🖋️ مقیت احمد قاسمی گونڈوی

استقامت کا لفظ ہم بار ہار سنتے، پڑھتے ہیں مگر  اپنی ذات پر غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ ہمیں نیکیاں کرنے اور گناہوں سے بچنے پر اِستِقامت بالکل حاصل نہیں ہے، وقتی جذبات میں آکر نوافل، تلاوت، ذِکْر و اذکار و دیگر اعمال صالحہ سب شروع کر دیتے ہیں لیکن چند ہی دنوں بعد جذبات ٹھنڈے اور اعمال  غائب ہو جاتے ہیں۔ کسی دن گناہ چھوڑنے کا پختہ ارادہ کرتے ہیں اور چند دن جوش و خروش سے خود کو گناہوں سے بچا بھی لیتے ہیں لیکن تھوڑے ہی دنوں بعد وہی گناہوں کا بازار گرم ہوتا ہے اور ہم  سر سے پاؤں تک گناہوں میں لتھڑے ہوتے ہیں، نیک ارادوں پر استقامت کا ذہن بنانے اور ثابت قدمی دکھانے میں سب سے مفید و اہم چیز قوت ِ ارادی اور  ہمت نہ ہارنا ہے، اس بنیادی نکتے کو ذہن میں بٹھالیں، اِنْ شَاءَ اللہ اِستِقامت نصیب ہو جائے گی۔

    شریعت و سنت کے راستے پر چلتے ہوئے انسان کو تین قسم کی رکاوٹیں پیش آتی ہیں ، پہلی رکاوٹ نفس کی طرف سے ہوتی ہے ،نفس چاہتا ہے کہ میری ہر خواہش پوری ہو، جس طرح چھوٹا بچہ ضد کرتا ہے کہ میری ہر بات پوری ہونی چاہیے ، اسی طرح انسان کا نفس بھی ہر کام میں ضد کرتا ہے کہ میری ہر چاہت پوری ہونی چاہیے ۔

        دوسری رکاوٹ شیطان کی طرف سے ہوتی ہے ، وہ بھی نیکی کے راستے سے ہٹا کر گناہ کے راستے پر لگاتا ہے ، وہ روڑے اٹکاتا ہے ، اور گناہوں کو مزین کرکے پیش کرتا ہے ، چنانچہ وہ رشوت لینے والے کے دل میں ڈالتا ہے کہ تم یہ رشوت اپنے لئے تو نہیں لے رہے ہو آخر بیوی بچوں کا پیٹ پالنا بھی تو فرض ہے، گویا اس کے سامنے وہ گناہ کو ہلکا کرکے پیش کرتا ہے ۔

         تیسری رکاوٹ انسانوں کی طرف سے آتی ہے کبھی رشتہ دار دین کے راستے میں رکاوٹ بن جاتے ہیں، کبھی کسی کی شخصیت یا اس کی شکل و صورت اچھی لگنے لگتی ہے، اور سارا دن اسی کی سوچیں غالب رہتی ہیں ، اور دن رات اسی خیال میں مر رہے ہوتے ہیں، ان تین رکاوٹوں کو دور کرکے شریعت پر عمل کرنے کا نام استقامت ہے۔

         ایمان، اَعمالِ صالِحہ، گناہوں سے اِجتِناب پر ڈٹے رہنا اِستِقامت کہلاتا ہے، یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اِستِقامت یہ ہے کہ  ایمان ضائع نہ ہو، نیک اَعمال، مثلاً: نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ ترک نہ ہوں۔ تلاوت، ذِکْر، اذکار، تسبیحات و درود، صَدَقات و خیرات، دوسروں کی خیر خواہی وغیرہا پر ہمیشگی ہو۔ تمام گناہوں سے بچنے کی عادت پختہ رہے۔ یہ تمام چیزیں اِستِقامت میں داخل ہیں۔

        قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ اپنی تفسیر مظہری میں لکھتے ہیں کہ ”استقامت سے مراد میانہ روی اختیار کرنا اور حق سے منحرف  نہ ہونا ہے، خواہ اعتقادات میں یا اخلاق میں یا اعمال میں ہو۔ اسی وجہ سے حق کے راستہ کو صراطِ مستقیم کہتے ہیں کہ وہ ایسا راستہ ہے جو اپنے سالک کو مطلوب تک پہنچاتا ہے۔ پس اس لفظ مختصر میں جمیع شرائع شامل ہیں یعنی امتثالِ اوامر و اجتناب عن المعصیات علیٰ سبیل الدوام و الثبات، یعنی اللہ تعالیٰ کے احکام کا بجالانا اور معاصی سے پرہیز کرنا دائمی طور پر اور گناہ کے صادر ہونے کے بعد استغفار و توبہ کرنے کا التزام دوام کے خلاف نہیں ہے یعنی خطاؤں کی تلافی کا ذریعہ ہے۔

امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: استقامت دنیا میں ایسا مشکل امر ہے جیسے   پل صراط پر گزرنا اور یہ دونوں بال سے بھی باریک اور تلوار سے بھی تیز ہیں تو جو بھی اس دنیا میں اس پر چلے گا بدرجۂ اولیٰ وہ پل صراط پر چل سکے گا کیوں کہ مشق کرنے کے بعد کام کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

         استقامت اللہ تبارک و تعالیٰ کو بہت پسند ہے، اور ایسے لوگوں کے لئے جو راہِ استقامت کے مسافر ہیں بڑے بڑے وعدے اور انعام ہیں چنانچہ قرآن عظیم الشان میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا :

           اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ(۳۰) (پ24، حمٓ السّجدۃ:30)

          آج کے اس پُرآشوب ماحول میں جہاں بیوی کو خوش کرنے کے لئے آقا محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے خوبصورت چہرے کی خوبصورت سنت یعنی ڈاڑھی کو صاف کیا جاتا ہے ،جہاں شادی بیاہ کے موقع پر بے انتہا رسم و رواج اپنایا جاتا ہے ،جہاں تہذیبِ مدینہ کو چھوڑ کر یورپی کلچر کو فروغ دیا جاتا ہے، ایسے ماحول میں استقامت کی بہت سخت ضرورت ہوتی ہے ،شریعت و سنت پر ثابت قدمی، اور مذہبِ اسلام پر جمے رہنے کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔

      بغرضِ اصلاح ذیل میں چند ایسے افراد کا تذکرہ کیا جاتا ہے جنہوں نے ہر قسم کے ماحول کا مقابلہ کرتے ہوئے استقامت کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا، اور کبھی بھی اللہ کے احکامات سے سمجھوتہ نہیں کیا، ملاحظہ کریں کچھ واقعات اور بدلنے کی کوشش کریں اپنے حالات۔

   قرآن عظیم الشان میں ایسے متعدد واقعات ذکر کئے گئے، جن میں اصحاب ایمان کے بعض گروہوں کے ساتھ بڑا ظلم روا رکھا گیا؛ لیکن کبھی انہوں نے دعوت حق سے منہ نہیں پھیرا، بلکہ وہ ثابت قدم رہے، قرآن مجید میں ان جادوگروں کا ذکر کیا گیا ہے، جن کو فرعون نے حضرت موسیٰؑ کے مقابلہ میں پورے مصر سے جمع کیا تھا، جب ان جادوگروں پر یہ بات واضح ہو گئی کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جادوگر نہیں ہیں ؛ بلکہ واقعی اللہ کے نبی ہیں، تو وہ ایمان لے آئے، فرعون نے کہا : میں تم سب کے الٹے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالوں گا، اور سولی پر چڑھا دوں گا؛ لیکن ان حضرات نے جواب دیا کہ ہمیں تو یوں بھی اللہ کی طرف لوٹنا ہی ہے، اور اللہ تعالیٰ سے دعاء کی کہ ہمیں صبر کرنے کی قوت عطا فرما اور اسلام کی حالت میں اس دنیائے فانی سے اُٹھا: ربنا أفرغ علینا صبراََ وتوفنا مسلمین ( اعراف:۱۲۰-۱۲۶)

       قرآن مجید میں ایک اور واقعہ ”اصحاب اُخدود” کا ذکر کیا گیا ہے، کچھ لوگ جو حقیقی عیسائیت پر قائم تھے ،مشرک حکمرانوں نے ان کو تبدیلیٔ مذہب کے لئے مجبور کرنے کی کوشش کی، یہاں تک کہ ایک بڑی خندق کھود کر آگ سلگائی گئی،تمام اہل ایمان کو اس دہکتی ہوئی آگ میں پھینک دیا گیا اور یہ سب کچھ ان کے ساتھ صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے کیا گیا: وما نقموا منھم إلا أن یؤمنوا باللہ العزیز الحمید(بروج: ۸) ؛ لیکن اس کے باوجود وہ اس پر ثابت قدم رہے، انہوں نے نذر آتش ہو جانا گوارا کیا؛ لیکن دولت ایمان سے محرومی کو قبول نہیں کیا۔

  فرعون کی بیوی ناز و نعمت میں پلی بڑھی ایک عورت تھی، اس کے پاس نہ حسن و جمال کی کوئی کمی تھی، اور نہ مال ودولت کی، زمانے کے ایک بڑے بادشاہ اور حکمران کی لاڈلی بیوی، اتنے زیادہ اختیارات کی مالک کہ آج کی کوئی عورت ان اختیارات کا خواب میں بھی تصور نہیں کر سکتی ، اس کے خاوند نے خدائی کا جھوٹا دعویٰ کر رکھا تھا اور وہ اس جعلی خدائی کی ملکہ تھی ، مگر وہ اس ماحول میں بھی ایمان لے آئیں، تب آزمائشوں کا دور شروع ہوا۔

یہ آزمائشیں عام دنیاوی آزمائشوں سے بہت زیادہ سخت تھیں، یہ آزمائشیں آج کل کی جیلوں اور عقوبت خانوں سے زیادہ بھیانک تھیں، یہ آزمائشیں اُن بہانوں سے بہت زیادہ شدید تھیں جو آج کل شیطان ہمیں سُجھا کر صبر و استقامت سے بھگاتا ہے، ہماری آج کل کی مسلمان خواتین تو صرف خاندان والوں کی باتوں سے بچنے کے لئے معلوم نہیں کتنے گناہ، کتنی رسومات اور کتنی بدعات کر گذرتی ہیں ،مگر وہ جنت کی ملکہ سیدہ آسیہ اس وقت بھی ڈٹی رہیں جب خاندان والے اس کے جسم میں کیلیں گاڑ رہے تھے ، اور بڑے بڑے ہتھوڑوں کی ضربوں سے، یہ کیلیں اس کے ہاتھوں اور قدموں میں اُتار رہے تھے، ایک ظالم قصائی تیز چھری لے کر اس کے سامنے کھڑا تھا اور پھر وہ ان کے جسم کی کھال اُتارنے لگا، یہ سب کچھ کہنا آسان ہے، مگر حقیقت میں سہنا اور برداشت کرنا بے حد مشکل ہے، مگر استقامت تو استقامت ہوتی ہے، یہ نصیب ہو جائے تو انسان آسمان و زمین سے زیادہ طاقتور اور مضبوط ہو جاتا ہے ، حضرت آسیہ سب کچھ برداشت کر گئیں مگر اپنے ایمان کا سودا نہیں کیا۔

 بات کیا تھی کہ نہ قیصر و کسریٰ سے دبے

 چند وہ لوگ کہ اونٹوں کو چرانے والے

 جن کو کافور پہ ہوتا تھا نمک کا دھوکا

 بن گئے دنیا کی تقدیر بدلنے والے

 ٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھے

پاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھے

حضرت بلالؓ کو دوپہر کی دھوپ میں مکہ کی سنگلاخ وادیوں میں گھسیٹا جاتا تھا، پھر ان کے سینہ پر پتھر کی چٹان رکھ دیا جاتا تھا کہ وہ اس گرم ریت پر حرکت بھی نہ کر سکیں، اور کروٹ بھی نہ لے سکیں، پھر کہا جاتا تھا: تم کو مرنے تک اسی طرح رہنا ہے، اس سے بچنے کی ایک ہی صورت ہے کہ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے کا انکار کرو اور لات و عزیٰ کی مورتیوں کی پوجا کرو، قربان جائیے، حضرت بلالؓ پر کہ حالاں کہ ایسے حالات میں ایمان پر قائم رہنے کے ساتھ صرف زبان سے کلمۂ کفر کہنے کی گنجائش ہے؛ لیکن حضرت بلالؓ کے عشق ایمانی اور جذبۂ قربانی کو یہ بات بھی گوارا نہیں تھی اور ان کی زبان پر” احد احد” یعنی ”اللہ ایک ہے، اللہ ایک ہے” کا کلمہ جاری رہتا تھا۔

  حضرت خبیب انصاریؓ کو اہل مکہ نے گرفتار کر لیا تھا، جب انہیں غزوہ بدر کے بعض مقتولین کے بدلہ میں حرم سے باہر لے کر نکلے؛ تاکہ انہیں قتل کر دیا جائے تو ان کی ثابت قدمی کا حال یہ تھا کہ نہ رونا دھونا، نہ آہ و واویلا، نہ جزع و فزع، نہ جان بخشی کی اپیل اور نہ خوشامد، نہ دل کے اطمینان کے ساتھ کلمۂ کفر کا تلفظ کہ جان بچانے کے لئے خود قرآن مجید نے اس کی اجازت دی (سورۂ نحل: ۱۰۶) ؛ بلکہ صرف دو رکعت نماز کی اجازت طلب کی اور دوگانہ ادا فرمائی، پھر فرمایا: اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ میں نماز لمبی کروں تو تم اس کو موت سے گھبراہٹ سمجھوگے تو میں نماز کو لمبی کرتا: واللہ لو لا أن تحسبوا أن ما بی جزع لزدت (بخاری، حدیث نمبر: ۳۹۸۹) اس طرح حضرت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اللہ و رسول سے وفاداری کا حق ادا کر دیا؛ چنانچہ یہ مسلمانوں کی سنت بن گئی کہ جب بھی کسی مسلمان کو گرفتار کر کے قتل کیا جاتا تو وہ اس سے پہلے دو رکعت نماز ادا کرتا، (بخاری، حدیث نمبر: ۳۹۸۹ )

    یہی وجہ ہے کہ جب صحابہ کرام ؓ ملک شام گئے، تو اہل کتاب نے ان کو دیکھ کر کہا، کہ عیسٰی بن مریم کے وہ اصحاب جو آروں سے چیرے گئے، اور سولی پر لٹکائے گئے، ان مسلمانوں سے زیادہ تکلیفیں برداشت کرنے والے نہ تھے۔

    (استیعاب جلد اول ص ۶)

      اولئک ابائی فجئنی بمثلھم

      اذا جمعتنا یا جریر المجامع

    چونکہ استقامت پر عمل کرنے والوں کی فہرست بہت لمبی ہے ،ان کے حالات و واقعات کتابوں میں بھرے پڑے ہیں، اس لئے چند ہی واقعات پر اکتفا کیا جاتا ہے ، اور امید کی جاتی ہے کہ ان واقعات کو پڑھنے کے بعد ہمیشہ عمل کریں گے ، جہاں بھی، جیسا بھی ماحول بن جائے ، کتنے ہی سخت حالات آجائیں ان شاءاللہ ثابت قدم رہتے ہوئے استقامت کا مظاہرہ کریں گے ، اور ساری دنیا کو یہ پیغام سنائیں گے۔۔۔۔

میں چھوڑ سکتا نہیں ساتھ استقامت کا

  میری اذان سے جوشِ بلال ؓ مت چھینو

 اللہ عزوجل ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے