سنت کبیر نگر (رفیع نعمانی): انجمن افکار ادب سمریاواں میں گورکھپور کے مشہور عالم دین مولانا حکیم جنید عالم ندوی صدر مدرس مدرسہ باب العلوم نوتن گورکھپور کی یاد میں ایک تعزیتی جلسہ مجیب بستوی کی صدارت میں ہوا۔ عبد اللہ مجیب نے بارگاہ رسالت نعت پاک کا نذرانہ پیش کیا مجیب بستوی نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ مولانا جنید عالم ندوی بڑے جید عالم اور سنجیدہ مزاج عالم باعمل تھے تعزیت کے چند اشعار بھی مجیب صاحب نے پیش کئے۔۔۔ اشعار پیش خدمت ہے ۔ تیرے اعجاز خطابت کی نہیں کوئی مثال چاہنے والے بھلا جائیں کہاں تیرے بغیر غم کی پنہانی میں ہے ڈوبا ہوا باب العلوم زندگی کا لمحہ لمحہ ہے گراں تیرے بغیر ہر روش سنسان ہر منظر الم انگیز ہے غم کدہ اب بن گیا ہے آسماں تیرے بغیر پر خلوص انداز تیرا پر کشش تیری ادا آج سب رخصت ہے میر کارواں تیرے بغیر اشک آلودہ ہیں آنکھیں زخم خوردہ ہیں قلوب ہو گیا ہے کتنا غم آگیں سماں تیرے بغیر سونا سونا ہوگیا ہے۔ مدرسہ باب العلوم چشم گریاں ہے ہر اک خرد و کلاں تیرے بغیر آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے۔                                                         کیا کرے آخر مجیب خستہ جاں تیرے بغیر

اس موقع پر مولانا عارف ندوی مہتمم مدرسہ دار السلام امرڈوبھا نے فرمایا کہ مرحوم سے ملنے پر بڑی اپنائیت ہوتی تھی ایک بہت بڑے عالم سے ہم محروم ہوگئے حافظ آصف مجیب نے جملہ شرکاء کی ضیافت فرمائی اور آخر میں مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے