میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک
بوڑھوں کوراستہ نہیں ملتا، کریں گے کیا
اپنا ہی میرؔ کرتاہے کھیلا ، کریں گے کیا
اتنابھی یار سوچا نہ ہوگا، کریں گے کیا
جب چھوڑ جائے گاکوئی اپنا کریں گے کیا
منشاء تمہارا کیا ہے ، بتانا ، کریں گے کیا
اس ایک بُت کو اک کریں سجدا ؟ کریں گے کیا؟
دودوقدم بھی چلنا ہے دُوبھر ہمیں یہاں
لگتاہے، آگیا ہے بڑھاپا ، کریں گے کیا
رسواکرے گی آج سیاست یہ سوچ کر
چائے پہ عشق کی ہوئی چرچا، کریں گے کیا؟
اب کونسی چلیں گے یہاں چال دوستو!
شطرنج نے بدل دِیا نقشہ ، کریں گے کیا
عمر اپنی جو پچاس کو پہنچی ، تو جانا میرؔ
ؔدنیا میں کوئی اپنا نہ ہوگا ،کریں گے کیا
