محمد آصف ابوبکر اصلاحی
متعلم جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی
دنیا کے شور و غل میں کہیں ایک شہر خاموش ہو چکا ہے مگر اس کی خاموشی میں ایسی چیخیں گونجتی ہیں جو کائنات کے ہر ذرے کو ہلا کر رکھ دیتی ہیں مگر افسوس ہم نے اپنے دلوں پر ایسے پردے ڈال لیے ہیں کہ ہمیں کچھ سنائی نہیں دیتا۔
وہ شہر جس کی مائیں اپنے بچوں کو کفن کی طرح سفید چادر میں لپیٹ کر سینے سے لگاتی ہیں،
وہ شہر جہاں اذانوں کے ساتھ دھماکے ہوتے ہیں اور سجدے خون سے تر ہوتے ہیں
وہ شہر غزہ ہے
غزہ کو ہم بھول چکے ہیں
یہ سچ ہے یہ کڑوا سخت اور شرمناک سچ ہے
ہماری روزمرہ کی گفتگو ہمارے فیس بک اسٹیٹس انسٹاگرام کی تصویریں واٹس ایپ کی گفگفتی شاعری کے اشعار تحریروں کے عنوانات سب کچھ ہے مگر ان میں غزہ کا نام نہیں۔
ہماری آنکھیں ہر درد پر روتی ہیں ہر ذاتی صدمے پر نم ہو جاتی ہیں مگر غزہ کے بچوں کے جلے ہوئے چہرے خون میں لت پت بستے، ملبے تلے دبی لاشیں ان سب پر ہم ایسے خاموش ہو جاتے ہیں جیسے کوئی تعلق ہی نہ ہو،
ہاں، شاید واقعی اب کوئی تعلق باقی نہیں رہا
ہم وہ امت ہو چکے ہیں جو اپنے جسم کے کٹے ہوئے اعضا سے لاتعلق ہو گئی ہے غزہ اب ہمارا بازو نہیں کوئی الگ جزیرہ ہے جس کی چیخوں کا ہم سے کوئی واسطہ نہیں ہمیں غزہ کے آنسو نہیں دکھتے اس کے زخموں کی مہک نہیں آتی اس کی ٹوٹی ہوئی دعائیں ہمارے دروازے پر نہیں آتیں کیونکہ ہم نے سب دروازے بند کر رکھے ہیں اور اپنے ضمیر کو اندر قید کر دیا ہے
کبھی غزہ صرف ایک سرزمین تھی آج وہ عزیمت کی علامت ہے استقامت کا قافلہ ہے لہو سے لکھی ہوئی سرخی ہے ایمان کی آخری پکار ہے
وہاں ایک بچہ مسکراتا ہے حالانکہ اس کے دونوں ہاتھ نہیں رہے
وہاں ایک ماں سجدے میں گر کر شکر ادا کرتی ہے حالانکہ اس کی گود خالی ہے
وہاں ایک نوجوان سینے پر گولی کھا کر گرتا ہے مگر لبوں پر کلمہ ہوتا ہے
اور ہم
ہم ہر روز ایک نئی قسط میں ڈوبے ہوتے ہیں
ہم خوشی کی محفل میں تنقید کے تھریڈ میںخود ترسی کے اشعار میں، دنیا کے ہجوم میں غزہ کے قبرستانوں کی آہٹ بھی نہیں سنتے
ہم درد سے فرار چاہتے ہیں
ہمیں اب وہ تحریریں نہیں بھاتیں جن میں خون ہو، آنسو ہوں قربانی ہو اور ایمان کی مہک ہو
ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ہمیں نہ جھنجھوڑے نہ یاد دلائے کہ ہم کتنے بے حس ہو چکے ہیں
لیکن غزہ غزہ ہمیں بھلا نہیں پاتا
ہر رات جب کوئی بچہ چیخ کر جاگتا ہے جب کوئی مسجد شہید کی اذان کو ترستی ہےجب کسی ماں کی آہ عرش ہلا دیتی ہے وہ سب ہم سے سوال کرتے ہیں
کیا تم واقعی ہماری امت ہو
کیا تمھیں ہماری لاشوں سے بدبو نہیں آتی
کیا تمھارے دلوں میں جگہ ختم ہو گئی ہے ہمارے لیے
ہمیں جواب دینا ہوگا
ہمیں اپنے قلم کو گواہ بنانا ہوگا اپنے اشکوں کو گواہی دینا ہوگی اپنی خامشی کو توڑنا ہوگا
اب وقت ہے کہ ہم دوبارہ محسوس کریں دوبارہ لکھیں، دوبارہ رُک کر سنیں غزہ کی چیخ، جو سنائی نہیں دیتی مگر دل کو چیر دیتی ہے
ہمیں غزہ کے لیے جینا سیکھنا ہوگا
اس کے دکھ کو اپنے سینے سے لگانا ہوگا
اس کی امید بننا ہوگا اگر ہم اب بھی انسان کہلانے کے حقدار ہیں
یاد رکھو
اگر تم نے غزہ کو بھلا دیا،
تو ایک دن ایسا آئے گا کہ دنیا تمہیں بھلا دے گی
کیونکہ جو اپنے زخمیوں کو بھول جائے
وہ خود بھی زندہ نہیں رہتا ہم غم محسوس نہیں کرنا چاہتے ہم شاید امت کے کٹے ہوئے بازو بن چکے ہیں اسی لیے ہر لگنے والا زخم ہمیں چیخنے پر مجبور نہیں کرتا مجھے محمود درویش کی یہ نظم رلاتی ہے یہ مجھے صرف غـــــزہ کے حالات کی عکاسی کرتی نظر آتی ہے
تُنسى كأنَّكَ لم تَكُنْ
تُنْسَى كمصرع طائرٍ
ككنيسةٍ مهجورةٍ تُنْسَى
كحبّ عابرٍ
وكوردةٍ في الليل تُنْسَى
ترجمہ:
تم بھلائے گئے
یوں بھلائے گئے جیسے تھے ہی نہیں
تم بھلائے گئے
جیسے(کھنڈرات میں) پنچھیوں کی قضا
یا کنیسے کی خاموش گم سم فضا
راہ چلتی محبت (پراگندہ خواب)
رات کے (ہاتھ میں جیسے) کالے گلاب
تم بھلائے گئے
