(مجاہد آزادی مولانا عبدالقیوم رحمانیؒ)
عبدالرشید سلفیؔ
ہندوستان ایک کثیر المذاہب ملک ہے جہاں مختلف دھرم، ذات، برادری، نسل، ادیان و ملل اور مسالک کے لوگ بستے ہیں۔ صدیوں سے یہاں کے باشندے مل جل کر رہتے ہوئے گنگا جمنی تہذیب کو محفوظ رکھتے آئے ہیں۔ ملک کی آزادی کی جدوجہد میں ہر طبقے کے لوگوں نے اپنا کردار ادا کیا اور متحد ہو کر انگریزوں کے خونی پنجے سے وطن کو آزاد کرایا۔
بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آزادی گویا خود بخود حاصل ہو گئی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ملک کے غیور عوام و خواص نے آزادی کی صدا سنتے ہی اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ رفتہ رفتہ مجاہدین کا ایک عظیم کارواں تیار ہوا، جنہوں نے اپنے گھر بار اور ذاتی مفادات کی پرواہ کیے بغیر وطن کی حفاظت کو ترجیح دی اور پوری ہمت کے ساتھ انگریزوں کے خاتمے کی جدوجہد میں مصروف ہو گئے۔ انہی جانباز سپوتوں میں ایک نام ضلع بستی کے ایک بے باک خطیب، جری قلم کار، تحریک کے محرک اور سادہ مزاج انسان کا بھی ہے، جنہیں دنیا مولانا عبدالقیوم رحمانی کے نام سے جانتی ہے۔
مولانا عبدالقیوم رحمانی رحمہ اللہ کی پیدائش 10 جنوری 1918ء کو ضلع بستی (موجودہ سدھارتھ نگر) کے گاؤں دودھونیا میں ہوئی۔ آپ نہ صرف تحریکِ آزادی کے فعال رکن تھے بلکہ اسلامی تعلیمات سے بھی بہرہ ور تھے۔ اپنی ذات میں آپ ایک انجمن کی حیثیت رکھتے تھے۔ آپ ہندوستان کے پہلے وزیرِ اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کے نہایت قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے اور متعدد اہم معاملات میں آپ سے مشورہ لیا جاتا تھا۔
تاریخی مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے آباء و اجداد دیوریا کے راج گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، جنہوں نے اسلام قبول کیا اور اپنا نام محمد سلیم رکھا۔ انہی کے نام پر سلیم پور قصبہ اور ریلوے اسٹیشن بھی آباد ہوا۔
ابتدائی تعلیم آپ نے اپنے گاؤں میں حاصل کی، اس کے بعد دہلی چلے گئے۔ یہ وہ دور تھا جب آزادی کی تحریک زوروں پر تھی۔ دہلی میں آپ نے اسلامی علوم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ تحریکِ آزادی میں بھی حصہ لینا شروع کیا۔ 1942ء میں اپنے گاؤں واپس آئے اور آزادی کی جدوجہد کو مزید منظم کرنے لگے، لیکن چند ہی دنوں بعد 22 مارچ 1942ء کو گرفتار کر کے بستی جیل بھیج دیا گیا۔ وہاں سے گورکھپور اور پھر نینی جیل (الہ آباد) منتقل کر دیا گیا، جہاں آپ کو 22 اگست 1942ء سے 22 مئی 1943ء تک قیدِ بامشقت میں رکھا گیا۔
جس بیرک میں آپ قید تھے، اسی میں لال بہادر شاستری، فیروز گاندھی، مولانا حسین احمد مدنی اور پنڈت کملا پتی ترپاٹھی جیسے ممتاز شخصیات بھی موجود تھیں۔ نو ماہ قید کاٹنے کے بعد رہائی ملی، مگر آپ نے جدوجہد کا سلسلہ جاری رکھا۔
ملک کی آزادی کے بعد آپ نے خود کو دینی و سماجی خدمات کے لیے وقف کر دیا۔ بڑھنی قصبہ میں گاندھی آدرش انٹر کالج کے قیام میں آپ کا نمایاں کردار رہا۔ زندگی کے آخری ایام تک آپ سماج و ملت کی خدمت کرتے رہے۔
28 مئی 2008ء کو آپ کا انتقال ہوا۔ آپ کا خاندان اور پورا ضلع آپ پر فخر کرتا ہے کہ آپ ایک سچے مجاہدِ آزادی تھے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی لغزشوں کو معاف فرمائے اور ملک و ملت کے لیے دی گئی قربانیوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ آمین!

