دنیا کا بد ترین ملک اسرائیل ہی سب سے بڑا دہشت گرد! محمد علی
سہارنپور (احمد رضا): کچھ حکومتیں اور صاحب اقتدار لوگ مظلوم اور تنگ حال افراد کو اپنے ظلم اور ستم کا نشانہ بنا کر انکے گھروں اور دکانات کو بلڈوزر چلا کر نیست و نابود کر دیتے ہیں انکا قتل عام کرا دیتے ہیں اور مدّ مقابل کوئی نہ پاکر خوش فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ آج ہم نے مسلم طبقہ کو خوب جانی اور مالی نقصان پہنچا یا ہے مگر یاد رکھیں کہ یہ خوشی مستقل نہی ہوا کرتی ” دنیا کا اقتدار اور طاقت پل بھر کا تماشہ ہے قدرت کا مزاج ہی تبدیلی ہے آج مسلم آبادی قتل گاہ میں ہے کل کوئی دوسری قوم بھی ہو سکتی ہے مظلومین کو نقصان پہنچا کر ظالم اور جابر قوم کبھی راحت و فتح کا سکون حاصل نہی کر سکتی ہے سہی معنوں میں یہی حکم رب العالمین ہے ” ! سینئر ایڈوکیٹ محمد علی نے اسرائیل اور دیگر شہر وں میں مسلم آبادی پر ٹوٹ رہے ظلم اور ستم پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج اہل ایمان پوری دنیا میں خد کو پست اور لاچار محسوس کر رہے ہیں دنیا بھر میں ہماری ذات برادری اور مسلکی منافرت کے سبب ہم ڈھائی ارب سے زائد مسلم آبادی کا تماشا بنا ہوا ہے حماس تن تنہا ظالم جابر اسرائیل کا مقابلہ کرتا آرہا ہے انگریز حکومتیں غازہ کے اجتماعی قتل عام پر سخت ناراض ہیں درجنوں انگریزی ممالک نی اسرائیلی وحشت کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کر تے ہوئے اسرائیل کو جرم عظیم کا مجرم قرار دے دیا ہے مگر لعنت ہے کہ چار درجن سے زائد مسلم حکومتیں اسرائیلی دہشت گرد ی اور اسرائیلی قتل عام کے خلاف اپنے بھائیوں کی مدد کے لئے اور ظالموں کی مزمت کے لئے آگے آنے سے بھی گھبرا رہی ہیں لعنت ایسا مسلمان کھلانے پر کہ "جو ظالم کو ظالم اور قاتل کو قاتل کہنے کی ہمت بھی نہ کر سکے” ! حکم رب العالمین ہے کہ” ظالم کو ظالم کہنا بھی حق بیانی ہے ظلم پر خاموشی خد ظالم کے ساتھ کھڑا رہنے کے برابر ہے اسلئے ظالموں کے خلاف آواز اٹھا نی بھی ایمان کی نشانی” ہے! سینئر ایڈوکیٹ محمد علی نے غازہ اور اس کے آس پاس جس طرح سے مسلم طبقہ کا اجتماعی قتل عام انجام دیا ہے یہ دردناک اور شرمناک واقعہ دنیا کا سب سے بد ترین واقعہ رقم کیا گیا ہے سہی معنوں میں آج اسرائیل دنیا کا بد سے بد ترین دہشت گرد ملک تسلیم کیا جا چکا ہے! سینئر ایڈوکیٹ محمد علی نے کہا کہ پوری دنیا آج مسلم آبادی کے اجتماعی قتل عام کے مجرم اس ناپاک اور درندہ صفت ملک اسرائیل پر تھوک رہی ہے جگہ جگہ ظالموں کے خلاف مظاہرے جاری ہیں بس اللہ تعالیٰ کا فیصلہ آنا باقی ہے واضع رہے کہ 7 ، اکتوبر 2023 سے آج تک اسرائیلی فوج نے غازہ اور آس پاس کے علاقوں میں اجتماعی قتل عام کو انجام دیتے ہوئے ایک لاکھ سے زائد مسلم بچّوں خواتین اور مردوں کو شہید کر دیا ہے بیس ہزار سے زائد مجروح ہونے کی صورت میں بہتر علاج نہیں میسّر ہونے کی صورت میں مرنے کو مجبور ہیں مگر لعنت ہو کہ چار مسلم ممالک کے علاوہ کوئی بھی مسلم ملک اسرائیل کے خلاف زبان کھولنے سے قاصر ہے وجہ یہ ہے کہ یہ مسلم ممالک صرف دکھاو ے کے مسلمان ہیں قرآن کی تعلیم انکو متاثر نہی کر پائی یہ سبھی امریکہ اسرائیل کے غلام بنے ہوئے ہیں غازہ کو نیست و نابود کر دیا گیا ہے اب غازہ کے ساتھ ساتھ آس پاس کے علاقوں میں اپنا تسلط قائم کر نے کے لئے اسرائیل بڑے پیمانے پر خون بہا رہا ہے اسرائیل بھاری بمباری کرکے مسلم آبادی کو شہید کرنے کو بیتاب ہے * اسرائیلی سرکار اور فوج کے اس اجتماعی قتل عام نے ہٹلر کے ظلم کو بھی شرمندہ کر دیا ہے* سب لوگ ہٹلر کو برا کہتے ہیں مگر سہی معنوں میں آج اسرائیل دنیا کا نمبر ایک دہشت گرد ملک ہے جس نے ایک لاکھ کے قریب مسلم آبادی کو شہید کردیا ہے اور بیس لاکھ سے زائد مسلمان بیگھر ہونے کو مجبور ہو گئے ہیں غازہ میں دنیا کی سب سے بڑی بھوک مری دیکھنے کو مل رہی ہے ظالم اور قاتل اسرائیل کے خلاف کوئی بھی ملک زبان کھولنے کے لئے ہمت نہیں دکھا پا رہا ہے اس فرعونیت کے خلاف کچھ مغربی اور مسلم ممالک نے سونیا گاندھی ، پرینکا گاندھی اور راہل گاندھی کے علاوہ سیکڑوں علماء کرام نے اسرائیلی دہشت گرد ی کے کھل کر مذمت کی ہے ملک کے مسلم علماء کرام نے بھی لگاتار اپنی اپنی تنظیم کی جانب سے فلسطینی ریاست کے لئے کھانے ،کپڑے اور دوائیوں کا بندوبست کیا جسمیں اہل سنت ، اہل تشیع اور بریلوی مسلک کے پیروکار سب سے زیادہ ہمت دکھا رہے تھے آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے کوئی مسلک يا ذات برادری سامنے نہی آئی اسرائیل کی فرعونیت کو للکارنے کی کسی مسلم ملک نے ہمت نہیں دکھائی جن افراد نے ملت اسلامیہ کے اتحاد اور سدھار کے لئے کچھ بھی تعاون کیا ہے وہ سبھی اہل ایمان کی لائق تحسین کارکردگی ہے بہادر ملک ایران نے 1600 كلو میٹر کا سخت ترین سفر طے کرتے ہوئے اسرائیل کے سینہ پر کراری ضرب لگا دی ہے امریکہ اسرائیل پرست کچھ مسلم اس بات کو شیعہ اور سنی کے نظریہ سے پیشِ کر کے ملت اسلامیہ میں موجود آپسی خلوص اور بھائی چارے کو ضرب لگانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں جب کہ سچّائی یہ ہے کہ شیعہ سنی سبھی کلمہ طیبہ کے شریک ہیں سبھی اہل ایمان ہیں اب وقت آگیا ہے مسلم اقوام مسلکی منافرت اور پستی سے باہر نکل کر ظالموں کو سبق سکھانے کیلئے آگے آئیں موت تو آئے گی مگر حق پر قائم رہتے ہوئے موت آئے تو اللہ راضی ہو تا ہے! حالات حاضرہ کو دیکھتے ہوئے اب * لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ* پر ایمان رکھنے والوں کو متحد ہو نا ہی پڑیگا مسلکی منافرت پھیلانے والے بیان اور تحریریں ملت اسلامیہ کو خسارہ پہنچانے کے سوائے کچھ بھی نہیں دے سکتی ہیں خدارا صرف صرفِ اہل ایمان کی حیثیت سے زبان کا استعمال کریں یہی بہتر ہوگا یہ موقع ایک دوسرے کی تنقید یا مخالفت کا نہی خدارا اپنا وزن اور اپنی حیثیت پرکھو متحد ہو جاؤ ! اہل ایمان پوری دنیا میں خد کو پست اور لاچار محسوس کر رہے ہیں دنیا بھر میں ہماری ذات برادری اور مسلکی منافرت کے سبب تماشا بنا ہوا ہے جبکہ حماس تن تنہا ظالم جابر اسرائیل کا مقابلہ کرتا آرہا ہے !
