میرؔبیدری۔ بیدر۔ کرناٹک
جیسا چاہتے ہیں ہم ویسا ہوتاہے
دل پہ ہمارے رب کا قبضہ ہوتاہے
اسکو پتہ ہوتاہے رب کی خوبی کا
اچھا بندہ رب کے جیسا ہوتاہے
وقت ستم ڈھاتا چلاجاتاہے ہم پر
پھول کلی کااک یہی شکوہ ہوتاہے
کل تو اندھیراقائم تھا چاروں جانب
آج اُجالے میں بھی سجدہ ہوتاہے
سوچیں اپنی ہوتی چیونٹی جیسی ہیں
ہائے رَبّا جانے کیاکیاہوتاہے
رب تو گمان سے رکھنے والا ہے قربت
سوچ رہے ہواچھا ، اچھا ہوتاہے
راہیں آساں ہوتی نہیں لیکن لوگو
تم جس جس کو چاہو اپنا ہوتاہے
سورج نکلے صبح کو،پھر چھپ ہی جائے
بچھڑ اکوئی ہم سے ایسا ہوتاہے
میرؔعبادت سچی کرنا چاہو تو
رات کا منظر دیکھو ٹہرا ہوتاہے
