محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک

۱۔ صراط ِ مستقیم 
اس کاذہن عجیب رگوں اور ریشوں سے بناتھا۔ جہاں کہیں مسائل ہوں ، شبہ ہو،کسی کی ناپسندیدگی یا برہم ہونے کااندازہ ہوتو اس طرف جانے سے وہ صاف منع کردیتا، لیکن دوسری طرف سے آنے والاسماجی دباؤ ذہن ودل کی منطق کے خلاف ہواکرتاتھا۔
اسی کشمکش کے درمیان زندگی کاراستہ آگے کی جانب طئے کرناہوتا ،آگے بڑھتے رہنے کی خواہش، تلقین اور اپیل گھرومعاشرہ اور حکومت تینوں کرتے ۔
یہی کچھ اسکے ساتھ عمر بھر ہوتارہا۔وہ عمر کے آخری پڑاؤ پر سوچ رہاہے ’’درست راستے پر کون ہیں ؟میراذہن یا گھرومعاشرہ اور حکومت ؟‘‘
۲۔کھدائی  
مختلف جگہ کھدائی کے بعد نکالی گئی انسانی ہڈیوں کے ڈھیرمیں سے افسر نے ایک کھوپڑی اپنے ہاتھوںمیں لی اور سوچنے لگا’’کیا اس کھوپڑیکی مالک لڑکی کاقصور یہ تھاکہ وہ لڑکی بناکر پید اکی گئی تھی؟اس کے ساتھ ظلم کی وجہ اگر لڑکی یاعورت ہونا ہے تو پھر اکیسویں صدی میں ہم جیسے نامرد ،ظالموں سے کوئی  لڑکی اور عورت محفوظ نہیں ‘‘
’’سر، ابھی خبر ملی ہے کہ سائٹ نمبر فور کی کھدائی میں چار کنکال نکلے ہیں، و ہ بھی لڑکیوں ہی کے کنکال ہیں، ہمیں فوری وہاں پہنچنا ہے ‘‘افسر نے ماتحت افسر کی جانب دیکھااور آہستہ سے کہا’’چلو چلتے ہیں ‘‘
۳۔انگریزی کی موت
پروفیسر رازیق نعمان سلوروی نے میز پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا’’سلیقہ سے بات پیش کرنے کی تہذیب کومتاثر ہوئے عرصہ گزرالیکن میرا نکتہ یہ ہے کہ ہم اپنامدعا تحریری طورپر پیش کرنے میں بھی ناکام ہیں، انجینئر ، ڈاکٹر ، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ، صنعت کاراور دوسرے لکھنے سے اس قدردور ہوگئے ہیں اور عاجز آگئے ہیں کہ آج مجبوراًAIنہیں آیا، ضرورتاًAIیعنی مصنوعی ذہانت کو لانچ کرنا پڑا ہے، سمجھے ؟‘‘
اجلاس میں بیٹھے ہوئے سبھی افراد نے محسوس کیاکہ سچ تو کہاجارہاہے لیکن زیادتی بھی کہیں نہ کہیں ہورہی ہے۔ ایک صاحب نے کچھ کہناچاہا، پروفیسر نے انھیں ہاتھ کے اشارے سے خاموش کردیااور کہاکہ ’’آپ گریجویٹ ہیں اور آپ اپنامدعا تحریری طورپر بیان اگر نہیں کرسکتے تو اس کامطلب یہ ہواکہ آپ نے اپنے اسکول اور کالج میں زبان نہیں سیکھی۔جب زبانیں نہیںسیکھی جاتی ہیں تو وہ معدوم ہو کر صفحہ ء ہستی سے مٹ جاتی ہیں۔ اس لئے مجھے ڈرہے کہ انگریزی زبان معدوم نہ ہوجائے ؟ پھرتو کئی ایک زبانیں پوری دنیا پر حکومت کریں گی ‘‘
’’وہ کس طرح جناب؟‘‘ سوال کیاگیاجوواجبی تھا۔ جواب بھی فوری حاضر کرتے ہوئے کہاگیاکہ ’’ایک زبان کافارمولہ انسانی مزاج سے قریب ترہرگزنہیں ہے۔ ورائٹی کااصول انسانی چہرے ، انسانی جسم کی ہیئت، اسکی آواز اور مزاج میںجابجا ملتا ہے۔ یہ بات مصنوعی ذہانت کاسائنس دان اچھی طرح جانتابھی ہے ۔ اس لئے وہ سائنس دان اپنے مرنے سے پہلے اس مصنوعی ذہانت میں مختلف قسم کی زبانیں چھوڑے جارہاہے۔ لہٰذا یہ سوچناکہ صرف انگریزی زندہ رہے گی ،ممکن نہیں ہے۔میرے نزدیک انگریزی کو خطر ہ لاحق ہواہے ، وہ براعظم ایشیا میں مربھی سکتی ہے‘‘
انھوں نے کچھ توقف کیا۔ شرکاء کے ایک ایک چہرے کو دیکھا۔ شاید اپنی بات کاردعمل چہروں پر دیکھنا چاہ رہے تھے اور انھیں مایوسی بھی نہیں ہوئی۔ کئی ایک چہروں پرغصہ کاجذبہ صاف دیکھاجاسکتاتھا۔ انھوں نے اس غصہ سے لطف اندوز ہوتے ہوئے کہا’’انگریزی کے فوت ہونے کی لاجک یہاں پیش نہیں کروں گاتاہم یہ کہتے ہوئے مسرت ہورہی ہے کہ دیگرزبانیں زندہ رہیں گی، لیکن میرا یہی سوچنا اور سمجھنا ہے کہ جب کوئی کمیونٹی یاانسانی غول اپنا مدعا تحریری طورپر بھی پیش نہیں کرپاتاہے تو وہ تہذیب اوروہ تمدن نقصان اٹھائے بغیر نہیں رہ سکتا ، اردو کمیونٹی کو بھی اس طرف فوری توجہ دیناہوگااور ان کے طلبہ محنت کریں اور اساتذہ طلبہ سے خوب محنت کرائیں ۔طلبہ کی صلاحیتوں کونکھاریں۔ والدین بھی متوجہ ہوں ‘‘
ایک صاحب نے اٹھ کر کہا’’سر، اس میں اُردو والوں کی تخصیص کیامعنی رکھتی ہے ؟چینی ، جرمن اور دیگر زبانیں بھی تو ہیں ؟‘‘موصوف نے کہا’’میں سمجھتاہوں ، دائیں سے بائیں لکھی جانے والی زبان کے طلبہ ، اساتذہ اور لیکچررس اور اس زبان کے دانشور اپنا مدعا اچھی طرح بیان کرتے ہیں۔ اس کے باوجود گذشتہ نصف صدی کے دوران دائیں سے بائیں لکھی جانے والی زبان کے حاملین نے اپنی زبان پر ہمہ جہت توجہ نہیں دی ہے‘‘
اسی اثناء میں وقت ختم ہونے کااشارہ مل گیا۔ دوسرے ماہر کوشہ نشین پر مدعوکیاگیا۔ وہ اپنے لیپ ٹاپ کو لئے باہر چلے گئے۔ انھیں کینٹین کی ضرورت محسو س ہورہی تھی۔صبح ناشتہ نہیں کیاتھانا ۔
۴۔ باخبر بے خبر 
اس کے آزوبازو خبریں ہی خبریں ہیں اور وہ ان خبروں میں ڈوب ڈوب کران سے باخبر رہتاہے۔ مقامی خبریں ہوں ، ریاستی یاملکی خبریں۔ بیرون ملک کی خبروں سے بھی واقفیت رکھنا وہ اپنافرض سمجھتاہے۔ صحافی جو ٹہرا۔ لیکن افسوس یہی ہوتاہے کہ وہ اپنے گھر خاندان سے باخبر نہیں رہتا۔ ایک دن ملاقات ہوئی ۔ چائے وائے پی کر پوچھ لیاکہ ’’ایسا کیوں ؟‘‘ مختصر سااس کاجواب تھا’’اگر گھر خاندان کی طرف دیکھوں گاتو ملک کی طرف کون دیکھے گا؟‘‘
۵۔ بگڑا ہواتوازن 
آنکھوں کونظر کچھ نہیں آنے لگاتھا، شوگر اس قدر بڑھ گئی ۔ جس کی وجہ سے وہ اپناتوازن برقرار رکھ نہیں پاتاتھا۔تب اس نے جانا کہ آنکھیں تودراصل انسان کوبیالنس قائم رکھنے کے لئے دی گئی ہیں اور میںہوں کہ ۔۔۔‘‘ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ساری عمر بے توازنیت میں گزار دی تھی۔ اپناکرنے کی ضد نے زندگی کاتوازن بگاڑ دیاتھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے