پیشکش: محمدیوسف رحیم بیدری
۱۔ سپاری:۔ ادارۂ ادبِ اسلامی ہند کرناٹک کے وِت منتری یعنی خازن اور مصنف جناب عبدالکریم بڑگن سے بات چیت کرتے ہوئے محمدیوسف رحیم بیدری نے کہا’’فلاں مقام کے لوگ سپاری دیتے ہیں جن میں مسلمان بھی شامل ہیں،الحمد للہ بیدر میں سپاری دینے کاچلن نہیں ہے ‘‘کئی سال سے بیدر آنے جانے والے عبدالکریم بڑگن نے فوراًکہا’’بیدر میں سونف دیتے ہیں ‘‘ان ہی کے تیزرفتار انداز میں یوسف رحیم بیدر ی نے کہا’’آپ کی اس بات پر الائچی بھیجی جارہی ہے ، گلابی کاغذمیں لپیٹ کے ‘‘
۲۔ میٹریکیولیشن:۔ اُردو مصنف جناب عبدالکریم بڑگن نے جماعت اسلامی ہند کے سابق امیر جماعت مرحوم مولانا محمد سراج الحسن کویادکرتے ہوئے کہا’’ایک دن میں نے مولانا کے پاؤں دابتے ہوئے پوچھا’’مولانا آپ کہاں تک پڑھے ہیں ؟‘‘مرحوم مولانا محمد سراج الحسن صاحب نے متانت سے کہا’’نان میٹرک ہوں ، کیافرماتے ہیں آپ بڑگن صاحب ، میٹریکیولیشن کیلئے امتحان میں بیٹھ جاؤں ؟‘‘مولانا کی اس بات پر بڑگن صاحب نے ہڑبڑاتے ہوئے کہا’’مولانا آپ یہ کیافرما رہے ہیں؟ آپ خود کئی افراد کو سر ٹیفکیٹ دیتے ہیں، ایسا نہ کریں‘‘
۳۔ گھرتنگ ہے:۔ ایک شب عبدالکریم بڑگن نے شاعروادیب محمدیوسف رحیم بیدر ی کو کافی تاخیر سے فون کیا۔اور بتایاکہ میں ممبئی میں ہوں اور یہاں کلینک میں سورہاہوں ۔ کافی بڑا کلینک ہے ۔کلینک میں اسلئے بھی سونے آیاہوں کہ گھر ذراتنگ ہے ‘‘محمدیوسف رحیم بیدری نے پوچھا’’گھرسے آپ تنگ نہیں ہیں نا؟‘‘ عبدالکریم بڑگن ہنسنے لگے۔
۴۔ آناًفاناً:۔ سماجی جہدکار اور محب ِ اردو جناب خواجہ فریدالدین انعامداربتارہے تھے کہ فلاں ابن فلاں کا10؍بجے اچانک انتقال ہوگیا۔ محمدیوسف رحیم بیدری نے کہا’’یعنی گاڑی تیزرفتاری سے آناً فاناً چلی گئی‘‘بیچارے خواجہ فریدالدین مسکرائے بغیر نہیں رہ سکے۔
۵۔ عورتیں ہی عورتیں:۔ میرؔبیدری کی ایک غزل جس کی ردیف عورتیں ہی عورتیں تھی، منظر عام پر آئی تھی۔ رات کے ساڑھے بارہ بجے میرؔبیدری نے ڈاکٹر غضنفر اقبال کواپنی وہ تخلیق واٹس ایپ کی۔ 10اشعار کی اس غزل کا ایک شعر یہ بھی تھا ؎
دعوتِ دیں کے لئے نکلاہوں میں
مل رہی ہیں عورتیں ہی عورتیں
اس وقت ڈاکٹر غضنفر اقبال آن لائن تھے۔ انھوں نے غزل دیکھتے ہی لکھا’’ماشاء اللہ ، سونے سے قبل عورتیں ہی عورتیں ‘‘

