتی ہے۔ وہیں جماعت کے فقیہ وادیب مولانا ابو العاص صاحب وحیدی نے مختصر اور نازش جماعت، بےباک صحافی اور عالمی تجزیہ نگار مولانا شمیم احمد ندوی نے مفصل طور پر علامہ کی علمی، ادبی، دینی وتصنیفی کاوشوں کا نہایت عادلانہ محاکمہ کیا ہے۔ علاوہ ازیں دیگر ابواب میں انتیس اہم با کمال قلم کاروں کے مضامین و مقالات ہیں جن میں علامہ ندوی رحمہ اللہ کے اعلیٰ صفات و کمالات، عمدہ تصانیف وتالیفات پر بھر پور گفتگو کی گئی ہے۔ نیز آپ کے محدثانہ، مناظرانہ، متکلمانہ، تحقیقانہ اور مؤرخانہ اسالیب کا احاطہ اس کتاب میں بڑی خوب صورتی سے کیا گیا ہے۔ علماء کی خاص قیمتی تحریریں کتاب کی زینت ہیں۔

میری نظر میں چند ایک کو چھوڑ کر زیادہ تر معروف علماء، شہرت یافتہ قلمکار، مایہ ناز ادیب و تبصرہ نگار ہیں جنھوں نے علمی، ادبی وتحقیقی انداز میں قلم اٹھایا ہے۔ البتہ چند ارباب قلم کے خیالات کے اظہار میں جابجا تکلفات اور تصنع نظر آتے ہیں جو زیب نہیں دیتے۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ خیالات میں محو کوئی دل نشیں بات نوک قلم پہ آجائے یا کوئی پُر کیف شعر ذہن پر دستک دے جو ضبط تحریر ہو، کچھ یہیں نہیں رکے بلکہ علامہ ندوی کی حیات لکھتے لکھتے اپنی ستائش کی جھلک دکھانے میں الجھ گئے ع

ہم سخن فہم ہیں، سمجھتے ہیں

زیر تبصرہ کتاب کے مضامین سے معلوم ہوتا ہے کہ اسّی (٨٠) فیصد مضامین و مقالات پر ایسے قلم کاروں نے قلم کاری کی ہے جو علامہ کے قریبی اور نمایاں شاگرد ہیں مگر چند ان علماء و شعراء کو بھی شامل کیا گیا ہے جو اس عالمِ ناسُوت میں موجود نہیں ہیں۔

صفحہ 603 سے نغمات کا سلسلہ شروع ہوتا ہے، اس میں کل سترہ شعراء کے کلام ہیں۔ شعراء حضرات نے تعزیتی نظم کی زبان میں مبالغہ آرائی سے دامن بچاتے اور حق بیانی کو اپناتے ہوئے اوصاف و کمالات کا ذکر کیا ہے۔ اپنے محبوب شخصیت کی تعریف و توصیف میں کہے گئے جذبات کو اشعار کے قالب میں ڈھال کر اپنی والہانہ عقیدت ومحبت کا اظہار کیا ہے، مگر تعریف میں حد تجاوز سے قلم کو آگے بڑھنے نہیں دیا۔ نغمات میں پرکشش ردیف و قافیے نظر آتے ہیں وہیں حالی کی منظر نگاری اور غالب کی نکتہ آفرینی بھی دکھائی دیتی ہے۔ کتاب میں جگہ پانے والی ناچیز کی نظم بھی ہے۔

علامہ رحمہ اللہ نے کوئی ڈیڑھ درجن سے زائد کتابیں تصنیف کی ہیں جو بہت ہی قیمتی علمی سرمایہ ہیں، ان شاء اللہ ان کی روشنی صدیوں تک سلامت رہے گی۔ آپ کی کتابیں اس بات کی شاہد ہیں کہ آپ رئیس القلم تھے، ایک جید عالم دین، ایک اعلیٰ درجے کے مفکر و مدبر اور بے مثال مصنف و مؤلف تھے۔

ایک خاص بات یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ اس سوانحی کتاب کے مضمون نگاروں نے لمبے لمبے مضامین سے گریز کیا ہے، کتاب بے جا طوالت اور تکرار کے عیب سے پاک ہے۔

کتاب کے آخر میں مولانا عبد المنان سلفی رحمہ اللہ کی تحریر کردہ روداد سیمینار شامل ہے جو کتاب کا حسن دوبالا کرتی ہے۔ یہ کتاب سب کے لیے اہم ہے مگر ان کے لیے بہت خاص ہے جو علامہ ندوی کی شخصیت اور فن سے وابستہ ہیں یا ان کے تلامذہ ہیں۔ مُرتبِ کتاب شیخ وصی اللہ مدنی کو ارباب قلم کی جانب سے دلی مبارکباد کہ انھوں نے علامہ کی حیات کی کتاب ہم تک پہنچائی۔ جماعت کے اس بے لوث مرتب کو اس تبصرہ نگار مونس فیضی کا سلام۔ وہیں مولانا محبوب عالم سلفی کو خصوصی شکریہ کا نذرانہ جنھوں نے کتاب پر نظر عمیق ڈال کر تصحیح و پروف ریڈنگ کے ساتھ تکرار جیسی پیش آمدہ دشواریوں کی گھاٹیاں عبور کیں اور اس کتاب کے شائع ہونے تک دلچسپی اور حوصلے کے ساتھ مرتب کے شانہ بشانہ کھڑے نظر آئے۔ اس کتاب میں آپ کا کردار روشن چراغ کے مانند رہا، ان کے علاوہ رفیق محترم عتیق الرحمن سراجی کمپیوٹر آپریٹر کی محنت کو صد آفریں کے پھول۔

دیدہ زیب سرورق سے مزین یہ کتاب اپنی مثال آپ ہے، مرشد کی معیاری طباعت دل کو لبھاتا ہے، کتاب کی ضخامت 640 صفحات پر مشتمل ہے، کتاب کی رقم، رقم نہیں ہے، بلکہ لائبریریوں، مقالہ نگاروں اور باذوق علماء و ارباب قلم کے لیے علمی ہدیہ ہے، یہ کتاب ضلعی جمعیت اہلِ حدیث، سدھارتھ نگر، یوپی نے شائع کی ہے۔

محسوس جو میں نے کیا، اظہار اس کا کر دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے