رضوان الرحمٰن قاسمی علیگ

خطیبِ دوراں حضرت مولانا مفتی شکیل احمد قاسمی سیتاپوری رحمہ اللّٰہ  سابق استاذ تفسیر و حدیث دارالعلوم دیوبند اپنے وقت میں جہاں ایک شہرہ آفاق خطیب و مقرر تھے وہیں اپنے اساتذہ دارالعلوم دیوبند کی آنکھوں کا تارا اور طلبائے دارالعلوم میں غیر معمولی مقبول ترین استاذ بھی شمار ہوتے تھے، اسی عظیم شخصیت کو حیات اور خدمات پر مشتمل گُزشتہ 25 سالوں سے ضلع سیتاپور سے شائع ھونے والے ماہنامہ اسلامی نقوش سیتاپور کے خصوصی شمارہ جِس کے کُل صفحات  484  مع رنگین  ٹائٹل قیمت = /600  ملنے کا پتہ/ ناشر  ماہنامہ اسلامی نقوش، قصبہ تمبور ضلع سیتاپور یوپی، رابطہ 9936993169. Email nadwimohdkhabir50@gmail.com هے، جس کے مُرتب عالی جناب مفتی محمد خبیر ندوی، قاسمی، علیگ ہیں،  ندوی موصوف جیسی انقلابی شخصیت کا نام میرے لئے ناآشنا نہیں، کیونکہ میرے لئے بس یہی کافی ہے کہ مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور جیسی عظیم مذہبی درسگاہ جہاں اخبار بینی اور غیر درسی کتب کا مطالعہ جُرم عظیم شمار ھوتا ہو وہاں شعبہ صحافت کا قیام اور اسی مذہبی درسگاہ سے اُردُو ماہنامہ *مظاہر علوم* اور عربی سہ ماہی مجلۃ *المظاہر* کی اشاعت ایک غیر معمولی اور تاریخ ساز کارنامہ ہے، اُن کی ملی و سماجی خدمات کا دائرہ غیر معمولی وسیع ہے، اُنھیں کی ادارت میں گذشتہ 25 سالوں سے شائع ہونے والے ہفت روزہ ہندی اخبار *اسلامی آثار* اور اُردو ماہنامہ *اسلامی نقوش* سیتاپور کی اشاعت اُن کی سرگرم عمل اور نرم دمِ گفتگو و گرم دمِ جُستجُو والی زندگی کی بیّن دلیل ہے، اسی اُردو ماہنامہ اسلامی نقوش سیتاپور کی خصوصی اشاعت  شہرہ آفاق خطیب، مشہور زمانہ مقرر، اور ازہر ہند دارالعلوم دیوبند کے مقبول ترین استاذ تفسیر حضرت مولانا مفتی شکیل احمد قاسمی سیتاپوری رح، متوفی *24/* جولائی 2024 کے متعلق ہے، جن کی ذاتِ گرامی محتاجِ تعارف نہیں، علمی دُنیا کا گوشہ گوشہ اُن کے علوم و معارف سے واقف و آشنا ہے، یہی اُردُو ماہنامہ اسلامی نقوش سیتاپور کا خصوصی شمارہ بیادگار حضرت مولانا مفتی شکیل احمد قاسمی سیتاپوری رحمہ اللّٰہ اس وقت میری نظروں کے سامنے ہے، جو حضرت مفتی صاحب رح کی حیات، شخصیت اور اُن کے علمی و تصنیفی کارناموں پر مشتمل ھے، اس خصوصی شمارہ میں علمی و دینی درس گاہوں خصوصاً دارالعلوم دیوبند،  مظاہر علوم سہارنپور، دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ، جامعہ عربیہ ہتھورا باندہ کے اساتذہ کرام، جامعات اور یونیورسٹیز کے پروفیسرز، دانشورانِ قوم و ملت، محققین علوم اسلامیہ، عصر حاضر کے نامور و ممتاز ادباء،  مقبول شعراء اور مشہور و معروف اہلِ قلم کے تاثرات، تحقیقی مضامین اور منظوم کلام کے ذریعہ مفتی صاحب رح  کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے، نیز اُن کی پیدائش سے وفات تک کے حالات اور ان کی علمی تصنیفی خدمات پر مفصل روشنی ڈالی گئی ہے، جس کی تفصیل کُچھ اس طرح ہے کہ شمارہ ہذا کے اولین صفحات میں جناب ابو ضیاء ندوی کا مضمون میں *مفتی شکیل احمد قاسمی صاحب ایک نظر میں* عنوان سے پیدائش سے وفات تک کے جملہ حالات تاریخ وار یکجا کیے گئے ہیں (صفحہ نمبر 3 تا 5)، پھر فہرست مضامین کے عنوان سے تقریباً 6 صفحات میں ایک سو پچیس اصحاب قلم کےنام منقول ہیں (ص 6 تا ص 11)،   جب کہ خراج عقیدت کے عنوان سے اداریہ ہے جس میں مدیرِ محترم نے مفتی صاحب کی زندگی کا تاریخی تجزیہ پیشِ کرتے ہوئے مفتی صاحب کی بعض فطری کمزوریوں پر اذکروا محاسن موتاکم کے تحت چشم پوشی کی تلقین کی ہے (ص 12 تا ص 14)، اس کے بعد شمارہ کو مجموعی طور پر *سات ابواب* میں تقسیم کر کے باب *اول* میں علمی و دینی درس گاہوں کے تعزیتی پیغامات نقل کیے ہیں، جس میں خصوصی طور سے مہتمم دارالعلوم دیوبند جناب مفتی ابوالقاسم نعمانی صاحب،  مظاہر علوم سہارنپور کے ناظمِ اعلٰی اور شیخ الحدیث حضرت مولانا سیّد محمد عاقل صاحب، مہتمم دارالعلوم وقف دیوبند جناب مولانا محمد سفیان قاسمی  صاحب،  مظاہر علوم وقف سہارنپور کے ناظمِ اعلٰی جناب مولانا محمد سعیدی، ناظمِ جامعہ عربیہ ہتھورا باندہ جناب مولانا سیّد حبیب احمد باندوی، جناب مولانا سیّد بلال عبدالحئی حسنی ندوی، ناظمِ اعلٰی دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ جیسے حضرات نظماء و مہتممین کرام کے تعزیتی تاثرات اور خصوصی شمارہ کی اشاعت پر تہنیتی پیغامات منقول ہیں جس میں مفتی صاحب کی علمی خدمات پر مشتمل خصوصی شمارہ کی اشاعت پر حوصلہ افزائی کی گئی ہے (ص 15 تا ص 22 )، باب *دوم* میں مفتی صاحب رح کے علمی و تصنیفی کارناموں پر مضامین کے توسط سے خراج تحسین پیش کیا گیا ہے، جس میں حضرت مولانا عبد الخالق مدراسی قاسمی نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند نے *ایک جامع کمالات شخصیت*، جناب مولانا عبد العلی فاروقی ( مدیرِ اعلیٰ ماہنامہ البدر کاکوری) نے *یاد یار مہرباں*، جناب مولانا سراج الدین ندوی بجنوری نے *عاجزی وانکساری کا پیکر*،  مرحوم ڈاکٹر تابش مھدی دہلوی نے *ہمہ آميز شخصیت کے مالک مفتی شکیل احمد سیتاپوری،* مدیرِ الجمعیۃ مولانا محمد سالم جامعی نے *خطیبِ ملت مفتی شکیل احمد سیتاپوری* ، پروفیسر عبید اقبال عاصم صاحب نے *ایک اہم شخصیت* مشہور صحافی جناب اشرف عثمانی نے *بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی*، ادیب و شاعر جناب ماجد دیوبندی نے *مخلص کرم فرما مفتی شکیل احمد سیتاپوری* ، پروفیسر ڈاکٹر مفتی محمد مشتاق تجاروی (جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی) نے *علم و حکمت کے نیر اعظم* ، مولانا وصی سلیمان ندوی(مدیرِ اعلیٰ ارمغان پھلت) *نے علم و آگہی کا ایک گوہر نایاب*، ڈاکٹر محمد فرمان ندوی (مدیر البعث الاسلامی لکھنوء) نے *گلشن تیری یادوں کا مہکتا ہی رہےگا* ، پروفیسر ڈاکٹر عبد الحلیم قاسمی (پرنسپل اِرم  یونانی میڈیکل کالج لکھنؤ  )نے *مٹادے اپنی ہستی کو۔۔۔۔* جیسے 71  نامور اصحاب فکرِ و نظر کے مقالات اور مضامین ذکر کئے گئے ہیں( صفحہ 23 تا 342)، باب *سوم* (الف) میں تقریباً 15 اصحابِ دیوان اور ممتاز شعراء گرامی جس میں مرزا شارق بیگ لکھنوی، ڈاکٹر ماجد دیوبندی، ش  ق کاوش شوکتِی، رضوان علی خان،  حفیظ اللہ قاسمی، ڈاکٹر اظہر خان، اطہر کملاپوری، ڈاکٹر سلمان، یٰسین ابنِ عُمر اور سہیر دانش جیسے منفرد شعراء نے منظوم خراج تحسین پیش کیا ہے،(صفحہ 343 تا 365)، باب سوم(ب) میں 5 مؤرخین نے سال وفات کی تاریخ "قطعات تاریخ”  کے عنوان سے قلم بند کی ہے،(صفحہ 366 تا 369)، باب *چہارم* (الف) میں مکتوبا تِ مفتی صاحب رح  کے عنوان سے خطوط اور دستی تحریروں کا عکس شائع کیا گیا ہے (صفحہ 370 تا 383)، باب *چہارم*(ب) میں تخلیقات کے عنوان سے مفتی صاحب رح کا منظوم کلام، نعتیں، غزلیں پیش کی گئی ہیں(صفحہ 384 تا 392)، باب *چہارم* (ج)  میں تصنیفات کے عنوان سے مفتی صاحب رح کی جملہ مطب وعہ تصنیفات "التقریر الحاوی فی حل تفسیرِ البیضاوی”،  "میزان العلوم فی شرح سلم العلوم”،  ” دیکھنا تقریر کی لذت”،  "گوہر علم جوھر سیرت” شائع کردہ پاک و ہند، اور غیر مطبوعہ تصنیفات سیّد قطب شہید رح کی مشہور کتاب التصویر الفني فی القرآن کا اُردُو ترجمہ قرآن کے فنی محاسن اور تلخیص شرح مثنوی مولانا روم رح  کا تعارف کرایا گیا ہے (صفحہ 393 تا 399 )، باب *پنجم* میں وفیات معاصرینِ مفتی صاحب رح کے عنوان سے سال 2024 میں وفات پانے والی عظیم علمی، رُوحانی اور عرفانی شخصیات جیسے  قائد حماس حافظ *اسماعیل ھانيه* الشہید رح، سلسلہ سہروردیہ کے آفتاب و ماہتاب حضرت *مولانا ظفر علی قادری* ببن میاں رحمہ اللّٰہ خیرآباد اودھ، *مولانا محمد یعقوب صاحب رحمہ اللّٰہ* شیخ التفسیر مظاہر علوم سہارنپور، وحدت اسلامی کے بانی مولانا *عطاء الرحمٰن وجدی* رح سہارنپور،  علمبردار شریعت و طریقت  مولانا *غلام کبریا آرزو صاحب* رح، چھرہ علیگڑھ،  ترجمان دیوبند کے مدیرِ  محترم مولانا *ندیم الواجدی* قاسمی دیوبند، علمی شخصیت مولانا سید *جعفر مسعود حسنی ندوی رحمہ اللّٰہ* ندوۃ العلماء لکھنؤ،  مِلی کارکن *ڈاکٹر ریاض النبی علیگ* سہارنپور، صحافی *قطب اللہ ندوی* رح سمیت وفات پانے والے بہت سے اہلِ علم و فضل کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے(ص 400 تا ص 445)، باب *ششم* میں شائع شدہ تحقیقی و علمی کتابوں پر تعارف و تبصرے بھی شامل ہیں۔ جس میں ” *تاریخ سیتاپور* ” حیدر علی جعفری ایڈووکیٹ،  ” *تذکرہ محدثین اور ان کی سندیں* ” مفتی محمد کوثر سبحانی،  ” *حفیظ نعمانی ایک عہد ایک تاریخ* ” محمد اویس سنبھلی،  ” *یہ تھے اکابر* ” مفتی ناصر الدین مظاہری،  ” *مفتی عبد العزیز رائے پوری حیات و خدمات* ” مفتی محمد سلیم مظاہری ” *نقوشِ مشتاق* ”  قاری اِمتیاز احمد خصوصیت سے قابل ذکر ہیں(ص 446 تا ص 463)،  باب *ہفتم* میں مفتی صاحب کے انتقال کے موقع پر شائع شدہ تعزیتی خبریں اور اخباری تراشوں سے شمارہ کو زینت بخشی گئی ہے(ص 464 تا ص 480)، اسی کے ساتھ شمارہ ہذا میں پہلی بار ایک نیا اندازِ ترتیب یہ بھی دیکھنے کو ملا کہ مضامین کے اختتامی اوراق کے خالی مقامات کو اہم اخباری تراشوں سے پُر کیا گیا ہے، یہ اور بات ہے کہ ان تراشوں میں چھپی تصاویر سے کُچھ مخصوص افراد کو انقباض بھی ہو سکتا ہے، نیز کُچھ طباعتی بد نظمی بھی ملی کہ صفحہ 90 کے بعد صفحہ 91 کی جگہ صفحہ 92 اور 93 ھے جبکہ 91 ہونا چاہئے تھا، اسی طرح  دو تین مقامات پر کمپوزنگ کی غلطی بھی ہے، چنانچہ صفحہ 335 پر نکاح والے پیرا گراف میں 1968 کی جگہ 1986، صفحہ 367 سطر 10 میں خاتمہ بالخیر اسعد/ سعاد میں اسعد کا *ع* چھوٹ گیا ہے،  اس سب کے باوجود مجموعی لحاظ سے دیکھا جائے تو  یہ شمارہ مفتی صاحب کے ساتھ دیگر متوفی حضرات کے علمی کارناموں کو اجاگر کرتا ہے، اس لئے میں یہ کہنے میں حق بجانب هوں کہ اس کے مطالعہ سے جہاں مدیر محترم کی وسعت ظرفی، کشادہ ذہنی، قدیم صالح و جدید نافع کی جامعیت اور حُسنِ ترتیب پر داد دینے کو اس لئے جی چاہتا ہے کہ اس خصوصی شمارہ میں سبھی مکاتب فکرِ اور مختلف مسالک کی سرکردہ اہم شخصیات کے مضامین یکجا کرکے خاموش طریقہ سے اسلام کی آفاقیت کا مظاھرہ کیا گیا ہے، جو نہایت خوش آئند مُستقبل اور ایک نئی پہل کی طرف اشارہ کرتاہے، اس لئے شمارہ ہذا شائقینِ علم و تاریخ خصوصاً سیرت و سوانح کامطالعہ کرنے والوں کے لئے ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے اور صحیح معنوں میں ہر لحاظ سے قابل مطالعہ ہے، جس کے لیے مدیر محترم مع انکی پوری مجلسِ ادارت لائقِ ستائش اور مستحق مبارکباد ھے۔ رضوان الرحمٰن قاسمی ایم اے علیگ ، موبائل نمبر 9454203169  مقیم حال زہرہ باغ نزد شمشاد مارکیٹ مُسلم یونیورسٹی علی گڑھ یوپی۔

کتاب ماہنامہ اسلامی نقوش سیتاپور* خصوصی شمارہ (جِلد 25 شمارہ 1 تا 3، اپریل تا جون 2025)بیادگار حضرت مولانا مفتی شکیل احمد قاسمی سیتاپوری رحمہ اللّٰہ،  مرتب مفتی محمد خبیر ندوی علیگ کُل صفحات  484  مع رنگین  ٹائٹل قیمت = /600  ملنے کا پتہ/ ناشر  ماہنامہ اسلامی نقوش، قصبہ تمبور ضلع سیتاپور یوپی، رابطہ 9936993169. Email nadwimohdkhabir50@gmail.com]

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے