اسلام کے گمنام داعی ماسٹرعقیل الدین ؒنجیب آبادی کے یوم وفات 22ستمبر پر خصوصی مضمون

ڈاکٹر سراج الدین ندوی
مدیر ماہنامہ اچھا ساتھی ،بجنور

ضلع بجنور اور اترپردیش مغرب میں جن شخصیات نے تحریک اسلامی کے فروغ میں نمایاں رول ادا کیا ہے اس میں ایک موقر و معتبر نام جناب عقیل الدین صاحب کا ہے ۔ موصوف 1924میں نجیب آباد میں پیدا ہوئے اور انھوں نے وہیں پر تعلیم حاصل کی ۔ جماعت اسلامی میں ایسے بہت کم افراد نظر آتے ہیں جنھوں نے اپنے اہل خانہ ،رشتہ داروں اور دوستوں کو جماعت میں شامل کیا ہو۔عقیل الدین ؒ صاحب کا نام اس ضمن میں سر فہرست ہے ۔انھوں نے اپنے بیٹوں ،اپنے بھائیوںاور اپنے شاگردوں کو تحریک کا تعارف کرایا ۔اپنے عمل اور اخلاق سے ان پر تحریک کے حق ہونے کی گواہی دی اور انھیں اپنے کارواں کا حصہ بنایا۔انھوں نے مردوں کے ساتھ خواتین کو بھی جماعت میں شامل کیا ۔ان کے چھوٹے بھائی جناب سہیل الدین صاحب نجیب آباد کے امیر مقامی رہے دہلی منتقلی کے بعد وہاں پر ایک علاقہ کے ذمہ دار بنائے گئے ۔ان کے بڑے بیٹے جناب خالد عقیل صاحب اس وقت ضلع بجنور کی تحریک اسلامی میں سرگرم فردہیں ۔وہ بھی امیر مقامی رہے ۔ان کے چھوٹے بیٹے ڈاکٹر شارق عقیل صاحب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ہیلتھ شعبہ میں CMOہیں اور تحریک کے فعال کارکن ہیں،وہ ایک اچھے شاعر اور ناظم مشاعرہ بھی ہیں۔
جناب عقیل الدین صاحب اسٹینڈرڈ ٹائپنگ اسکول چلاتے تھے ۔ان کے دور میں ٹائپنگ ایک کامیاب پروفیشن تسلیم کیا جاتا تھا ۔اپنے اسکول میں تعلیم کے ساتھ تحریک کا کام کرتے ،طلبہ میں پروگرام کرتے ،سرپرستوں سے روابط رکھتے ،آپ لوگوں سے تعلقات بنانے کے ماہر تھے ،اس طرح آپ نے کئی شاگردوں کو تحریک میں شامل کیا ۔آپ کی کوششوں سے نجیب آبادکے ہر گوشہ میں جماعت اسلامی کا تعارف ہوا ۔حالانکہ اس وقت جماعت کی مخالفت بھی بہت تھی اس کے باوجود یہاںتقریباً 15ارکان جماعت تھے ۔ آپ خود اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے اس لیے آپ کے ذریعہ جو لوگ تحریک میں آئے وہ بھی اعلیٰ ذہن کے مالک تھے ۔
عقیل الدین مرحوم (اللہ ان کی مغفرت کرے )تحریک اسلامی کے دیوانے تھے ۔یہ دیوانگی کچھ تو انھیں رکن جماعت سلطان احمد خاں ؒ کی تربیت سے ملی تھی لیکن اس دیوانگی میں جنون تحریک کے لٹریچر اور مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ کے قلم نے پیدا کیا تھا ۔اسی دیوانگی کا نتیجہ تھا کہ ان کا گھر جماعت اسلامی کا آفس ،ان کا اسکول جماعت اسلامی کی لائبریری نظر آتا تھا ۔انھیں بانی تحریک سے عشق تھا ۔وہ چونکہ پاسپورٹ سازی کا کام کرتے تھے اس لیے انھیں یہ معلوم ہوجاتا تھا کہ کون ان کے کوچہ محبوب جارہا ہے ،بس اس کے ہاتھ ایک خط اور سید مودودی ؒ کا پسندیدہ پان کازردہ تحفتاً بھیج دیتے ،وہاں سے آنے والے کے ذریعہ جوابی خط کووہ محبت سے پڑھتے اور دوسروں کو سنا کر بے پناہ مسرت حاصل کرتے ،ان کے اسی عشق کا نتیجہ تھا کہ مرحوم کی سید مودودی ؒ سے ملاقات ہوگئی ۔ہوا یوں کہ جس سال ماسٹر عقیل الدین صاحب نے فریضہ حج ادا کیا اسی سال مولانا مودودی ؒ بھی حج کی سعادت حاصل کررہے تھے ۔اسی پاک سرزمین پر طالب و مطلوب کی ملاقات ہوگئی ۔اپنی اس ملاقات پر ہمیشہ اللہ کا شکر ادا کرتے ،مولانا مودودی ؒ کے انتقال پر بہت روئے ،ہفتوں تک غم زدہ رہے ۔میں سوچتا ہوں کیا رشتہ تھا ۔نہ وطن ایک، نہ قبیلہ ایک ،لیکن سید مودودی ؒ نے مرحوم کا قبلہ درست کیا تھا انھیں وہ راستہ دکھایا تھا جس پر چلنے والوں پر اللہ کی نعمتیں برستی ہیں ،عقیل الدین صاحب ان کے مرید تھے اور مودودیؒ ماسٹرعقیل صاحب کی مراد تھے ،بیعت و ارادت کا یہی رشتہ ہے جسے قرآن ’’وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍ (توبہ 71)’’اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں‘‘ اورإِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَۃٌ (حجرات 10)’’اہل ایمان بھائی بھائی ہیں۔‘‘ سے تعبیر کرتا ہے ۔
عقیل الدین صاحب کے یہاں ضیافت و مہمان نوازی کی صفت بہت نمایاں تھی ۔ جماعت اسلامی کا کوئی بھی شخص نجیب آبادآتا تو آپ اسے اپنا مہمان بنالیتے اور اسی طرح خدمت کرتے جس طرح اپنے کسی قریب ترین عزیز کی کی جاتی ہے ۔یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ ذمہ دار جماعت تحریکی دورے پر ہوتبھی ایسا ہو ،بلکہ وہ اگر ذاتی کام سے بھی آتا تو اسے وہی عزت و احترام ملتا ۔مہمان نوازی کی یہ روایت آج بھی آپ کے اہل خانہ میں موجود ہے ۔جماعت اسلامی کے علاوہ دیگر مہمانوں کی ضیافت میں بھی کوئی کسر نہ اٹھا رکھتے۔
وہ گھر اور باہر یکساں تھے ورنہ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگ باہر کی دنیا میں نیکی و تقویٰ کے جس معیار کا مظاہرہ کرتے ہیں ،اپنی خانگی زندگی میں اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہوتے ،باہر بڑے نرم دل واقع ہوتے ہیں ، لیکن گھر میں قدم رکھتے ہی اہل خانہ سہم جاتے ہیں ۔اس رویہ کو دوغلہ پن کہا جاسکتا ہے جسے اسلام میں ناپسند کیا گیا ہے ۔یہاں اس شخص کو ’’بہترین انسان ‘‘ کہا گیا ہے جو اپنے اہل خانہ کے نزدیک بہتر ہو۔ خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِأَہْلِہِ وَأَنَا خَیْرُکُمْ لِأَہْلِی ’’رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا:’ تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے گھروالوں کے لیے سب سے بہتر ہوں‘‘(ترمذی)جب ہم اس پہلو سے ماسٹر عقیل الدین صاحب کی زندگی پر نظر ڈالتے ہیں توایک فرماں بردار بیٹے ،محبوب بھائی ،مخلص وباوفا شوہر ،مشفق اور مہربان باپ نظر آتے ہیں ۔
ان کی ایک خوبی یہ تھی کہ وہ معاملات کے بہت صاف انسان تھے ۔وہ اس بات کی کوشش کرتے کہ کسی کی ایک پائی ان کی طرف نہ رہے،بھلے ہی اپنی چونی چلی جائے ۔بچوں کو تاکید کرتے کہ مقروض ہوکر مت سویا کرو ،کیا خبر قرض ادا کرنے کی مہلت ملے نہ ملے۔ کرانے کی دوکان ،دھوبی ،نائی ،غرض جس سے بھی لین دین کرتے نقد کرتے ،اتنا ہی لیتے جتنے جیب میں پیسے ہوتے ،اگر بوقت ضرورت بچے دن میں کوئی سامان ادھار لے آتے ،یا دوکاندار کے پاس کھلے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے وہ کہہ دیتا کہ’ ’ بعد میں دے جانا ‘‘تو گھر آکر سب سے پہلا کام یہی کرتے کہ پیسے بھجوادیتے ،اپنے بچوں کو تاکید کرتے کہ کھلے پیسے نہ ہونے کی صورت میں اپنا نوٹ دوکاندار کے پاس چھوڑ آیا کرو۔ان کے والد کی کپڑے کی بڑی دوکان تھی ،تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد والد صاحب کی خواہش پر دوکان سنبھال لی ، لیکن جلد ہی اندازہ ہوگیا کہ یہاں امانت و دیانت سے کام لینا بہت مشکل ہے ۔اس لیے رفتہ رفتہ اس کام کو سمیٹ دیا اور ٹائپنگ اسکول قائم کرلیا تاکہ مشتبہ لقمہ سے پرہیز کیا جاسکے اس درجہ احتیاط کرنے والا انسان کسی کا حق کیسے مارسکتا ہے ۔چنانچہ انھوں نے وراثت بھی اسلامی قانون کے مطابق تقسیم کرنے کی وصیت کی بلکہ زیادہ تر املاک اپنی زندگی میں ہی شریعت کے مطابق تقسیم کردیں ۔
صبر و شکر مومن کے دو ہتھیار ہیں ،جن سے وہ دشمن اور شیطان پر قابو پاتا ہے ۔ایک بندہ خدا جب یہ یقین رکھتا ہے کہ نعمتوں کا ملنا اور ان کا چھن جانا ،مصیبتوں کا آنا اور ان کا دور ہوجانا سب کچھ اللہ کی جانب سے ہے جس پر وہ ایمان لایا ہے اور جس کی محبت میں وہ سارے امور انجام دیتا ہے تو پھر اس کی زندگی شکوہ اور گلے سے پاک ہوتی ہے ۔عقیل الدین مرحوم میں یہ دونوں صفت بدرجہ اتم موجود تھیں ۔ ان کی ایک بیٹی پیدائش سے ہی معذور تھی ،سارا جسم مفلوج تھا ،مستقل 28سال بستر پر رہی ،لیکن ماسٹر عقیل الدین صاحب اور ان کی اہلیہ کے ماتھے پر شکن تک نہ آئی ۔اس کی جدائی بھی ان پر شاق گذری ،19ماہ جیل میں گزارے اور 19سال بیمار رہے ،لیکن کبھی حرف شکایت زبان پر نہ آیا ۔صرف خد ا کی ہی نہیں ،بلکہ کبھی اپنے اعزہ و احباب کی شکایت بھی نہیں کی ۔
آپ نظم و ضبط کے پابند تھے ،ہر کام وقت پر کرتے ،بدنظمی کو انتہائی ناپسند کرتے تھے یہ ڈسپلن آپ کے ٹائپنگ انسٹیوٹ سے لے کر تحریکی و گھریلو زندگی میں بدرجہ اتم موجود تھا ۔آپ اپنی تقریر وقت پر شروع کرتے اور وقت پر ختم کردیتے تھے ۔آپ کے دور امارت و نظامت میں ہونے والے سارے پروگرام بالکل وقت پر شروع ہوجاتے ،آپ کسی کے انتظار کے قائل نہ تھے ۔اگر کوئی پروگرام لیٹ ہوتا تو آپ کے چہرے پر کڑھن کے آثار نمایاں ہوجاتے تھے ۔وقت کے معاملہ میں ملت بہت غیر سنجیدہ رہی ہے ۔گھنٹوں تاخیر سے پروگرام شروع ہوتے ہیں ، اکابرین ملت سامعین کوگھنٹوں انتظار کراتے ہیں ۔پابندی ٔوقت کی خلاف ورزی کرنے کا عام معمول ہوگیا ہے۔
آپ کی شخصیت بہت دل آویز اور پر کشش تھی ،چونکہ آپ جیل میں مولانا صدالدرین اصلاحی صاحبؒ ،مولانا ابواللیث صاحب اصلاحی ؒکے ساتھ رہے تھے ،آپ نے ان سے براہ راست اکتساب فیض کیا تھا ،اس لیے آپ کے اندر تحریکی شعور،تحریکی فکر اور تحریکی ڈسپلن کوٹ کوٹ کر بھرا تھا۔آپ نے اپنے اس تحریکی و تنظیمی شعور سے اپنے ضلع اور قرب و جوار میں تحریک اسلامی کو بہت فائدہ پہنچایا۔جو آدمی آپ سے ملاقات کر لیتا وہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔آپ سے جو ایک بار ملتااس کا بار بار ملنے کو دل چاہتا ۔آپ کا استقبال کرنے کا انداز،گفتگو کاا سلوب ،آپ کی مسکراہٹ ،شگفتہ بیانی و بذلہ سنجی ،مہمان نوازی وغیرہ وہ خصوصیات تھیں جن کی وجہ سے لوگ آپ سے متاثر ہوتے۔
انسٹی ٹیوٹ اور کالج تو بہت لوگ چلاتے ہیں ،لیکن آپ کا امتیاز یہ تھا کہ آپ اپنے شاگردوں سے بے انتہا محبت کرتے تھے ،آپ کی یہ کوشش ہوتی تھی کہ جو کچھ جانتے ہیں ان کو سکھا دیں ۔آپ یہ چاہتے تھے کہ آپ کے طلبہ اپنے فن میں کامل دسترس حاصل کرلیں اور جہاں بھی جائیں کامیابی ان کے قدم چومے ۔آپ ایک ماہر تعلیم تھے ،پڑھاتے وقت طلبہ کی ذہنی استعداد ،ان کی نفسیات اور ان کی قوت اخذ کا خیال رکھتے تھے ۔آپ محض ایک استاذ اور ڈائریکٹر ہی نہیں تھے بلکہ مربی بھی تھے ،ان کی اخلاقی تربیت پر بھی نگاہ رکھتے تھے ۔ انھیں کامیاب زندگی گزارنے کے اصول بھی بتاتے تھے ۔
آپ بہت زندہ دل انسان تھے ،ایسے لوگ ہم نے بہت کم دیکھے ہیں ۔آپ اپنی گفتگو میں ،اپنی تقریر میں ،تبادلہ خیال میں تاریخی واقعات سناتے ،جنھیں سن کر حاضرین بہت متاثر ہوتے ،اسی طرح آپ اشعار کا بر محل استعمال کرتے ،جس سے سامعین بہت محظوظ ہوتے اور آپ کی گفتگو میں تاثیر اور زور پیدا ہوجاتا ۔اسی کے ساتھ دوران خطابت آپ باڈی لینگویج کا بھی استعمال کرتے تھے ۔آپ جو کچھ کہتے اس کو اپنے ہاتھ اور چہرے کے اشاروں سے بھی ظاہر کرتے ،آپ کا پورا جسم آپ کی زبان کا گواہ ہوتا جس سے سامعین آپ کی تقریر کو انہماک سے سنتے اور دیکھتے ،کسی کو بوریت نہیں ہوتی ،بعض مقررین کے طرز خطابت کے باعث سامعین خراٹے لینے لگتے ہیں ،لیکن آپ کی تقریر شروع ہوتے ہی سونے والے بھی جاگ جاتے ۔
آ پ کو مطالعہ اور حصول علم کا بہت شوق تھا ۔مرکزی مکتبہ اسلامی سے جو بھی نئی کتاب شائع ہوتی آپ اسے خرید کر منگاتے ،اسی طرح آپ کو مطالعہ کرانے کا بھی بہت شوق تھا ، اپنے دوستوں ،اپنے رفقاء اور اپنے عزیزوں کو کتابیں خرید کر دیتے ،ان کو متوجہ کرتے اور پھر ان سے معلوم بھی کرتے کہ انھوں نے اس کتاب سے کیا سمجھا ہے ۔خود مطالعہ کرنا اگرچہ آسان ہے لیکن دوسروں کو مطالعہ کرانا انتہائی مشکل ہے ،آپ عملی دنیا کے ساتھ ساتھ علمی دنیا کے بھی شہسوار تھے ،آپ کا حصول علم کا یہ سفر تادم مرگ جاری رہا ۔
آپ نے زندگی کے بہت سے نشیب و فراز دیکھے ،آپ کو بہت سے تلخ و شیریں تجربات ہوئے ۔لیکن آپ نے ہر طرح کے حالات میں دعوت کے کام کو جاری رکھا ۔مخالفتیں بھی برداشت کیں ،اپنے احباب کے طنز بھی سنے ،حکومت کے مظالم بھی سہے لیکن آپ کے پائے ثبات میں لغزش نہ آئی ۔آپ کو ایمر جنسی کے دوران 4جولائی 1975کو نجیب آباد سے ڈی آئی آر اور میسا کے تحت گرفتار کیا گیا ،پہلے بجنور جیل میں رہے پھر بریلی منتقل کردیا گیا ،بریلی جیل کی جس بیرک میں آپ رہے اسی میں مولانا صدالدین اصلاحیؒ اور مولانا ابو اللیث اصلاحیؒ بھی تھے ۔آپ 19ماہ جیل میں رہے ۔اس طرح جیل میں آپ کو ان ذمہ داران جماعت سے بھر پور استفادہ و علمی اکتساب کا موقع ملا۔
آپ سے میری سب سے پہلی ملاقات نجیب آباد میں ضلعی اجتماع میں ہوئی ۔میں ندوہ سے فارغ ہوکر نیا نیاآیا تھا ۔اس پروگرام میں مولانا محمدشفیع مونس صاحبؒ اور،مولانا عطاء الرحمان وجدی صاحب بھی شریک تھے ،میں نے درس قرآن پیش کیا ۔اس ضمن میں مجھے جن بزرگوں نے مشوروں سے نوازا ان میں جناب ماسٹر عقیل الدین صاحب ؒ بھی شامل تھے ۔مجھے ہدایت دی گئی کہ میں نوجوانوں اور طلبہ میں کام کروں ،چنانچہ جب میں طلبہ تنظیم کا سب زونل صدر بنا تو نجیب آباد اکثر جانا ہوتا ،وہاں میں آپ کے اسکول پر پہنچتا ،آپ کے یہاں قیام کرتا ،آپ مجھے دعوت کی باریکیاں ،طلبہ اور نوجوانوں کی نفسیات سمجھاتے ،کام کرنے کے گر سکھاتے۔اس دور میں طلبہ تنظیم ہمارے ضلع میں نجیب آباد اور نگینہ میں بہت مستحکم اور مضبوط تھی ۔بلا مبالغہ یہاں پر تیس چالیس نوجوان طلبہ تنظیم سے وابستہ رہے ۔ایک بار شیر کوٹ میں طلبہ تنظیم کا بڑا پروگرام تھا ،مجھے بھی دوستوں نے ایک مقرر کی حیثیت سے بلایا ،اس میں عقیل الدین صاحب بھی بحیثیت مقرر شریک تھے ۔انھوں نے جب مجھے دیکھا تو فرمایا :’’اگر مجھے معلوم ہوتا کہ آپ تشریف لارہے ہیں تو میں نہ آتا ‘‘ یہ میرے تئیں آپ کا حسن ظن تھا ،یہ آپ کی مجھ سے محبت تھی ،ہم نے ان سے بہت کچھ سیکھا وہ ہمارے مربی اور قافلہ سالار تھے ،ان کے بچوں سے آج بھی میرے خوش گوار روابط ہیں ۔
ماسٹر عقیل الدین صاحب ایک اچھے مقرر تھے ،ٹیبل ٹاک بھی اچھی کرتے تھے ،افہام و تفہیم کا بھی بہت اچھا اسلوب رکھتے تھے ،اس کے ساتھ ساتھ وہ ادبی ذوق بھی رکھتے تھے اور ایک اچھے شاعر تھے ۔عاقل تخلص کرتے تھے ۔ان کی نظمیں تاریخی اور اصلاحی ہیں ۔ان کی نظمون کے عنوانات سے آپ کو اس کا اندازہ ہوجائے گا ۔راہ حق کا مسافر،جرم حق گوئی کے زنداں،خوف آخرت ،عظیم قربانی،دو کردار،حق گوئی و بیباکی ان کی مشہور نظمیں ہیں۔چند اشعار بطور نمونہ ملاحظہ کیجیے۔:

رنج و راحت لازمی ہیں زندگی کے واسطے
وہ خوشی بے لطف ہے جو آشنائے غم نہ ہو

خود اپنی موت سے مرنا تو کوئی بات نہیں
مزا تو جب ہے کہ کوئی مرے کسی کے لیے

سنا کر حال دل ان کو بہت تسکین ہوتی ہے
مگر اس میں بھی اپنے ضبط کی توہین ہوتی ہے

بے خدا تہذیب کا جب سے ہوا ہے ارتقاء
زندگی خود بن گئی انسانیت پر ہی وبال

دیکھ کر حسن ازل کی ہر طرف رعنائیاں
سرجھکانے کے لیے مجبور ہوجاتا ہوں میں

آپ تحریک اسلامی کے فروغ کے لیے کوششیں کرتے ہوئے ،طویل علالت کے بعد22ستمبر1981کو اپنے رب حقیقی سے جاملے ۔ اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے۔ آپ کی وفات نہ صرف شہر نجیب آباد کے لیے بلکہ ہمارے پورے ضلع اور تحریک اسلامی کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے لیکن ان کے نقوش قدم زندہ ہیں ،ان کی یادیں تازہ ہیں ،جو ہمیں منزل کی جانب گامزن رکھنے میں معاون ہوں گی ۔راہ حق کا کوئی مسافر جب نجیب آباد سے گزرتا ہے تو ماسٹر عقیل الدین مرحوم کی یاد آنکھوں کو نم ضرور کردیتی ہے ۔

یاد عاقل آئے گا روئیں گے تب اہل چمن
ہائے اب وہ عندلیب نغمہ خواں جاتا رہا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے